Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

آسٹریلین ڈالر میں تیزی، امریکی جابز ڈیٹا کے بعد امریکی ڈالر کا دفاعی انداز

★اہم نکات

  • •امریکی جابز ڈیٹا میں کمی: ستمبر میں نان فارم پے رولز کی توقعات سے کمزور کارکردگی نے امریکی ڈالر (US Dollar) پر دباؤ ڈالا ہے۔
  • •آسٹریلیا میں شرح سود کا برقرار رہنا: افراط زر (Inflation) کے اعتدال پر آنے کے بعد RBA کی جانب سے نومبر میں شرح سود کو برقرار رکھنے کی قوی توقع ہے۔
  • •تکنیکی دباؤ: ڈیلی چارٹ پر AUDUSD کا جوڑا اب بھی 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جو کہ قلیل مدتی مندی (Bearish vibe) کو ظاہر کرتا ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

67 مشاہدات

امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار کے بعد AUDUSD میں معمولی تیزی دیکھی گئی۔
آسٹریلوی اور امریکی پرچم، AUD اور ڈالر کی علامتوں اور اوپر جاتے ہوئے فاریکس چارٹ پر مشتمل مالیاتی تصویر۔

آسٹریلین ڈالر (Australian Dollar) نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ حالیہ نان فارم پے رولز (Nonfarm Payrolls)، فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی پالیسی اور ریز بینک آف آسٹریلیا (Reserve Bank of Australia - RBA) کے فیصلوں کا ایکسچینج ریٹ پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

AUDUSD پر اثرانداز ہونیوالے عوامل

AUDUSD کا جوڑا 0.6955 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی لیبر مارکیٹ سے آنے والی مایوس کن رپورٹس ہیں۔ جب بھی عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کمزور ہوتا ہے، تو آسٹریلین ڈالر جیسے رسک سینسٹو (Risk Sensitive) اثاثوں کو سہارا ملتا ہے۔ جمعہ کے روز امریکی بیورو آف لیبر سٹیسٹکس (US Bureau of Labor Statistics) کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں صرف 29,000 نوکریاں پیدا ہوئیں جو کہ مارکیٹ کی توقعات سے کافی کم تھیں۔

اس کمزور ڈیٹا کے بعد تاجروں کا یہ ماننا ہے کہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) اپنی شرح سود کی پالیسی میں کچھ نرمی لائے گا۔ CME FedWatch ٹولکے مطابق، اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہو کر تقریباً 22.1 فیصد رہ گئے ہیں، جس نے آسٹریلین ڈالر کو فوری طور پر اوپر کی طرف دھکیلنے میں مدد فراہم کی۔

آسٹریلوی مرکزی بینک کی ممکنہ سمت

آسٹریلیا کے معاشی منظر نامے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعداد و شمار توقعات کے مطابق آئے ہیں، جس کے بعد منی مارکیٹس میں یہ بات پکی سمجھی جا رہی ہے کہ RBA نومبر کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا۔ کامرز بینک (Commerzbank) کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی جانب سے مزید شرح سود میں اضافے کی توقعات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

آسٹریلیا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں دباؤ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں اگست میں بلڈنگ پرمٹس (Building Permits) میں 6.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور بڑی مارکیٹوں میں پراپرٹی کی قیمتیں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں، مرکزی بینک کے لیے یہ بہتر حکمت عملی ہے کہ وہ حالات کا مزید جائزہ لے، جس کی وجہ سے آسٹریلین ڈالر کو طویل مدتی بنیادوں پر زیادہ رفتار ملنے کے امکانات محدود ہیں۔

فیڈرل ریزرو کے بیانات

ایک طرف جہاں کمزور جابز ڈیٹا نے ڈالر کو دباؤ میں ڈالا، وہیں فیڈرل ریزرو کی عہدیدار لوگن (Logan) کا ایک سخت (Hawkish) بیان سامنے آیا۔ ان کے بیان سے یہ عندیہ ملا کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے ابھی مزید سخت اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس قسم کے بیانات مارکیٹ میں ڈالر کے لیے ایک مضبوط فلور فراہم کرتے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ شرح سود طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہے۔

AUDUSD کا تکنیکی جائزہ

ڈیلی چارٹ کے لحاظ سے AUDUSD کا جوڑا اب بھی 100 روزہ Simple Moving Average (SMA) سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جو قلیل مدت میں محتاط مندی کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب تک قیمت اس اہم اوسط سے نیچے رہتی ہے، مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

قیمت کے اوپری جانب 0.7055 کی سطح پر موجود 100 روزہ Simple Moving Average (SMA) ابتدائی مزاحمتی سطح کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ اس کے بعد تقریباً 0.7070 پر موجود Bollinger Middle Band اگلی اہم رکاوٹ فراہم کر سکتا ہے۔ اگر قیمت ان دونوں سطحوں کے اوپر مستحکم ہونے میں کامیاب ہوتی ہے تو قلیل مدتی بحالی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔

کلیدی سپورٹ لیولز اور ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس

دوسری جانب، نیچے کی طرف 0.6895 کی سطح پر موجود Bollinger Lower Band پہلی اہم Support فراہم کر رہا ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے آتی ہے تو فروخت کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور جوڑا مزید نچلی سطحوں کی جانب جا سکتا ہے۔

ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI) اس وقت 31.5 کی سطح پر ہے، جو Oversold زون کے قریب ہے۔ یہ اشارہ دیتا ہے کہ فروخت کا دباؤ کافی حد تک بڑھ چکا ہے اور مندی کی رفتار میں عارضی طور پر کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم جب تک قیمت اہم موونگ ایوریج سے نیچے ہے، مجموعی تکنیکی منظرنامہ محتاط مندی کا ہی اشارہ دے رہا ہے۔

حاصل کلام

مجموعی طور پر، AUDUSD کی موجودہ حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ بیک وقت امریکہ کے کمزور روزگار کے اعداد و شمار اور آسٹریلیا کی گھریلو معاشی مشکلات کے درمیان توازن تلاش کر رہی ہے۔ تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں کہ اس طرح کے ملا جلا رجحانات میں رسک مینجمنٹ سب سے اہم ہوتی ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں آسٹریلین ڈالر 0.7000 کی نفسیاتی حد کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ آپ اس مارکیٹ کی صورتحال میں کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں؟

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

Source: FX Street https://www.fxstreet.com/news/australian-dollar-drifts-higher-above-06950-on-soft-us-jobs-data-202610042321

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں