جاپان کے JPYC Stablecoin کا پہلا مایوس کن سال مکمل، سرکولیشن توقعات سے کم
★اہم نکات
- •JPYC Stablecoin کی زیر گردش مالیت 23 اکتوبر تک 3.2 ارب ین، یعنی تقریباً 20 ملین ڈالر رہی، جبکہ مجموعی اجرا 12.1 ارب ین تک پہنچ چکا تھا۔
- •کمپنی کے چیف ایگزیکٹو Noritaka Okabe کے مطابق موجودہ ترقی ان کی توقعات سے کم ہے اور ٹوکنز کی سرکولیشن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔
- •جنوبی کوریا کے کرپٹو ایکسچینج Upbit پر لسٹنگ کے بعد ستمبر میں سرکولیشن عارضی طور پر 4.2 ارب ین سے تجاوز کر گئی تھی۔
- •جاپان کے قوانین کے تحت فی ٹرانزیکشن 10 لاکھ ین کی حد نے بڑی کارپوریٹ ادائیگیوں اور کاروباری اداروں کی جانب سے ٹوکن اپنانے کے عمل کو سست کیا ہے۔
- •Asteria، AZ-COM Maruwa، SBJ Bank اور LINE NEXT سمیت مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کے باوجود عملی استعمال میں تیزی آنا باقی ہے۔
- •کمپنی دوسرے سال میں زیر گردش مالیت کو کئی گنا بڑھا کر دسیوں ارب ین تک پہنچانا چاہتی ہے، جبکہ جاپان کی مالیاتی نگران اتھارٹی بھی Stablecoin Regulations کا جائزہ لے رہی ہے۔
جاپان کے ین سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی JPYC Stablecoin کو اجرا کے پہلے سال توقعات کے مطابق پذیرائی نہیں مل سکی، جہاں اس کی زیر گردش مالیت مقررہ ہدف کے تقریباً ایک چوتھائی تک محدود رہی۔ کارپوریٹ شراکت داریوں میں اضافے کے باوجود لین دین کی قانونی حدود، کاروباری اداروں کی جانب سے سست اپنانے کی رفتار اور ٹوکنز کی واپسی نے اس منصوبے کی ترقی کو متاثر کیا ہے۔
اب کمپنی دوسرے سال میں زیر گردش مالیت کو کئی گنا بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے، لیکن اس کے لیے ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنا اور کاروباری استعمال میں اضافہ ضروری ہوگا۔
JPYC Stablecoin کا پہلا مایوس کن سال
جاپان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹ میں ین سے منسلک JPYC Stablecoin کو ایک ایسے ڈیجیٹل اثاثے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جس کی قدر جاپانی ین کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں، کاروباری لین دین اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی خدمات کے لیے ایک مستحکم ذریعہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اجرا کے پہلے سال کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا کافی نہیں، بلکہ اسے کاروباری ضروریات کے مطابق قابلِ استعمال بنانا بھی ضروری ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو Noritaka Okabe نے NADA NEWS کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ٹوکن کی ترقی توقعات کے مطابق نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق ٹریڈنگ کا حجم قابلِ قبول ہونے کے باوجود زیر گردش ٹوکنز کی مالیت تسلی بخش نہیں ہے۔
Nikkei کی رپورٹ کے مطابق 23 اکتوبر تک تقریباً 3.2 ارب ین مالیت کے JPYC Tokens گردش میں تھے، جبکہ مجموعی اجرا 12.1 ارب ین تک پہنچ چکا تھا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری کیے گئے ٹوکنز کا ایک حصہ واپس کمپنی کو ادا کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ مجموعی اجرا کے اعداد و شمار بظاہر سرگرمی کی بڑی تصویر پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقی مارکیٹ سرکولیشن کمپنی کے کاروباری حجم اور آمدنی کے امکانات کو سمجھنے کے لیے زیادہ اہم ہے۔
Upbit Listing کے بعد عارضی تیزی، مگر مستقل ترقی کا چیلنج
ستمبر میں جنوبی کوریا کے کرپٹو ایکسچینج Upbit پر JPYC کی لسٹنگ نے اس کی مارکیٹ سرگرمی میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس پیش رفت کے بعد ٹوکن کی سرکولیشن عارضی طور پر 4.2 ارب ین سے زیادہ ہو گئی، جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت ایک ین سے اوپر جانے پر ٹریڈرز نے قیمتوں کے فرق سے فائدہ اٹھانے کے لیے نئے ٹوکن جاری کروانے میں دلچسپی دکھائی۔
Noritaka Okabe کے اندازے کے مطابق ایک ہی دن میں Upbit اور Uniswap کے درمیان تقریباً 35 ارب ین کے ٹوکنز کا لین دین ہوا۔ تاہم، اس غیر معمولی سرگرمی کے بعد سرکولیشن دوبارہ تقریباً 3 ارب ین کی سطح پر آ گئی۔
یہ صورتحال ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں ایک اہم فرق واضح کرتی ہے: ٹریڈنگ والیوم میں تیزی ہمیشہ مستقل کاروباری طلب کی علامت نہیں ہوتی۔ اگر لین دین کا بڑا حصہ قیمتوں کے فرق سے فائدہ اٹھانے یا عارضی مارکیٹ مواقع کے باعث ہو تو اس سے مستقل سرکولیشن میں اضافہ یقینی نہیں بنتا۔ JPYC کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ٹریڈنگ پر مبنی عارضی سرگرمی کو روزمرہ ادائیگیوں اور کاروباری استعمال میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔
جاپانی قوانین کی 10 لاکھ ین کی حد کاروباری وسعت میں رکاوٹ
JPYC Stablecoin کی سست ترقی کے پیچھے ایک اہم وجہ جاپان کے مالیاتی ضوابط بھی ہیں۔ کمپنی کے سربراہ نے Type II Funds Transfer Providers سے متعلق قواعد کے تحت فی ٹرانزیکشن 10 لاکھ ین کی حد کو کارپوریٹ اپنانے کے عمل میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
کمپنی نے مئی میں اپنے اجرا کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے 10 لاکھ ین کی حد کو روزانہ کی بنیاد کے بجائے ہر درخواست کے لیے لاگو کیا تھا۔ اس تبدیلی سے ایک دن میں متعدد درخواستوں کے ذریعے ٹوکن حاصل کرنا ممکن ہوا، تاہم بار بار تیزی سے ٹرانزیکشن کرنے پر پابندیاں برقرار رہیں۔
یہ حد خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے مشکل پیدا کرتی ہے جنہیں بڑی مالیت میں ڈیجیٹل ادائیگیاں کرنی ہوں یا اپنے اکاؤنٹس میں نمایاں مقدار میں JPYC جمع کرنا ہو۔ مثال کے طور پر سافٹ ویئر کمپنی Asteria نے ایک ارب ین مالیت کے JPYC رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن اسے مطلوبہ مالیت تک پہنچنے کے لیے مرحلہ وار ٹوکن حاصل کرنا پڑ رہے ہیں۔
بڑی کمپنیوں کے لیے یہ عمل انتظامی اخراجات بڑھا سکتا ہے، جبکہ ادائیگیوں کی رفتار اور مالیاتی منصوبہ بندی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر JPYC کو بڑے کاروباری اداروں کی ادائیگیوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے تو کمپنی کو قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایسا طریقہ کار درکار ہوگا جو کاروباری لین دین کو زیادہ آسان بنائے۔
Stablecoin Reserves اور کمپنی کی آمدنی کا تعلق
JPYC کا کاروباری ماڈل اس کے ذخائر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ ٹوکن بینک ڈپازٹس اور جاپانی حکومتی بانڈز سے پشت پناہی حاصل کرتا ہے، جبکہ کمپنی ان ذخائر سے حاصل ہونے والے سود کے ذریعے آمدنی پیدا کر سکتی ہے۔
اس ماڈل میں زیر گردش ٹوکنز کی مالیت اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ زیادہ سرکولیشن کا مطلب ممکنہ طور پر زیادہ مالیاتی ذخائر اور ان سے زیادہ سودی آمدنی کے مواقع ہیں۔ اس کے برعکس، اگر صارفین ٹوکن واپس کرتے رہیں اور زیر گردش مالیت کم ہو جائے تو کمپنی کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت بھی محدود ہو سکتی ہے۔
تاہم، حقیقی آمدنی کا انحصار صرف سرکولیشن پر نہیں بلکہ ذخائر کی ساخت، ان پر حاصل ہونے والی شرحِ سود، آپریٹنگ اخراجات اور دیگر مالیاتی عوامل پر بھی ہوگا۔ اسی لیے کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف ٹوکنز کے اجرا میں اضافہ کرنے کے بجائے ان کے مسلسل استعمال کو فروغ دے۔
کارپوریٹ شراکت داریاں موجود، لیکن عملی استعمال میں اضافہ ضروری
JPYC کی ترقی میں سست روی کے باوجود کمپنی نے مختلف کاروباری اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے۔ جولائی میں لاجسٹکس کمپنی AZ-COM Maruwa نے اس کے ساتھ شراکت داری کی، جس کا مقصد تقریباً 2,300 کاروباری شراکت داروں کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو ترقی دینا ہے۔
اسی طرح SBJ Bank اور LINE NEXT نے بینک سے منسلک ڈیجیٹل والٹس میں اسٹیبل کوائن کے ذریعے رقم شامل کرنے کے امکانات آزمانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ منصوبہ ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے، اس لیے اس کے حقیقی کاروباری اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید پیش رفت درکار ہوگی۔
ان شراکت داریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان میں مالیاتی ادارے اور کاروباری کمپنیاں Stablecoin Payments کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ تاہم، شراکت داری کا اعلان اور کسی ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال دو مختلف مراحل ہیں۔ JPYC کے لیے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ تعاون مستقل ادائیگیوں، حقیقی صارفین اور زیادہ سرکولیشن میں تبدیل ہو۔
مانیٹری پالیسی کے ممکنہ اثرات
جاپان کی Financial Services Agency (FSA) اس وقت اسٹیبل کوائنز سے متعلق ضوابط کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے ایک روڈ میپ 2027 کے اوائل میں متوقع ہے۔
آئندہ ضابطہ جاتی تبدیلیاں ڈیجیٹل اثاثوں کے اجرا، منتقلی اور کاروباری استعمال کے لیے زیادہ واضح فریم ورک فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی پالیسی لازماً JPYC کی موجودہ مشکلات ختم کر دے گی۔ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ مجوزہ قواعد کس نوعیت کے ہوں گے اور وہ بڑے کاروباری لین دین کو کس حد تک سہولت فراہم کریں گے۔
اگر جاپان میں Stablecoin Regulations زیادہ واضح اور کاروباری ضروریات سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں تو اس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب، سخت تعمیلی تقاضے کمپنیوں کے لیے اضافی اخراجات اور انتظامی مشکلات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا جاپان کو اپنے مالیاتی قوانین میں فوری نرمی کرنی چاہیے یا موجودہ حفاظتی اقدامات ہی بہتر ہیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں!
اظہار لاتعلقی
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
اطلاعات کے ذرائع
یہ مضمون اردو مارکیٹس کی تحقیقاتی ٹیم کے فراہم کردہ مواد ، مصنفہ کی ذاتی ریسرچ اور تجزیے کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ جبکہ تمام اعداد و شمار کی تصدیق Coinbase کے ذیلی ادارے Coindesk کی ویب سائٹ https://www.coindesk.com/ سے کی گئی ہے۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔