Foreign Exchange Reserves and the Role of the US Dollar

Foreign Exchange زرمبادلہ کے ذخائر کسی بھی ملک کے وہ غیر ملکی اثاثے ہوتے ہیں۔ جو مرکزی بینک کے پاس محفوظ ہوتے ہیں۔ ان میں غیر ملکی کرنسی، سونا، خصوصی ڈرائنگ رائٹس (SDRs) اور آئی ایم ایف میں محفوظ اثاثے شامل ہوتے ہیں۔ یہ ذخائر ملکی معیشت کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔

امریکی ڈالر کی مرکزی حیثیت

امریکی ڈالر دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ریزرو کرنسی ہے۔ عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں، قرضوں اور سرمایہ کاری میں ڈالر کا کردار مرکزی ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر ممالک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر کو ترجیح دیتے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی استحکام

مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر ملکی کرنسی کو سہارا دیتے ہیں۔ جب کسی ملک کے پاس مناسب ڈالر ذخائر ہوں۔ تو وہ اپنی کرنسی پر دباؤ کم کر سکتا ہے۔ درآمدات کی ادائیگی آسانی سے کر سکتا ہے۔ اور مالیاتی منڈیوں میں اعتماد قائم رکھتا ہے۔

درآمدات، قرضے اور ڈالر کی ضرورت

تیل، گیس، مشینری اور دیگر ضروری اشیاء کی درآمد کے لیے امریکی ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی عموماً ڈالر میں ہوتی ہے۔ اگر ذخائر کم ہوں تو ملک کو ادائیگیوں کے توازن (Balance of Payments) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد اور ڈالر ذخائر

غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر نظر رکھتے ہیں۔ بلند ذخائر معاشی استحکام کا اشارہ ہوتے ہیں۔ جبکہ کم ذخائر کرنسی بحران اور ڈیفالٹ کے خدشات کو بڑھاتے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے اثرات

اگر ذخائر تیزی سے کم ہوں تو:

ملکی کرنسی کمزور ہو جاتی ہے

مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے

درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں

عالمی کریڈٹ ریٹنگ متاثر ہو سکتی ہے

ذخائر بڑھانے کے طریقے

زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے ممالک:

برآمدات میں اضافہ کرتے ہیں

بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں

ترسیلاتِ زر کو فروغ دیتے ہیں

آئی ایم ایف یا دیگر اداروں سے مالی معاونت حاصل کرتے ہیں

نتیجہ

زرمبادلہ کے ذخائر اور امریکی ڈالر کسی بھی ملک کی معاشی طاقت اور استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ مضبوط ڈالر ذخائر نہ صرف کرنسی کو سہارا دیتے ہیں۔ بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button