Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
کرپٹو

Bitcoin کی قدر میں بحالی، ETF آؤٹ فلو سے Crypto Market دباؤ میں

★اہم نکات

  • •Bitcoin تقریباً 76,900 ڈالر پر پہنچ گیا، تاہم اس سے پہلے قیمت 76,300 ڈالر تک گر گئی تھی۔
  • •امریکی Spot Bitcoin ETFs سے پیر کے روز 399 ملین ڈالر نکل گئے، جو مسلسل دوسرا روزانہ آؤٹ فلو تھا۔
  • •BlackRock IBIT سے 405 ملین ڈالر کی ریکارڈ یومیہ نکاسی ہوئی، جو جون کے بعد سب سے زیادہ تھی۔
  • •Binance سے اتوار کو دوبارہ کاروبار شروع ہونے کے بعد مجموعی طور پر 4.72 ارب ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو ریکارڈ کیا گیا۔
  • •کرپٹو فیوچرز کا تجارتی حجم 51 فیصد بڑھ کر 168.1 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ Open Interest میں کمی آئی۔
  • •لیوریجڈ پوزیشنز کی جبری بندش یعنی Liquidations میں 171 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی حجم 382.6 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔
  • •امریکی Midterm Elections کے باعث Bitcoin اور Ethereum آپشنز میں متوقع اتار چڑھاؤ بڑھ گیا۔
  • •Fear and Greed Index کم ہوکر 34 پر آگیا، جو مارکیٹ میں خوف اور محتاط سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

65 مشاہدات

بٹ کوائن کے سنہری سکے، عالمی گلوب، مالیاتی عمارتوں اور مارکیٹ ٹرینڈز پر مشتمل تصویر۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، جو عالمی مالیاتی منڈیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں اہم مقام رکھتی ہے۔

عالمی Cryptocurrency Market میں مسلسل فروخت کے دباؤ کے بعد Bitcoin کی قیمت میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی، تاہم سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ برقرار ہے۔ امریکی Spot Bitcoin ETFs سے مسلسل دوسرے روز بھاری سرمایہ نکلنے، Binance سے اربوں ڈالر کی نیٹ آؤٹ فلو اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔

Bitcoin یورپی کاروباری سیشن کے دوران تقریباً 76,300 ڈالر تک گرنے کے بعد دوبارہ 76,900 ڈالر کے قریب پہنچ گیا، لیکن اس معمولی بحالی کو ابھی مضبوط تیزی کا اشارہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اس دوران عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بھی سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی سیاسی صورتحال، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی اور آنے والے معاشی اعدادوشمار پر مرکوز ہے۔ دوسری جانب کرپٹو مارکیٹ میں Derivatives Trading، لیوریجڈ پوزیشنز کی جبری بندش اور سیکیورٹی حملوں نے خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

Bitcoin Price میں بحالی، لیکن سرمایہ کار اب بھی محتاط

Bitcoin Price میں معمولی بہتری کے باوجود مارکیٹ کا مجموعی رجحان ابھی غیر یقینی ہے۔ Bitcoin کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 76,900 ڈالر کے قریب رہی، جبکہ یورپی سیشن میں اس کی قیمت 76,300 ڈالر تک گر گئی تھی۔

دوسری بڑی کرپٹو کرنسی Ethereum تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 2,265 ڈالر کے قریب پہنچ گئی، جبکہ DeFi Index میں بھی 0.5 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس Memecoin Index میں 0.8 فیصد کمی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار نسبتاً زیادہ محتاط انداز میں مختلف ڈیجیٹل اثاثوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

مارکیٹ کی اس صورتحال میں Bitcoin کی معمولی بحالی کو مستقل خریداری کی واپسی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اسپاٹ مارکیٹ میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا دباؤ اور ایکسچینج سے رقوم کی منتقلی ابھی بھی اہم عوامل ہیں۔

Bitcoin ETFs سے 399 ملین ڈالر کا اخراج، BlackRock بھی دباؤ میں

امریکی Spot Bitcoin ETFs سے پیر کے روز 399 ملین ڈالر کی سرمایہ نکاسی ہوئی، جس کے نتیجے میں مسلسل دوسرے روز فنڈز سے سرمایہ باہر منتقل ہوا۔ اس صورتحال میں سب سے نمایاں کردار BlackRock IBIT کا رہا، جہاں سے 405 ملین ڈالر نکل گئے۔ یہ جون کے بعد فنڈ کا سب سے بڑا ایک روزہ آؤٹ فلو تھا۔

ETF مارکیٹ میں مسلسل سرمایہ نکاسی Bitcoin کی قیمت کے لیے ایک اہم منفی اشارہ ہے، کیونکہ ان فنڈز کے ذریعے ادارہ جاتی اور روایتی سرمایہ کار براہ راست ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جب ETF سے سرمایہ مسلسل نکلتا ہے تو اس سے مارکیٹ میں خریداری کی طلب کم ہونے اور سرمایہ کاروں کے خطرات سے بچنے کے رجحان کا اظہار ہوتا ہے۔ تاہم، صرف دو روز کی نکاسی کی بنیاد پر طویل مدتی ادارہ جاتی اعتماد میں مستقل کمی کا نتیجہ اخذ کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

Binance سے 4.72 ارب ڈالر کا نیٹ آؤٹ فلو، سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

کرپٹو مارکیٹ میں ایک اور اہم پیش رفت Binance سے بڑے پیمانے پر رقوم کی منتقلی ہے۔ ایکسچینج کے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے بعد صارفین نے مجموعی طور پر 4.72 ارب ڈالر کی نیٹ رقم نکلوائی، جبکہ اتوار کو یہ حجم 3.64 ارب ڈالر تھا۔

ایکسچینج سے بڑی مقدار میں رقوم نکلنے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، جن میں ذاتی والٹس میں اثاثوں کی منتقلی، سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ اس لیے نیٹ آؤٹ فلو کو لازماً فروخت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

دوسری جانب کرپٹو انڈسٹری کو سائبر سیکیورٹی کے نئے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ برازیل کے کرپٹو پلیٹ فارم Mercado Bitcoin کے Hot Wallets سے تقریباً 40 ملین ڈالر نکال لیے گئے۔ اس واقعے نے ڈیجیٹل اثاثوں کے محفوظ ذخیرے اور ایکسچینج سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Derivatives Market میں 51 فیصد اضافہ، Liquidations میں تیزی

کرپٹو مارکیٹ کے Derivatives Data سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس اضافے کے ساتھ نئی پوزیشنز بنانے کے بجائے موجودہ پوزیشنز کی خریدوفروخت زیادہ نمایاں رہی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرپٹو فیوچرز کا تجارتی حجم 51 فیصد بڑھ کر 168.1 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ Open Interest (OI) میں 1.63 فیصد کمی کے بعد یہ 134.9 ارب ڈالر رہ گیا۔

تجارتی حجم میں اضافے کے ساتھ Open Interest میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں سرگرمی تو بڑھی ہے، لیکن نئی لیوریجڈ پوزیشنز بنانے کا رجحان اسی رفتار سے مضبوط نہیں ہوا۔ امریکی انتخابات کے نتائج سے پہلے سرمایہ کاروں کی یہ حکمت عملی غیر معمولی نہیں ہے۔

اس دوران Liquidations میں 171 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا مجموعی حجم 382.6 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں تیز تبدیلی کے باعث بڑی تعداد میں لیوریج کے ساتھ کھولی گئی پوزیشنز خودکار طور پر بند ہوئیں۔ مزید یہ کہ مارکیٹ آرڈرز میں فروخت کا دباؤ بھی نمایاں رہا، جہاں مجموعی Taker Volume کا 51.12 فیصد حصہ فروخت کے آرڈرز پر مشتمل تھا۔

Ethereum میں پوزیشنز کی بندش، Bitcoin کا رجحان بھی کمزور

Ethereum Futures میں Open Interest میں 2.18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ قیمت میں 0.83 فیصد کمی ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمت میں کمی کے ساتھ سرمایہ کار اپنی موجودہ پوزیشنز بھی بند کر رہے تھے۔ Bitcoin کے معاملے میں Open Interest میں 1.20 فیصد کمی ہوئی، جبکہ قیمت 1.23 فیصد نیچے آئی۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں بڑی کرپٹو کرنسیوں میں فیوچرز مارکیٹ کی پوزیشننگ محتاط رہی۔

تاہم، Cumulative Volume Delta (CVD) کے اعدادوشمار میں دونوں کے درمیان فرق دیکھا گیا۔ Ethereum کا CVD مثبت رہا، جس سے مارکیٹ آرڈرز کے ذریعے خالص خریداری کا اشارہ ملتا ہے، جبکہ Bitcoin کا CVD منفی تھا، جو فروخت کے نسبتاً زیادہ دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں اثاثوں کی فنڈنگ ریٹ مثبت رہیں، جس کا مطلب ہے کہ Long Positions رکھنے والے ٹریڈرز اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے شارٹ پوزیشنز رکھنے والوں کو ادائیگی کر رہے ہیں۔

Zcash میں 7.57 فیصد کمی، NEAR بھی دباؤ میں

Altcoin مارکیٹ میں Zcash (ZEC) نمایاں طور پر کمزور رہا اور اس کی قیمت میں 7.57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو زیرِ نگرانی بڑی کرپٹو کرنسیوں میں سب سے نمایاں گراوٹ تھی۔

Zcash کے فیوچرز Open Interest میں 6.13 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس کا CVD بھی منفی رہا۔ یہ صورتحال مارکیٹ آرڈرز کے ذریعے فروخت کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

دوسری جانب NEAR Protocol کی قیمت میں مزید 0.9 فیصد کمی ہوئی، جس کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی مجموعی گراوٹ تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم، NEAR کے گورننس ادارے House of Stake نے ٹوکن کے زیادہ سے زیادہ سالانہ اجرا کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.6 فیصد کرنے کی منظوری دی۔

طویل مدت میں ٹوکن کی سپلائی میں کمی کا یہ فیصلہ اس کی قدر کے لیے اہم ہوسکتا ہے، لیکن فوری طور پر مارکیٹ کے فروخت کے دباؤ کو ختم نہیں کرسکا۔ اس کے برعکس DeFi سیکٹر نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ Aave (AAVE) میں 1.5 فیصد اور Uniswap (UNI) میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے اثرات

عالمی کرپٹو مارکیٹ کے لیے امریکی Midterm Elections ایک اہم محرک بن گئی ہیں، کیونکہ ان انتخابات کے نتائج امریکی حکومت کی آئندہ مالیاتی پالیسی، اخراجات اور قانون سازی پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ انتخابات سے پہلے Bitcoin کے قریبی مدت کے آپشنز میں Implied Volatility (IV) تقریباً 51 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ روز 4 نومبر کی میعاد والے آپشنز کے لیے یہ شرح تقریباً 43.5 فیصد تھی۔

Ethereum کے قریبی مدت کے آپشنز میں بھی Implied Volatility تقریباً 59 فیصد تک پہنچ گئی۔ آپشنز مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی متوقع شرح میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار انتخابات کے نتائج کے باعث قیمتوں میں ممکنہ بڑی تبدیلی کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ قریبی مدت کے Put Options پر اضافی قیمت یا Short-Term Skew طویل مدت کے مقابلے میں زیادہ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار قیمتوں میں ممکنہ کمی سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے زیادہ لاگت برداشت کر رہے ہیں۔ Bitcoin کے سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والے آپشنز میں 7 نومبر کی میعاد والا 78,000 ڈالر کا Call Option نمایاں رہا، تاہم زیادہ ٹریڈ ہونے والے چھ آپشنز میں سے چار Put Options تھے۔

Ethereum میں صورتحال مزید محتاط رہی، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے چھ سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والے آپشنز تمام Put Options تھے۔ ان میں 6 نومبر کی میعاد والا 1,900 ڈالر کا Put Option سب سے نمایاں رہا۔

عالمی مارکیٹس کے رجحانات

کرپٹو مارکیٹ کے ساتھ عالمی فنانشل مارکیٹس بھی امریکی انتخابات اور معاشی اعدادوشمار کے انتظار میں محتاط رہیں۔ پیر کے روز ٹیکنالوجی اسٹاکس میں فروخت کے باعث Nasdaq Composite میں 1.1 فیصد کمی ہوئی، تاہم بعد ازاں Nasdaq Futures میں 0.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

دوسری جانب Brent Crude Oil کی قیمت 1.3 فیصد بڑھ کر تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مالیاتی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ محفوظ سرمایہ کاری اور خطرے والے اثاثوں کے درمیان توازن پر مرکوز رہی۔

اس ہفتے Advanced Micro Devices (AMD) کے مالیاتی نتائج اور امریکی ملازمتوں کی رپورٹ بھی مارکیٹ کے لیے اہم ہوں گے۔ ان اعدادوشمار سے امریکی معیشت کی رفتار اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے بارے میں سرمایہ کاروں کو مزید اشارے مل سکتے ہیں۔

Crypto Fear and Greed Index میں کمی، مارکیٹ خوف کی سطح پر

کرپٹو مارکیٹ کے مجموعی جذبات کی عکاسی کرنے والا Fear and Greed Index کم ہوکر 34 پر آگیا، جبکہ گزشتہ روز یہ 36 تھا۔ 100 میں سے 34 کی سطح مارکیٹ میں خوف اور محتاط سرمایہ کاری کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری جانب Altcoin Season Index بغیر کسی تبدیلی کے 46 پر برقرار رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال Altcoins کی وسیع مارکیٹ میں Bitcoin کے مقابلے میں مضبوط برتری قائم نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار ابھی بڑے پیمانے پر خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں اور مارکیٹ میں واضح سمت کا انتظار کر رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ

Bitcoin کی حالیہ بحالی کے باوجود مارکیٹ کے بنیادی اشارے ابھی مکمل طور پر مثبت نہیں ہوئے۔ ETF سے مسلسل سرمایہ نکلنا، Binance سے بڑی مقدار میں رقوم کی منتقلی اور فیوچرز مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ قیمت کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔

قریب مدت میں امریکی Midterm Elections کے نتائج، AMD کے مالیاتی اعدادوشمار اور امریکی ملازمتوں کی رپورٹ مارکیٹ کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر Bitcoin اپنی موجودہ سطح پر استحکام برقرار رکھتے ہوئے خریداری کا حجم بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو بحالی کا رجحان مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ تاہم، ETF آؤٹ فلو اور منفی مارکیٹ جذبات برقرار رہنے کی صورت میں دوبارہ فروخت کا دباؤ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

مجموعی طور پر Bitcoin اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں معمولی قیمت کی بحالی کے مقابلے میں سرمایہ کاری کے بہاؤ، آپشنز مارکیٹ کی پوزیشننگ اور امریکی سیاسی و معاشی صورتحال زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بٹ کوائن انتخابات کے نتائج کے بعد ایک نئی بلند ترین سطح بنائے گا یا ہم مزید کریکشن کا سامنا کریں گے؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں!

اظہار لاتعلقی

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کے فراہم کردہ مواد اور مصنفہ کی ذاتی تحقیق و تجزیے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بارے میں تصدیق عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے کی گئی ہے۔

https://www.reuters.com/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں