Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

EUR/USD میں تیزی، 1.1600 اہم رکاوٹ

اہم نکات

  • ڈالر انڈیکس اور بانڈز کے منافع میں کمی کے باعث یورو مضبوط ہو کر 1.1580 پر آ گیا ہے۔
  • اس وقت مارکیٹ کے تمام سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک (فیڈ) کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ شرحِ سود کی آئندہ سمت واضح ہو سکے اور خریداروں کو نیا اشارہ ملے۔
Noor

EUR/USD میں تیزی، 1.1600 اہم رکاوٹ

EUR/USD کی قیمت 1.1580 کے قریب پہنچ گئی۔ خریدار ایک بار پھر مارکیٹ میں ایکٹو دکھائی دے رہے ہیں۔

فی الحال سب کی نظریں امریکی مرکزی بینک (فیڈ) کے اجلاس پر جمی ہوئی ہیں، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آنے والے دنوں میں شرحِ سود کے حوالے سے ان کا اگلا قدم کیا ہو گا۔

ڈالر کی کمزوری سے یورو کو سہارا

امریکی ڈالر اس وقت دباؤ میں ہے کیونکہ سرمایہ کار امریکی معیشت اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

حالیہ امریکی معاشی اعداد و شمار سے معیشت کی رفتار میں کچھ کمی کے اشارے ملے ہیں، جبکہ بعض شعبوں میں مہنگائی کا دباؤ بھی کم ہوا ہے۔

اب سب کی نظریں فیڈرل ریزرو کی جولائی میں ہونے والی میٹنگ کی منٹس پر ہیں۔ ان منٹس سے اندازہ لگایا جائے گا کہ فیڈ کے عہدیدار مہنگائی، روزگار اور معاشی ترقی کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔

اگر منٹس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ فیڈ شرحِ سود میں کمی کے لیے تیار ہو سکتا ہے تو امریکی ڈالر مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں EUR/USD کو اوپر جانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر فیڈ مہنگائی کے بارے میں زیادہ تشویش ظاہر کرتا ہے اور شرحِ سود کو مزید عرصے تک بلند رکھنے کا اشارہ دیتا ہے تو ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

فیڈ کی میٹنگ منٹس کیوں اہم ہیں؟

فیڈرل ریزرو کی میٹنگ منٹس اس وقت EUR/USD کے لیے ایک اہم محرک ہیں۔ سرمایہ کار خاص طور پر یہ دیکھیں گے کہ فیڈ کے عہدیدار مستقبل کی شرحِ سود کے بارے میں کتنا سخت یا نرم مؤقف رکھتے ہیں۔

فیڈ نے جولائی کی میٹنگ میں شرحِ سود کی حد 3.50% سے 3.75% پر برقرار رکھی تھی۔

اگر میٹنگ منٹس میں آئندہ پالیسی کے بارے میں کوئی واضح اشارہ ملتا ہے تو کرنسی مارکیٹ میں تیزی سے اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

امریکی بانڈز کی شرحِ منافع بھی اہم رہے گی۔ اگر یہ شرحیں کم ہوتی ہیں تو ڈالر کی طلب میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ شرحِ منافع بڑھنے کی صورت میں ڈالر کو سہارا مل سکتا ہے۔

یورو اور یورپی مرکزی بینک کی پالیسی

یورو کو یورپی مرکزی بینک یعنی ECB کی محتاط پالیسی سے بھی کچھ مدد مل رہی ہے۔

ECB مہنگائی، معاشی ترقی اور مالی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ شرحِ سود کے فیصلے بڑی حد تک مہنگائی اور یورپی معیشت کی صورتحال پر منحصر ہوں گے۔

تاہم، یورو کے لیے کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ یورپ میں مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ توانائی مہنگی ہونے سے گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں ECB کے لیے مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور معیشت کو سہارا دینا ایک مشکل توازن ہوگا۔

EUR/USD کا تکنیکی تجزیہ

چارٹ کے لحاظ سے 1.1600 اس وقت EUR/USD کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہے۔

EUR/USD حالیہ دنوں میں 1.1550 سے 1.1600 کے درمیان حرکت کر رہا ہے۔ خریدار مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ قیمت 1.1600 کی اہم سطح سے اوپر نکل جائے۔

اگر EUR/USD 1.1600 سے اوپر مضبوطی کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو اگلی توجہ 1.1650 کی طرف جا سکتی ہے۔

دوسری طرف 1.1550 ایک اہم سہارا ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے چلی جاتی ہے اور وہاں برقرار رہتی ہے تو اگلا اہم ہدف 1.1500 ہو سکتا ہے۔

فی الحال EUR/USD کا رجحان 1.1550 سے اوپر نسبتاً مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم، مزید اوپر جانے کے لیے 1.1600 کی سطح کو واضح طور پر عبور کرنا ضروری ہوگا۔

اگر امریکی ڈالر کمزور رہتا ہے اور بانڈز کی شرحِ منافع میں مزید کمی آتی ہے تو یورو کو فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن مہنگائی، تیل کی قیمتیں اور عالمی سیاسی صورتحال مارکیٹ کا رخ کسی بھی وقت بدل سکتی ہیں۔

اس وقت 1.1600 اہم مزاحمت جبکہ 1.1550 اہم سہارا ہے۔ 1.1600 سے اوپر مضبوط بریک آؤٹ EUR/USD کو 1.1650 کی طرف لے جا سکتا ہے، جبکہ 1.1550 سے نیچے جانے کی صورت میں 1.1500 اگلی اہم سطح بن سکتی ہے۔

EUR/USD کو آگے کون سے عوامل متاثر کر سکتے ہیں؟

آنے والے دنوں میں EUR/USD کی سمت کئی اہم عوامل طے کریں گے۔

سب سے پہلے فیڈرل ریزرو کی میٹنگ منٹس اہم ہیں۔ اگر فیڈ کا لہجہ نرم رہا تو ڈالر پر مزید دباؤ آ سکتا ہے، جبکہ سخت مؤقف ڈالر کو مضبوط کر سکتا ہے۔

دوسرا اہم عنصر امریکی بانڈز کی شرحِ منافع ہے۔ اگر یہ شرحیں مسلسل کم ہوتی رہیں تو ڈالر کمزور رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس شرحِ منافع میں اضافہ ڈالر کے لیے مثبت ہو سکتا ہے۔

تیل کی قیمتیں بھی مارکیٹ کی توجہ میں رہیں گی۔ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود کے فیصلے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بھی اہم ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار امریکی ڈالر کو نسبتاً محفوظ سرمایہ سمجھ کر خرید سکتے ہیں، جس سے EUR/USD پر دباؤ آ سکتا ہے۔

نتیجہ

EUR/USD اس وقت 1.1580 کے قریب ہے اور امریکی ڈالر کی کمزوری نے یورو کو سہارا دے رکھا ہے۔ اب مارکیٹ کی توجہ فیڈرل ریزرو کی میٹنگ منٹس، امریکی بانڈز کی شرحِ منافع اور آنے والے معاشی اعداد و شمار پر ہے۔

تکنیکی لحاظ سے 1.1600 اور 1.1550 دو اہم سطحیں ہیں جن پر ٹریڈرز کی خاص نظر رہے گی۔ ان میں سے کسی ایک سطح کا واضح طور پر ٹوٹنا EUR/USD کی اگلی بڑی سمت کے بارے میں اہم اشارہ دے سکتا ہے۔

📰 مزید پڑھیں: EUR/USD میں تیزی، ڈالر کمزور

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

N

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں