Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج ، EURUSD میں تیزی، قیمت 1.1250 کے قریب پہنچ گئی

★اہم نکات

  • •EURUSD بدھ کے ابتدائی یورپی کاروباری سیشن میں بڑھ کر 1.1235 کے قریب پہنچ گیا۔
  • •امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 52 نشستیں حاصل کرکے اکثریت حاصل کرلی۔
  • •ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 224 جبکہ ریپبلکنز کو 131 نشستیں ملنے کی اطلاعات ہیں۔
  • •ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی حکومتی اخراجات محدود ہونے کی توقع نے US Dollar پر دباؤ بڑھایا ہے۔
  • •تکنیکی اعتبار سے 1.1255 فوری مزاحمتی سطح ہے، جبکہ 1.1195 اور 1.1132 اہم سپورٹ لیولز ہیں۔
  • •100-Day SMA تقریباً 1.1420 پر موجود ہے، جو یورو کی درمیانی مدت کی بحالی کے لیے ایک اہم رکاوٹ بن سکتی ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

57 مشاہدات

یورو، امریکی ڈالر، یورپی مرکزی بینک اور یورپی عوام کی نمائندگی کرتا مالیاتی منظر
یورو، امریکی ڈالر، یورپی مرکزی بینک اور یورپی عوام کی نمائندگی کرتا مالیاتی منظر

EURUSD gains momentum toward 1.1250 as the US Dollar weakens following the midterm election results, raising expectations of tighter government spending. The pair's next direction will depend on its ability to break 1.1255 resistance. Read the Detailed Analysis in Urdu below

امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں یورو کے مقابلے میں ڈالر کمزور ہونے سے EURUSD کی قیمت 1.1235 کے قریب پہنچ گئی۔ ڈیموکریٹس کی امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری نے سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی مالیاتی پالیسی، حکومتی اخراجات اور آئندہ معاشی حکمت عملی کی جانب مبذول کر دی ہے۔

دراصل ان نتائج سے مارکیٹ میں یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی اخراجات سے متعلق پالیسیوں کو محدود کرسکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کی طلب متاثر ہونے کا امکان ہے۔

امریکی انتخابات کے نتائج اور ڈالر کی کمزوری

امریکی کرنسی مارکیٹ میں حالیہ تبدیلی کی بنیادی وجہ Midterm Elections کے ابتدائی نتائج ہیں، جنہوں نے امریکی سیاسی منظرنامے کے ساتھ مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ کانگریس میں ان کی اکثریت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکومتی اخراجات اور ٹیکس پالیسیوں سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

امریکی کانگریس کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں 218 نشستیں اکثریت کے لیے کافی ہیں۔ فراہم کردہ انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، آئیووا، کنساس اور ساؤتھ کیرولائنا سمیت مختلف ریاستوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے سینیٹ میں 52 نشستیں حاصل کیں۔

اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 224 جبکہ ریپبلکنز کی 131 بتائی گئی۔ اس طرح کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی برتری نے امریکی مالیاتی پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث شروع کردی ہے۔

Commonwealth Bank of Australia کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ کے مطابق، اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو امریکی ڈالر پر مزید دباؤ آسکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں حکومتی اخراجات بڑھانے کی صلاحیت محدود ہوسکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امریکی حکومتی اخراجات، بجٹ خسارے اور قرض لینے کی ضروریات براہِ راست بانڈ مارکیٹ اور ڈالر کی قدر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر مالیاتی اخراجات میں کمی کی توقع مضبوط ہوتی ہے تو امریکی ڈالر کی طلب میں مزید کمزوری آسکتی ہے، جس سے یورو کو تقویت ملنے کا امکان ہے۔

EURUSD میں 1.1250 کی جانب پیش قدمی

انتخابی نتائج کے بعد EURUSD میں تیزی کا رجحان مضبوط ہوا اور جوڑی یورپی کاروباری اوقات میں 1.1235 کے قریب پہنچ گئی۔ مارکیٹ کی توجہ اب 1.1250 سے 1.1255 کے درمیان موجود مزاحمتی زون پر مرکوز ہے۔

اگر یورو اس سطح سے اوپر مستحکم ہونے میں کامیاب رہتا ہے تو اگلا اہم ہدف 1.1325 ہوسکتا ہے۔ یہ سطح 24 جون کی سابقہ کم ترین قیمت کے قریب واقع ہے اور خریداروں کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم، موجودہ تیزی کو ابھی مکمل رجحان کی تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ روزانہ چارٹ پر قیمت اب بھی 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج سے نیچے موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ EURUSD میں حالیہ بحالی کے باوجود درمیانی مدت کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

EURUSD کا تیکنیکی جائزہ

تیکنیکی اعتبار سے EURUSD میں حالیہ بہتری کے آثار ضرور نظر آرہے ہیں، لیکن مجموعی تکنیکی ساخت اب بھی محتاط رویے کی نشاندہی کرتی ہے۔ قیمت Bollinger Bands کی 20 روزہ درمیانی لائن سے اوپر آچکی ہے، جو مختصر مدت میں خریداری کے دباؤ میں اضافے کا اشارہ ہے۔

دوسری جانب ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس تقریباً 48.9 پر موجود ہے، جو 50 کی غیر جانبدار سطح سے قدرے نیچے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں منفی رفتار کم ہورہی ہے، تاہم ابھی خریداروں نے مکمل کنٹرول حاصل نہیں کیا۔

سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

قیمت کے لیے 1.1195 پہلی اہم سپورٹ ہے، جو Bollinger Bands کی درمیانی لائن کے قریب واقع ہے۔ اگر فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے تو اگلی سپورٹ 1.1132 پر موجود ہے، جہاں Bollinger Bands کی نچلی حد واقع ہے۔ اس سطح کے نیچے 1.1100 کی نفسیاتی حد اہم ہوگی، جبکہ مزید کمزوری کی صورت میں 12 مئی 2025 کی کم ترین قیمت 1.0951 اگلا ممکنہ ہدف بن سکتی ہے۔

اوپر کی جانب 1.1255 فوری مزاحمت ہے۔ اگر خریدار اس سطح کو عبور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو 1.1325 اگلا ہدف ہوگا۔ تاہم، زیادہ اہم مزاحمتی رکاوٹ 100-Day SMA ہے، جو تقریباً 1.1420 پر موجود ہے۔ اس سطح سے اوپر مضبوط پیش قدمی یورو کے درمیانی مدت کے رجحان میں بہتری کی تصدیق کرسکتی ہے۔

مستقبل قریب کا منظرنامہ

آنے والے سیشنز میں EURUSD کی سمت کا انحصار صرف تکنیکی سطحوں پر نہیں بلکہ امریکی سیاسی صورتحال اور حکومتی مالیاتی پالیسی سے متعلق توقعات پر بھی ہوگا۔ اگر ڈیموکریٹس کی کامیابی امریکی حکومتی اخراجات میں ممکنہ کمی اور مالیاتی نظم و ضبط کے تاثر کو مضبوط کرتی ہے تو ڈالر مزید دباؤ میں آسکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر انتخابی نتائج کے بعد مارکیٹ کی ابتدائی توقعات تبدیل ہوتی ہیں یا امریکی معاشی اعدادوشمار ڈالر کو سہارا فراہم کرتے ہیں تو یورو کی حالیہ تیزی محدود ہوسکتی ہے۔

مجموعی طور پر EURUSD کے لیے 1.1255 ایک اہم فیصلہ کن سطح بن چکی ہے۔ اس سے اوپر مستقل پیش قدمی یورو کو 1.1325 اور بعد ازاں 1.1420 کی جانب لے جاسکتی ہے، جبکہ 1.1195 سے نیچے واپسی مختصر مدت کی تیزی کو کمزور کرسکتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے امریکی انتخابی پیش رفت، ڈالر کی سمت اور اہم تکنیکی سطحوں پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ڈیموکریٹس کی یہ فتح EURUSD کو 1.1400 سے اوپر لے جانے کے لیے کافی ثابت ہوگی، یا امریکی ڈالر جلد ہی بحال ہو جائے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں.

اعلان دستبرداری

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کی طرف سے فراہم کردہ مواد، مصنفہ کی ذاتی تحقیق و تجزیے کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ امریکی الیکشنز کے بارے میں تمام اعداد و شمار کی تصدیق عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز سے کی گئی ہے۔

https://www.reuters.com/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں