Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

GBPUSD میں تیزی برقرار، عالمی عوامل کی وجہ سے امریکی ڈالر دباؤ کا شکار

★اہم نکات

  • •GBPUSD ایک ہفتے سے جاری اضافے کے بعد 1.3400 کی نفسیاتی سطح کے قریب مستحکم ہے۔
  • •امریکی بانڈز کے منافع میں کمی کے باعث US Dollar کی قوت متاثر ہوئی ہے، جس سے برطانوی پاؤنڈ کو سہارا ملا ہے۔
  • •برطانیہ میں ستمبر کے دوران افراط زر 11 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے Bank Of England کی جانب سے نومبر میں شرح سود بڑھانے کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔
  • •مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات عالمی افراط زر اور شرح سود سے متعلق توقعات کو متاثر کر رہے ہیں۔
  • •تکنیکی اعتبار سے 1.3404 فوری مزاحمت، جبکہ 1.3389 اور 1.3341 اہم سپورٹ کی سطحیں ہیں۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

100 مشاہدات

برطانوی پاؤنڈ، یورو اور امریکی ڈالر کے ساتھ مرکزی بینکوں کی عمارتیں اور برطانیہ، یورپ اور امریکہ کے پرچم۔
برطانوی پاؤنڈ، یورپی مرکزی بینک، امریکی ڈالر اور فیڈرل ریزرو کی عکاسی

برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر کی جوڑی GBPUSD آج یورپی سیشن کے آغاز میں 1.3400 کی سطح سے ذرا نیچے مستحکم رہی، جبکہ قیمت 16 ستمبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی بانڈز کے منافع میں کمی سے US Dollar کی طلب کمزور پڑ رہی ہے، جبکہ برطانیہ میں افراط زر کی شرح بڑھنے سے Bank Of England کی جانب سے نومبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات مضبوط ہوئے ہیں۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امریکی مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں سے متعلق غیر یقینی صورت حال پاؤنڈ کی مزید تیزی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

GBPUSD میں تیزی کی وجوہات

درحقیقت US Dollar حالیہ سیشنز میں دباؤ کا شکار رہا اور منگل کو تقریباً تین ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب موجود رہا۔ امریکی بانڈز کے منافع میں کمی نے ڈالر کی کشش کو محدود کیا، جس کے نتیجے میں پاؤنڈ کو اپنی حالیہ تیزی برقرار رکھنے کا موقع ملا۔

عام طور پر امریکی بانڈز کے منافع میں کمی ڈالر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر سے منسلک اثاثوں کی متوقع آمدن متاثر ہوتی ہے۔ تاہم، موجودہ صورت حال میں ڈالر کی مزید کمزوری کا انحصار امریکی شرح سود کے مستقبل اور عالمی خطرات سے متعلق سرمایہ کاروں کے رویے پر بھی ہوگا۔

برطانیہ میں افراط زر اور شرح سود کا کردار

برطانوی پاؤنڈ کی مضبوطی میں UK Inflation کا کردار اہم ہے۔ ستمبر میں برطانیہ کی افراط زر کی شرح 11 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مارکیٹ میں یہ توقع مضبوط ہوئی ہے کہ Bank Of England (BoE) نومبر میں شرح سود بڑھا سکتا ہے۔

شرح سود میں اضافے کے امکانات برطانوی پاؤنڈ کو تقویت دے سکتے ہیں، کیونکہ زیادہ شرح سود ملکی کرنسی سے منسلک سرمایہ کاری کو نسبتاً پرکشش بنا سکتی ہے۔ تاہم، مرکزی بینک کا حتمی فیصلہ افراط زر کے تسلسل، معاشی نمو اور دیگر دستیاب اعداد و شمار پر منحصر ہوگا۔

اگر آنے والے اعداد و شمار قیمتوں کے دباؤ میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں تو پاؤنڈ کو اضافی سہارا مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس، معاشی سرگرمیوں میں کمزوری یا شرح سود سے متعلق توقعات میں تبدیلی موجودہ تیزی کو محدود کر سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں کے اثرات

عالمی فنانشل مارکیٹس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے منصفانہ حل کے لیے سنجیدہ خواہش کے واضح شواہد ملیں تو تہران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب، The New York Times کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ اس رپورٹ سے متعلق پیش رفت خطے میں خطرات کے بارے میں سرمایہ کاروں کی تشویش کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں کو سہارا مل سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر افراط زر کے خدشات بڑھنے کا امکان ہے۔ ایسی صورت حال میں مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود سے متعلق فیصلے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جبکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب بھی رجوع کر سکتے ہیں۔

Federal Reserve کی پالیسی بھی اہم

امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق توقعات بھی GBPUSD کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ فراہم کردہ مارکیٹ معلومات کے مطابق، CME FedWatch Tool میں سرمایہ کار دسمبر میں امریکی شرح سود بڑھنے کا تقریباً 90 فیصد امکان ظاہر کر رہے تھے۔

اگر یہ توقعات برقرار رہتی ہیں تو امریکی ڈالر کو ممکنہ طور پر سہارا مل سکتا ہے، جس سے پاؤنڈ کی تیزی محدود ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، امریکی بانڈز کے منافع میں مزید کمی اور شرح سود سے متعلق توقعات میں نرمی ڈالر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

اس طرح، GBPUSD کو ایک طرف برطانیہ کی مانیٹری پالیسی سے حمایت حاصل ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی شرح سود اور عالمی سیاسی خطرات اس کے اگلے رجحان کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

GBPUSD کی تکنیکی صورتحال اور اہم لیولز

تکنیکی چارٹ کے مطابق، GBPUSD کی قیمت 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج کے قریب 1.3389 کی سطح سے قدرے اوپر موجود ہے۔ یہ سطح قریبی سپورٹ کے طور پر اہم ہے، تاہم قیمت کا اس اوسط سے اوپر رہنا بذات خود مسلسل تیزی کی ضمانت نہیں دیتا۔

قیمت اس وقت Fibonacci Retracement کی 50 فیصد سطح 1.3404 کے نیچے اور 38.2 فیصد سطح 1.3341 کے اوپر محدود دائرے میں حرکت کر رہی ہے۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کسی واضح سمت کے انتخاب سے پہلے استحکام کے مرحلے میں ہے۔

اوپر کی جانب مزاحمت کی سطحیں

اگر پاؤنڈ 1.3404 کی مزاحمت عبور کرکے اس کے اوپر برقرار رہتا ہے تو اگلا ہدف 1.3467 کی سطح ہو سکتا ہے، جو Fibonacci کی 61.8 فیصد سطح ہے۔ اس کے بعد 1.3557 کی سطح پر مزاحمت سامنے آ سکتی ہے، جبکہ مزید مضبوط تیزی کی صورت میں 1.3672 کا سابقہ بلند ترین علاقہ اہم ہوگا۔

ان سطحوں سے اوپر پائیدار پیش رفت کے لیے خریداری میں تسلسل اور امریکی ڈالر کی کمزوری برقرار رہنا اہم ہوگا۔

نیچے کی جانب سپورٹ اور ممکنہ خطرات

اگر GBPUSD موجودہ سطح سے نیچے آتا ہے تو 1.3389 پر موجود 100 سمپل موونگ ایوریج پہلی اہم سپورٹ ہوگی۔ اس کے بعد 1.3341 کی سطح پر خریداروں کی دلچسپی دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر قیمت 1.3341 سے بھی نیچے چلی جاتی ہے تو اگلی سپورٹ 1.3263 پر موجود ہے، جبکہ 1.3137 کا علاقہ نسبتاً دور کی اہم تکنیکی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔

ان سپورٹ سطحوں کے ٹوٹنے سے موجودہ تیزی کمزور پڑ سکتی ہے اور مارکیٹ میں مزید فروخت کا دباؤ پیدا ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

مستقبل قریب میں GBPUSD کی سمت

قلیل المدتی بنیادوں پر GBPUSD کی حرکت کا انحصار برطانیہ کے افراط زر سے متعلق مزید اعداد و شمار، Bank Of England اور Federal Reserve کی پالیسی توقعات، امریکی بانڈز کے منافع اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر ہوگا۔

اگر برطانوی شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط رہتی ہیں اور امریکی ڈالر دباؤ میں رہتا ہے تو پاؤنڈ کے لیے 1.3404 کی مزاحمت عبور کرنے کا امکان بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی ڈالر کی طلب میں بحالی یا عالمی سیاسی خطرات میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان پاؤنڈ کی تیزی محدود کر سکتا ہے۔

فی الحال قیمت کا 1.3400 کے قریب مستحکم رہنا مثبت رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اگلی بڑی حرکت کے لیے 1.3404 ایک اہم تیکنیکی لیول ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بینک آف انگلینڈ نومبر میں شرح سود بڑھا کر پاؤنڈ کو 1.3500 سے اوپر لے جانے میں کامیاب ہو جائے گا، یا فیڈرل ریزرو کا دسمبر کا خطرہ امریکی ڈالر کو دوبارہ مضبوط کرے گا؟ کمنٹس باکس میں اپنی رائے کا اظہار کر کے اپنی اسٹریٹیجی شیئر کریں۔

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

FXStreet - The Forex Market

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں