Cash Reserve Ratio (CRR) کی مکمل وضاحت

نقد ذخیرہ تناسب (Cash Reserve Ratio – CRR) ایک اہم مالیاتی پالیسی آلہ ہے۔ جسے مرکزی بینک جیسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان استعمال کرتا ہے تاکہ ملک میں رقم کی فراہمی (Money Supply) کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یہ تناسب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ کہ کمرشل بینکوں کو اپنی کل جمع شدہ رقم (Total Deposits) میں سے کتنی فیصد رقم مرکزی بینک کے پاس نقد ذخیرے کی صورت میں رکھنی ہوگی۔
Cash Reserve Ratio نقد ذخیرہ تناسب کی تعریف:
نقد ذخیرہ تناسب وہ فیصد ہے۔ جو کمرشل بینکوں کو اپنے کل ڈپازٹس میں سے مرکزی بینک کے پاس بطور نقد رقم جمع کرانا لازمی ہوتا ہے۔
مثلاً اگر CRR 10٪ ہے۔ اور کسی بینک کے پاس 100 کروڑ روپے کے ڈپازٹس ہیں۔ تو اسے 10 کروڑ روپے اسٹیٹ بینک کے پاس بطور نقد ذخیرہ رکھنا ہوں گے۔
Cash Reserve Ratio مقصد:
1. مہنگائی پر قابو پانا:
جب مرکزی بینک CRR بڑھاتا ہے تو بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کم رقم بچتی ہے۔ جس سے معیشت میں پیسے کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
2. رقوم کی فراہمی کا کنٹرول:
CRR میں کمی سے بینکوں کو زیادہ رقم دستیاب ہو جاتی ہے۔ جو قرضوں اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرتی ہے، اس طرح معاشی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔
3. بینکنگ نظام کا استحکام:
یہ یقینی بناتا ہے کہ بینکوں کے پاس ہنگامی صورتحال میں عوام کو ادائیگی کے لیے کافی نقد ذخیرہ موجود رہے۔
Cash Reserve Ratio کیسے طے کیا جاتا ہے:
مرکزی بینک ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی کی شرح، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ سود کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے CRR میں تبدیلی کرتا ہے۔
اگر معیشت سست روی کا شکار ہو تو CRR کم کیا جاتا ہے،
اور اگر معیشت زیادہ گرم (Overheated) ہو تو CRR بڑھایا جاتا ہے تاکہ پیسے کی گردش محدود ہو۔
مثال:
کل ڈپازٹس نقد ذخیرہ تناسب لازمی نقد ذخیرہ قرض دینے کے لیے دستیاب رقم
100 کروڑ 5% 5 کروڑ 95 کروڑ
100 کروڑ 10% 10 کروڑ 90 کروڑ
اس جدول سے واضح ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ CRR ہوگا، اتنی کم رقم بینک قرض دے سکیں گے۔
نقد ذخیرہ تناسب بمقابلہ قانونی نقد تناسب (SLR):
پہلو نقد ذخیرہ تناسب (CRR) قانونی نقد تناسب (SLR)
تعریف بینکوں کو مرکزی بینک کے پاس نقد رقم رکھنا لازمی بینک اپنی جائیدادوں میں نقد، سونا یا سرکاری بانڈز رکھ سکتے ہیں
کنٹرول براہِ راست مرکزی بینک کے ذریعے بینک خود اپنے پاس رکھتے ہیں
اثر رقم کی روانی پر فوری اثر رقم کی روانی پر نسبتاً کم اثر
موجودہ تناظر (پاکستان):
پاکستان میں اسٹیٹ بینک CRR کو معیشت کے حالات کے مطابق تبدیل کرتا رہتا ہے۔
جب ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے، تو اسٹیٹ بینک CRR میں اضافہ کر دیتا ہے تاکہ بینک کم قرض جاری کریں اور پیسے کی مقدار کم ہو۔
اسی طرح جب معاشی ترقی کو فروغ دینا مقصود ہو تو CRR کم کر دیا جاتا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور قرضوں میں اضافہ ہو۔
نتیجہ:
نقد ذخیرہ تناسب ایک کلیدی مالیاتی آلہ ہے جو بینکوں کی لیکویڈیٹی (Liquidity) اور معیشت کی رقمی روانی کو متوازن رکھتا ہے۔
اس کے ذریعے مرکزی بینک نہ صرف مہنگائی پر قابو پاتا ہے بلکہ ملک کی مالیاتی پالیسی کے استحکام کو بھی یقینی بناتا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



