GBP/USD میں کمی، کمزور UK Jobs Data کا دباؤ
★اہم نکات
- •کمزور برطانوی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد پاؤنڈ دباؤ میں آ گیا اور GBP/USD تقریباً 1.3530 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
- •اب مارکیٹ کی نظریں UK July CPI اور Fed Minutes پر ہیں۔
برطانوی پاؤنڈ (GBP) منگل کے یورپی تجارتی سیشن میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی کمی کے ساتھ تقریباً 1.3530 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ برطانیہ کے تازہ روزگار کے اعداد و شمار کے بعد پاؤنڈ پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی لیبر مارکیٹ بتدریج کمزور ہو رہی ہے۔
برطانیہ کی لیبر مارکیٹ میں کمزوری کے آثار
جون تک کے تین ماہ کے تازہ روزگار کے اعداد و شمار سے برطانیہ کی لیبر مارکیٹ میں سست روی کے اشارے مل رہے ہیں۔ ING کے تجزیہ کاروں کے مطابق اعداد و شمار میں کوئی بہت بڑا حیران کن عنصر نہیں ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ کی روزگار مارکیٹ ٹھنڈی پڑ رہی ہے۔
Payrolled employment میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم مختلف شعبوں میں صورتحال مختلف ہے۔ حکومتی شعبے میں بھرتیاں اب بھی جاری ہیں، جبکہ صارفین سے متعلق خدمات کے شعبے میں ملازمتوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ نجی شعبے کے دیگر حصوں میں روزگار تقریباً مستحکم نظر آ رہا ہے۔
بے روزگاری کی شرح میں بھی معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم برطانیہ کے Office for National Statistics (ONS) نے Labour Force Survey میں عارضی sampling مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار بے روزگاری کے اعداد و شمار کو کچھ احتیاط کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی لیبر مارکیٹ کمزور ہے جبکہ اجرتوں پر دباؤ بھی محدود ہے۔ ایسی صورتحال میں بینک آف انگلینڈ (BoE) کے لیے رواں سال شرح سود بڑھانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
UK CPI پاؤنڈ کے لیے اہم محرک بن گیا
اب مارکیٹ کی توجہ جولائی کے UK Consumer Price Index (CPI) پر ہے، جو بدھ کو جاری کیا جائے گا۔
افراطِ زر کے اعداد و شمار انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ BoE کے مستقبل کے شرح سود کے فیصلے مہنگائی کے رجحان پر کافی حد تک منحصر ہوں گے۔
اگر UK CPI توقعات سے کم آتا ہے تو BoE کی نسبتاً نرم مانیٹری پالیسی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں، جس سے برطانوی پاؤنڈ پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر افراطِ زر توقعات سے زیادہ مضبوط رہتا ہے تو پاؤنڈ کو سپورٹ مل سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار شرح سود میں کمی کی توقعات کو کم کر سکتے ہیں۔
امریکی ڈالر میں معمولی بحالی
دوسری جانب، US Dollar Index (DXY) میں بھی معمولی بحالی دیکھی جا رہی ہے اور انڈیکس تقریباً 99.65 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
تاہم ڈالر کی بحالی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کار اب بھی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی کے مستقبل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فی الحال مارکیٹ میں ستمبر کے پالیسی اجلاس میں فیڈ کی جانب سے شرح سود بڑھانے کی مضبوط توقع نہیں ہے۔
اسی لیے سرمایہ کار بدھ کو جاری ہونے والے Federal Open Market Committee (FOMC) Minutes کو بہت قریب سے دیکھیں گے۔ یہ منٹس جولائی کے اجلاس میں فیڈ حکام کے پالیسی مؤقف کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔
GBP/USD کا تکنیکی آؤٹ لک
تکنیکی لحاظ سے 1.3500، GBP/USD کے لیے ایک اہم نفسیاتی سپورٹ لیول ہے۔ اگر یہ جوڑی مسلسل اس سطح سے نیچے آتی ہے تو مزید کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب، اگر GBP/USD 1.3550–1.3600 کے علاقے سے اوپر واپس آتا ہے تو قلیل مدتی آؤٹ لک بہتر ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں دوبارہ خریداری کا رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔
فی الحال ٹریڈرز کو UK CPI، FOMC Minutes، BoE کی شرح سود کی توقعات اور امریکی ڈالر کی حرکت پر خاص توجہ دینی چاہیے، کیونکہ یہ عوامل GBP/USD کی اگلی بڑی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
مجموعی طور پر، GBP/USD پر فی الحال دباؤ برقرار ہے کیونکہ برطانیہ کی کمزور لیبر مارکیٹ نے پاؤنڈ کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ اب UK July CPI اور Fed Minutes جوڑی کی اگلی سمت کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ 1.3500 اہم سپورٹ ہے، جبکہ 1.3550–1.3600 کے اوپر واپسی پاؤنڈ کی بحالی کا اشارہ دے سکتی ہے۔
📰 مزید پڑھیں: EUR/USD میں تیزی، ڈالر کمزور
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔