EURUSD دباؤ میں، US Dollar کی طاقت اور تجارتی جنگ کے خدشات برقرار
Trade War Fears And Strong US Data Challenge EURUSD Recovery
یورپی مارکیٹ میں پیر کو EURUSD تقریباً 1.1750 کے قریب دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ عالمی تجارتی جنگ کے خدشات اور ٹیرف کی غیر یقینی صورتحال نے US Dollar کی محفوظ پناہ گاہ کی طلب میں اضافہ کیا۔
اسکے علاوہ مضبوط US Employment Data کے بعد Federal Reserve کی جانب سے ستمبر تک پالیسی نرمی میں تاخیر کی توقعات نے بھی US Dollar کو اپنے حریفوں پر مضبوط رکھا، جس سے EURUSD کی بحالی کی کوششیں متاثر ہوئیں۔
اگر EU-US Trade Relations پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، تو Euro کی طلب میں کمی جاری رہ سکتی ہے.. اور EURUSD مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب EU Economic Data اور Tariff Headlines پر اپنی نظریں جمائے بیٹھے ہیں تاکہ اگلی سمت کا تعین کر سکیں. جبکہ مضبوط US Dollar مارکیٹ پر حاوی رہ سکتا ہے۔
خلاصہ
-
US Nonfarm Payrolls جون میں 147,000 بڑھے، جو 110,000 کی توقع سے زیادہ رہے.
-
US Unemployment Rate مئی کے 4.2% سے کم ہو کر جون میں 4.1% پر آ گئی.
-
ISM Services PMI جون میں 50.8 تک بڑھ گیا، جو معاشی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے.
-
US Dollar Index میں یومیہ 0.4% اضافہ ریکارڈ کیا گیا.
-
US Tariff Headlines پر غیر یقینی صورتحال برقرار، EURUSD کی طلب متاثر.
-
European Commission نے US کے ساتھ ٹیرف ڈیل کی تیاری کا عندیہ دیا، مگر ناکامی کا امکان بھی برقرار.
-
US President Trump نے جمعہ سے تجارتی ٹیرف کے خطوط بھیجنے کا اعلان کیا.
-
EURUSD Technical Overview میں 1.1760 پر فوری سپورٹ، جبکہ 1.1800 اور 1.1860 پر مزاحمت کی سطحیں موجود ہیں.
ٹرمپ کا اعلان اور USD پر اثرات
امریکی صدر Donald Trump نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ UNITED STATES دنیا بھر کے مختلف ممالک کو Tariff Letters جاری کئے جائیں گے. جس کے بعد BRICS ممالک کے ساتھ وابستہ اتحادیوں پر اضافی Tariff عائد کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس اعلان کے بعد مارکیٹ میں شدید بے چینی دیکھی گئ.، جس سے US Dollar نے نئی مضبوطی حاصل کی۔
دوسری طرف، European Commission نے واضح کیا ہے کہ وہ US کے ساتھ ٹیرف معاہدے تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے، مگر ناکامی کی صورت میں بھی تیار ہیں۔ US President Trump نے اشارہ دیا ہے کہ جمعہ سے ٹیرف خطوط جاری ہوں گے جس نے مارکیٹ کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
US Dollar کی رفتار میں اضافہ
ٹرمپ کے اعلان کے بعد US Dollar نے اپنے اہم کرنسی حریفوں کے مقابلے میں نئی بولی حاصل کی. جس سے US Dollar Index 97.07 تک پہنچ گیا۔ اس وقت جب عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، Tariff Policy میں اس قسم کی تبدیلیوں سے سرمایہ کار US Dollar کی طرف تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں۔
عالمی تجارتی جنگ کی شدت
ٹرمپ کی نئی Tariff Policy نے عالمی تجارتی جنگ کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ BRICS ممالک کی امریکہ مخالف پالیسیوں کے جواب میں Trump کا یہ سخت موقف امریکہ کی عالمی مالیاتی برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے. جبکہ یہ پالیسی عالمی تجارت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
Trump کی نئی Tariff Policy نے عالمی مالیاتی مارکیٹس پر واضح اثر ڈال دیا ہے. جس میں Dollar کی قدر میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کی نظریں اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔ BRICS اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشی کشیدگی عالمی سطح پر معیشت کے لیے نئے خطرات کا اشارہ دے رہی ہے۔
مارکیٹ کی موجودہ سمت: EURUSD کا تکنیکی جائزہ.
چار گھنٹے کے چارٹ پر Relative Strength Index (RSI) 50 کے تھوڑا اوپر ہے، جبکہ EURUSD 20-پیریڈ اور 50-پیریڈ Simple Moving Averages (SMA) کے درمیان ہچکچاہٹ میں ہے، جس سے مارکیٹ میں سمت کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
نیچے کی طرف، 1.1760 فوری سپورٹ، 1.1725 اور 1.1650 اگلی سپورٹ کی سطحیں ہیں. جبکہ اوپر کی طرف 1.1800 اور 1.1860 پر مزاحمت کی سطحیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



