Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

آسٹریلوی ڈالر 0.7000 سے اوپر مستحکم، Fed اور RBA کے فیصلوں پر نظریں

★اہم نکات

  • •AUDUSD میں تیزی لیکن محدود رینج برقرار: آسٹریلوی ڈالر کی جوڑی تقریباً 0.7024 سے 0.7028 کے درمیان رہی اور معمولی تیزی کے باوجود مجموعی طور پر محدود دائرے میں ٹریڈ کرتی دکھائی دی۔
  • •Fed کی شرح سود پر توجہ: دسمبر میں امریکی شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کے امکانات تقریباً 82 فیصد تک پہنچ گئے، جس سے امریکی ڈالر اور آسٹریلوی ڈالر کے درمیان فرق مزید اہم ہو گیا ہے۔
  • •امریکی معاشی اعداد و شمار: اکتوبر میں صارفین کے اعتماد کا انڈیکس 82.2 سے بڑھ کر 91.7 ہو گیا، جبکہ Durable Goods Orders میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب ADP Employment Change کی ریڈنگ 16,800 رہی، جو گزشتہ 17,500 سے کم تھی۔
  • •آسٹریلوی CPI کا امتحان: ستمبر کے افراط زر کے اعداد و شمار یہ واضح کرنے میں مدد دیں گے کہ آیا آسٹریلیا میں قیمتوں کا دباؤ مزید بڑھ رہا ہے اور کیا اس سے RBA کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوتے ہیں۔
  • •تکنیکی مزاحمت اور سپورٹ: 0.7072 کی سطح ابتدائی مزاحمت ہے، جبکہ 0.6920 اہم سپورٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ان سطحوں سے باہر بریک آؤٹ جوڑی کی اگلی سمت کا اشارہ دے سکتا ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

64 مشاہدات

AUD/USD مارکیٹ، آسٹریلوی اور امریکی ڈالر کی نمائندگی۔
فیڈ اور آر بی اے کے فیصلوں سے پہلے آسٹریلوی ڈالر مستحکم۔

عالمی کرنسی مارکیٹ میں آسٹریلوی ڈالر اور امریکی ڈالر کی جوڑی AUDUSD اہم مرکزی بینکوں کے پالیسی فیصلوں اور افراط زر کے نئے اعداد و شمار سے پہلے محدود دائرے میں مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔ آسٹریلوی ڈالر نے امریکی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود معمولی اضافہ ریکارڈ کیا۔

تاہم مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اشاروں اور Australian CPI Report پر مرکوز ہے، کیونکہ ان دونوں عوامل سے مستقبل میں شرح سود کی سمت واضح ہونے کا امکان ہے۔

امریکہ میں دسمبر کے دوران شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 82 فیصد تک پہنچنے سے امریکی ڈالر کو سہارا مل رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا میں افراط زر کے دوبارہ تیز ہونے کی صورت میں Reserve Bank of Australia (RBA) کی جانب سے مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کیے جانے کی توقعات مضبوط ہو سکتی ہیں۔ اس ماحول میں AUDUSD کے لیے 0.7000 کی نفسیاتی سطح اہم بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن جوڑی کو واضح تیزی کے لیے قریبی تکنیکی مزاحمت عبور کرنا ہوگی۔

امریکی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7000 سے اوپر

AUDUSD مسلسل چوتھے روز محدود دائرے میں تجارت کرتے ہوئے تقریباً 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7024 کے قریب رہا۔ یہ کارکردگی ایسے وقت سامنے آئی جب امریکی ڈالر نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی۔ امریکی ڈالر انڈیکس، جو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر کو ظاہر کرتا ہے، 0.36 فیصد اضافے کے بعد 102.16 پر پہنچ گیا۔

تاہم، امریکی ڈالر کی مضبوطی آسٹریلوی ڈالر کو واضح طور پر نیچے دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں کے منتظر ہیں۔ موجودہ صورت حال میں مارکیٹ کا رخ صرف ایک دن کے معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ مستقبل کی شرح سود کے بارے میں مرکزی بینکوں کے اشاروں سے بھی متعین ہو سکتا ہے۔

اگر آسٹریلیا میں افراط زر توقعات سے زیادہ رہتا ہے تو آسٹریلوی ڈالر کو سہارا مل سکتا ہے، لیکن اگر امریکی معیشت مضبوط رہتی ہے اور Fed شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے تو امریکی ڈالر کی برتری برقرار رہنے کا امکان ہے۔

معاشی ڈیٹا اور FOMC کی پالیسی میٹنگ

امریکہ کے حالیہ معاشی اعداد و شمار ایک ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ Conference Board Consumer Confidence Index ستمبر کی 82.2 کی سطح سے بڑھ کر اکتوبر میں 91.7 ہو گیا، جو صارفین کے اعتماد میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح Durable Goods Orders میں اضافہ صنعتی طلب کے حوالے سے مثبت اشارہ ہے۔

اس کے برعکس، ADP Employment Change کی ریڈنگ 16,800 رہی، جو گزشتہ 17,500 سے کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کے تمام شعبے یکساں رفتار سے ترقی نہیں کر رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ اب Federal Reserve کے مانیٹری پالیسی فیصلے اور اس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس پر ہے۔ شرح سود برقرار رہنے کی توقع کے باوجود دسمبر میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کے تقریباً 82 فیصد امکانات ظاہر کرتے ہیں کہ مارکیٹ امریکی افراط زر اور معاشی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔

Fed چیئر کیون وارش کے پالیسی بیانات بھی اہم ہوں گے، کیونکہ ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی بینک رواں سال مزید سختی کی طرف جا رہا ہے یا اگلے سال تک انتظار کرنے کو ترجیح دے گا۔

اس کے علاوہ، امریکی Core Personal Consumption Expenditures (Core PCE) افراط زر کا انڈیکس بھی مارکیٹ کے لیے اہم ہوگا۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات سے زیادہ آتے ہیں اور مجموعی ملکی پیداوار Gross Domestic Product (GDP) بھی معیشت کی مضبوطی ظاہر کرتی ہے تو دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں امریکی ڈالر کو تقویت ملنے سے AUDUSD پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

Australian CPI اور RBA کا فیصلہ

آسٹریلیا میں سرمایہ کاروں کی توجہ ستمبر کے Consumer Price Index (CPI) اور Reserve Bank of Australia (RBA) کی گورنر مشیل بلک کی تقریر پر مرکوز ہے۔ ان دونوں سے آسٹریلیا کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اہم اشارے مل سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق، افراط زر کے بنیادی رجحان کو ظاہر کرنے والا Trimmed Mean CPI ستمبر میں ماہانہ بنیاد پر 0.3 فیصد بڑھ سکتا ہے، جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 0.2 فیصد تھا۔ اگر سالانہ CPI بھی اگست کی 3.6 فیصد شرح سے اوپر جاتا ہے تو RBA کی جانب سے مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

شرح سود میں اضافے کی توقعات آسٹریلوی ڈالر کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ زیادہ شرح سود مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کی کشش بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، اس کا حتمی اثر امریکی شرح سود، عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات اور مارکیٹ کے خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت پر بھی منحصر ہوگا۔

اگر آسٹریلوی افراط زر توقعات سے کم رہتا ہے تو RBA کی مزید سختی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، جس سے آسٹریلوی ڈالر کی تیزی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے افراط زر کی ریڈنگ محض ایک معاشی اشارہ نہیں بلکہ AUDUSD کے لیے فیصلہ کن عوامل میں سے ایک بن سکتی ہے۔

AUDUSD کی تکنیکی صورتحال

روزانہ کے چارٹ پر AUDUSD تقریباً 0.7028 پر تجارت کرتا دکھائی دیا، جو 50 روزہ، 100 روزہ اور 200 روزہ سمپل موونگ ایوریج کے مجموعے، یعنی 0.7072 کی سطح سے نیچے ہے۔ یہ صورت حال قریبی مدت میں آسٹریلوی ڈالر کے لیے محتاط اور قدرے مندی کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

اگرچہ ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس تقریباً 52.6 پر موجود ہے، جو مومینٹم میں معمولی بہتری کا اشارہ دیتا ہے، تاہم قیمت کا اہم موونگ ایوریجز سے نیچے رہنا ظاہر کرتا ہے کہ خریدار ابھی تک مارکیٹ پر واضح برتری حاصل نہیں کر سکے۔

سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں

تکنیکی اعتبار سے 0.7072 کی سطح پہلی اہم مزاحمت ہے، کیونکہ یہاں تینوں بڑے موونگ ایوریجز کا مجموعہ موجود ہے۔ اگر AUDUSD اس سطح سے اوپر نکل کر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو آسٹریلوی ڈالر کی بحالی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد مارکیٹ کی توجہ 0.7105 کی اگلی مزاحمت پر مرکوز ہو سکتی ہے، جسے عبور کرنے کے لیے خریداری کے مسلسل دباؤ کی ضرورت ہوگی۔ اگر جوڑی 0.7105 سے اوپر برقرار رہتی ہے تو 0.7198 کی بڑی مزاحمتی سطح اگلا ممکنہ تکنیکی ہدف بن سکتی ہے۔

دوسری جانب، قیمت میں کمی کی صورت میں 0.6920 کی سطح پہلی اہم سپورٹ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اگر فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے اور جوڑی اس سطح سے نیچے چلی جاتی ہے تو مزید کمزوری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ 0.6353 کی سطح سابقہ ٹرینڈ لائن بریک سے متعلق ایک دور کا تکنیکی حوالہ ہے، جسے موجودہ قیمت کے مقابلے میں خاصے فاصلے پر واقع سطح سمجھنا چاہیے، نہ کہ فوری ہدف۔

مجموعی طور پر، 0.7028 کا موجودہ زون AUDUSD کے لیے مختصر مدتی فیصلہ کن مقام ہے۔ جب تک جوڑی 0.7070 سے 0.7110 کے دائرے کو مضبوطی سے عبور نہیں کرتی، فروخت کنندگان کو تکنیکی برتری حاصل رہنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، اس مزاحمتی دائرے سے اوپر مستحکم تجارت تیزی کے رجحان کو تقویت دے سکتی ہے، جبکہ 0.6920 سے نیچے کی حرکت مندی کے دباؤ میں اضافے کا اشارہ ہوگی۔

مستقبل کا منظرنامہ

آنے والے سیشنز میں AUDUSD کی سمت تین اہم عوامل سے متاثر ہونے کا امکان ہے: امریکی Fed کے پالیسی اشارے، آسٹریلیا کے افراط زر کے اعداد و شمار اور اہم تکنیکی سطحوں پر قیمت کا ردعمل۔

اگر امریکی Core PCE افراط زر توقعات سے زیادہ رہتا ہے اور Fed دسمبر میں شرح سود بڑھانے کا واضح اشارہ دیتا ہے تو امریکی ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آسٹریلوی ڈالر کے لیے 0.7072 کی مزاحمت عبور کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس، آسٹریلیا میں افراط زر کی بلند شرح RBA کی مزید سختی کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ امریکی ڈالر کی رفتار بھی کمزور پڑتی ہے تو AUDUSD کے لیے 0.7105 اور پھر 0.7198 کی جانب بڑھنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم، صرف شرح سود کی توقعات کی بنیاد پر کسی ایک سمت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ معاشی اعداد و شمار میں فرق، مرکزی بینکوں کے بیانات اور مارکیٹ کی فوری ردعمل کی نوعیت بھی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

حاصل کلام

AUDUSD کا 0.7000 سے اوپر برقرار رہنا آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک اہم نفسیاتی سہارا ہے، لیکن جوڑی کی مضبوط بحالی کے لیے 0.7072 کی تکنیکی مزاحمت عبور کرنا ضروری دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی شرح سود میں دسمبر کے دوران اضافے کے بڑھتے امکانات امریکی ڈالر کو تقویت دے سکتے ہیں۔

ستمبر کی Australian CPI Report اس منظرنامے میں اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ بلند افراط زر RBA کی سخت پالیسی کی توقعات کو بڑھا سکتا ہے۔ فی الحال، مارکیٹ میں واضح سمت کے بجائے انتظار اور احتیاط کا رجحان غالب ہے، اور اگلی بڑی حرکت کا انحصار مرکزی بینکوں کے اشاروں اور معاشی اعداد و شمار پر ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آسٹریلوی افراط زر کے اعدادوشمار آسٹریلین ڈالر کو 0.7110 کے اوپر دھکیل پائیں گے یا فیڈرل ریزرو کی سختی AUDUSD کو 0.6920 کی طرف گرا دے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

اظہار لاتعلقی

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کی تحقیقاتی ٹیم، مصنفہ کی ذاتی ریسرچ اور تجزیے کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔ تاہم اعداد و شمار کی تصدیق عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز https://www.reuters.com/markets/ سے حاصل کی گئی ہے۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں