Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
کموڈٹیز

امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے سے Gold Price میں کمی، قیمت 4,150 ڈالر سے نیچے آ گئی

★اہم نکات

  • •Gold Price: سونے کی قیمت 4,150 ڈالر سے نیچے آ کر تقریباً 4,135 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
  • •US Treasury Yields: دو سالہ امریکی Treasury Note کا منافع 4.778 فیصد، دس سالہ بانڈ کا 5.144 فیصد اور 30 سالہ بانڈ کا 5.476 فیصد ہو گیا۔
  • •Fed Rate Decision: CME FedWatch کے مطابق اگلے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا امکان 82.8 فیصد تھا۔
  • •افراط زر کی توقعات: امریکہ اور یورپ میں افراط زر کی توقعات میں اضافے نے مالیاتی پالیسی کے حوالے سے محتاط رویے کو تقویت دی۔
  • •تیکنیکی جائزہ : سونا 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج اور Bollinger Bands کی درمیانی حد سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ 4,050 ڈالر اگلی اہم سپورٹ ہے۔
  • •اہم مزاحمت: قیمت کی بحالی کے لیے پہلے 4,180 ڈالر اور اس کے بعد 4,240 ڈالر کی سطح عبور کرنا اہم ہوگا۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے اور سونے کی گرتی قیمت کی عکاسی کرتی تصویر
امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے کے باعث سونے کی قیمت 4,150 ڈالر سے نیچے آگئی۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت (Gold Price) منگل کی ابتدائی یورپی ٹریڈنگ سیشنز کے دوران مزید دباؤ کا شکار ہو کر 4,135 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئی، جبکہ قیمت 4,150 ڈالر کی اہم نفسیاتی سطح سے بھی نیچے آ گئی۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور Federal Reserve کی آئندہ شرح سود پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال ہے۔

چونکہ سونا سرمایہ کاروں کو سود کی صورت میں آمدنی فراہم نہیں کرتا، اس لیے جب امریکی بانڈز پر منافع بڑھتا ہے تو سونے کو رکھنے کی موقع لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے قیمتی دھات کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، گزشتہ ہفتے امریکہ میں توقعات سے زیادہ مضبوط افراط زر کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کار آئندہ مانیٹری پالیسی کے امکانات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ توانائی کی قیمتوں میں کمی نے افراط زر کے دباؤ میں ممکنہ نرمی کی امید پیدا کی ہے، تاہم بلند US Treasury Yields سونے کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سرمایہ کاروں کی توجہ اب 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے Federal Reserve کے دو روزہ اجلاس اور Gold Price کی اہم تکنیکی سطحوں پر مرکوز ہے۔

امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ، Gold Price پر دباؤ برقرار

امریکی بانڈز کے منافع میں اضافے نے Gold Price کو نیچے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دو سالہ Treasury Note کا منافع تین بنیادی پوائنٹس سے زیادہ بڑھ کر 4.778 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ دس سالہ امریکی ٹریژری ییلڈز چار بنیادی پوائنٹس سے زیادہ اضافے کے بعد 5.144 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کا منافع بھی چار بنیادی پوائنٹس سے زیادہ بڑھ کر 5.476 فیصد ہو گیا۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کار عالمی بانڈ مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور افراط زر کے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فرانس میں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد فرانسیسی بانڈز کی فروخت نے بھی یورپی بانڈ مارکیٹ میں منافع بڑھنے کے رجحان کو تقویت دی، جس کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچے۔

سونے کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ بانڈز پر زیادہ منافع سرمایہ کاروں کو ایسے اثاثوں کی طرف متوجہ کر سکتا ہے جو باقاعدہ آمدنی فراہم کرتے ہیں۔

اس کے برعکس سونے سے کوئی سود حاصل نہیں ہوتا، اس لیے بلند Bond Yields کے ماحول میں اس کی کشش کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر معاشی غیر یقینی صورت حال یا جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھتے ہیں تو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب دوبارہ مضبوط ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔

Federal Reserve کی پالیسی، شرح سود برقرار رہنے کے امکانات

سرمایہ کاروں کی توجہ اب Federal Reserve کے 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہے۔ فراہم کردہ CME FedWatch اعداد و شمار کے مطابق، مارکیٹ میں تقریباً 82.8 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امریکی مرکزی بینک آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھے گا۔

ستمبر میں فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا تھا، جو 2023 کے بعد پہلی شرح سود میں تبدیلی تھی۔ اس پس منظر میں سرمایہ کار اب یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مضبوط افراط زر اور بدلتے معاشی حالات کے باوجود مرکزی بینک مزید سخت پالیسی اپنائے گا یا موجودہ شرح سود پر انتظار کرے گا۔

فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے بیانات کو بھی مارکیٹ نے شرح سود برقرار رکھنے کے امکان کے حق میں لیا ہے، تاہم پالیسی کے حتمی فیصلے سے پہلے معاشی اعداد و شمار اور افراط زر کے رجحانات اہم رہیں گے۔ اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند رہتی ہے تو سونے پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں شرح سود میں کمی کے امکانات بڑھنے سے Gold Price کو سہارا مل سکتا ہے۔

امریکی افراط زر اور Inflation Swaps کے خدشات

گزشتہ ہفتے امریکہ میں توقعات سے زیادہ مضبوط افراط زر کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد مارکیٹ کی توجہ قیمتوں کے دباؤ اور مستقبل کی شرح سود پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس ہفتے امریکی معاشی ڈیٹا کیلنڈر نسبتاً ہلکا ہونے کے باعث سرمایہ کار گزشتہ ہفتے کے اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیتے رہ سکتے ہیں۔

Deutsche Bank کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے متعلق معاشی ترقی کے خدشات نے گزشتہ ہفتے حکومتی بانڈز میں خریداری کو تقویت دی تھی۔ اس دوران امریکی دس سالہ ٹریژری ییلڈز ہفتہ وار بنیاد پر 16.5 بنیادی پوائنٹس کم ہو کر 5.07 فیصد پر آ گیا تھا، اگرچہ جمعے کو اس میں 1.5 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

اس کے باوجود افراط زر کی توقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ میں ایک سالہ Inflation Swap گزشتہ ہفتے 21 بنیادی پوائنٹس بڑھ کر 3.69 فیصد ہو گیا، جبکہ امریکہ میں اسی نوعیت کا ایک سالہ انفلیشن سویپ 17 بنیادی پوائنٹس اضافے کے بعد 2.74 فیصد تک پہنچ گیا۔

یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ بانڈز میں سرمایہ کاری کے رجحانات اور افراط زر کے خدشات بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سونے کے لیے اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں کی سمت کا تعین صرف محفوظ سرمایہ کاری کی طلب سے نہیں بلکہ حقیقی منافع، شرح سود کی توقعات اور ڈالر کی ممکنہ حرکت سے بھی ہوگا۔

Kevin Warsh کے AI اور معاشی ترقی سے متعلق اشارے

فیڈرل ریزرو کے سربراہ کیون وارش نے معاشی ترقی، سرمایہ کاری میں اضافے اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی طلب کے امکانات پر توجہ دی ہے، تاہم انہوں نے 2026 کے لیے مانیٹری پالیسی کے کسی حتمی راستے کی پیشگی ضمانت نہیں دی۔

مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن اس کے روزگار اور افراط زر پر اثرات ابھی غیر یقینی ہیں۔ اگر AI سے پیدا ہونے والی طلب معیشت میں قیمتوں کا دباؤ بڑھاتی ہے تو Federal Reserve کے لیے شرح سود میں نرمی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر پیداواری صلاحیت میں اضافہ افراط زر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے تو مستقبل میں نسبتاً نرم مانیٹری پالیسی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ Warsh نے اکتوبر اور دسمبر کے اجلاسوں کو اہم قرار دیتے ہوئے فیصلوں کے بارے میں پیشگی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس لیے سونے کے سرمایہ کاروں کے لیے مرکزی بینک کے بیانات، معاشی اعداد و شمار اور بانڈز کے منافع میں تبدیلیاں آنے والے ہفتوں میں اہم رہیں گی۔

تیکنیکی جائزہ

روزانہ چارٹ پر Gold Price کا مجموعی قلیل مدتی رجحان کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ قیمت 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج اور Bollinger Bands کی 20 روزہ درمیانی حد سے نیچے موجود ہے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ فی الحال فروخت کنندگان کو برتری حاصل ہے اور قیمت کی بحالی کو تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Relative Strength Index (RSI) تقریباً 42 پر موجود ہے، جو کمزور خریداری کی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، یہ سطح ابھی انتہائی فروخت شدہ مارکیٹ کی واضح تصدیق نہیں کرتی، اس لیے قیمت میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ عارضی بحالی کا امکان بھی برقرار ہے۔

سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

قیمت کے اوپر کی جانب بڑھنے کی صورت میں پہلی اہم مزاحمت 4,180 ڈالر کے قریب Bollinger Bands کی درمیانی حد پر موجود ہے۔ اگر سونا اس سطح کو عبور کرکے اس کے اوپر برقرار رہتا ہے تو اگلا ہدف 4,240 ڈالر کے قریب 100-day SMA ہوگا۔ اس کے بعد 4,315 ڈالر کے قریب Bollinger Bands کی بالائی حد اہم مزاحمت بن سکتی ہے۔ ان سطحوں سے اوپر مستحکم پیش رفت موجودہ منفی رجحان کو کمزور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب، نیچے کی طرف 4,050 ڈالر کے قریب Bollinger Bands کی زیریں حد اہم سپورٹ فراہم کرتی ہے۔ اگر قیمت اس سطح تک گرتی ہے اور اسے بھی توڑ دیتی ہے تو سونے میں جاری اصلاحی رجحان مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، 4,050 ڈالر کے قریب خریداروں کی واپسی قیمت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم کسی مضبوط بحالی کے لیے مزاحمتی سطحوں کو عبور کرنا ضروری ہوگا۔

حاصل کلام

قلیل المدتی میں Gold Price کی سمت کا تعین تین بنیادی عوامل سے ہوگا: امریکی ٹریژری ییلڈز، فیڈرل ریزرو کی شرح سود پالیسی اور افراط زر کی توقعات۔ اگر بانڈز کے منافع میں اضافہ جاری رہتا ہے اور مرکزی بینک شرح سود بلند رکھنے کا اشارہ دیتا ہے تو Gold Price پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ اس صورت میں 4,050 ڈالر کی سپورٹ مارکیٹ کی توجہ کا مرکز رہے گی۔

اس کے برعکس، اگر امریکی بانڈز کے منافع میں کمی آتی ہے، شرح سود میں مستقبل کی نرمی کے امکانات بڑھتے ہیں یا عالمی خطرات کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب مضبوط ہوتی ہے تو سونے کو بحالی کا موقع مل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں 4,180 اور 4,240 ڈالر کی مزاحمتی سطحیں اہم ہوں گی۔

مجموعی طور پر، سونے کا تکنیکی رجحان فی الحال کمزور ہے، لیکن اگلی بڑی حرکت کا انحصار صرف چارٹ پر نہیں بلکہ امریکی معاشی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے فیصلوں پر بھی ہوگا۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہم تکنیکی سطحوں کے ساتھ مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو بھی مدنظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سونا $4,050 کا بنیادی سپورٹ لیول برقرار رکھ پائے گا، یا بانڈ ییلڈز کا دباؤ قیمتوں کو مزید نیچے لے جائے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

FX Street: Gold Forecast, News and Analysis (XAU/USD)

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں