US Dollar فیڈ کے اجلاس کی تفصیلات سے پہلے کمزور
★اہم نکات
- •امریکی ڈالر FOMC منٹس سے پہلے دباؤ میں ہے، جبکہ DXY 99.45 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
- •ٹریڈرز فیڈ کے اگلے شرحِ سود کے فیصلے اور امریکی معاشی اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
US Dollar امریکی ڈالر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور نظر آ رہا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کی نظریں فیڈرل ریزرو کے جولائی اجلاس کے FOMC منٹس پر ہیں، جو آج 18:00 GMT پر جاری ہوں گے۔ ٹریڈرز ان منٹس سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ فیڈ حکام آنے والے مہینوں میں شرحِ سود کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔
ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 99.45 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ چند روز قبل یہ 99.29 کی دو ماہ کی کم ترین سطح تک بھی گر گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر کو فی الحال خریداروں کی مضبوط حمایت حاصل نہیں ہے۔
FOMC منٹس کیوں اہم ہیں؟
جولائی کے اجلاس میں فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کی حد میں برقرار رکھا تھا۔ مرکزی بینک نے افراطِ زر میں دوبارہ اضافے کے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
اب سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فیڈ حکام کے درمیان اس فیصلے پر کتنی بحث ہوئی اور مستقبل کی پالیسی کے بارے میں ان کی سوچ کیا ہے۔
اگر منٹس میں افراطِ زر کے حوالے سے سخت مؤقف نظر آتا ہے تو ڈالر کو عارضی سپورٹ مل سکتی ہے۔ لیکن اگر فیڈ حکام مستقبل میں شرحِ سود کم کرنے کے لیے زیادہ تیار نظر آتے ہیں تو ڈالر پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
کیا FOMC منٹس ڈالر کا رجحان بدل سکتے ہیں؟
یہ اس وقت ٹریڈرز کے لیے سب سے اہم سوالات میں سے ایک ہے۔ تاہم مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ FOMC منٹس شاید ڈالر کے لیے کوئی بڑا گیم چینجر ثابت نہ ہوں۔
ING کے مطابق جولائی کے اجلاس میں شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ 9-3 ووٹ سے ہوا تھا۔ مجموعی طور پر اس اجلاس کا اثر ڈالر کے لیے نسبتاً نرم رہا۔
اس لیے اگر منٹس میں کچھ سخت گیر بیانات بھی سامنے آتے ہیں تو وہ مختصر مدت میں ڈالر کو سپورٹ دے سکتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ڈالر کا مجموعی رجحان مکمل طور پر تبدیل ہو جائے۔
ستمبر کا فیڈ فیصلہ اہم ہوگا
اب مارکیٹ کی نظریں ستمبر کے فیڈ اجلاس پر بھی ہیں۔ موجودہ مارکیٹ توقعات کے مطابق تقریباً 67 فیصد امکان ہے کہ فیڈ ستمبر میں بھی شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔
لیکن آنے والے معاشی اعداد و شمار کے ساتھ یہ توقعات تبدیل ہو سکتی ہیں۔
اگر امریکی افراطِ زر توقع سے زیادہ بڑھتی ہے تو فیڈ کے لیے شرحِ سود کم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال میں ڈالر کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف، اگر افراطِ زر کم ہوتی ہے اور روزگار کا ڈیٹا بھی کمزور آتا ہے تو شرحِ سود میں کمی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں، جس سے ڈالر پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
امریکی CPI اور روزگار کا ڈیٹا اہم ہوگا
FOMC منٹس کے بعد ٹریڈرز کی توجہ امریکی CPI اور روزگار کے اعداد و شمار پر منتقل ہو جائے گی۔
یہ رپورٹس اس بات کو سمجھنے میں مدد کریں گی کہ فیڈ ستمبر میں کیا فیصلہ کر سکتا ہے۔
مضبوط CPI فیڈ کو شرحِ سود بلند رکھنے کی وجہ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور افراطِ زر شرحِ سود میں کمی کی توقعات کو مضبوط کر سکتی ہے۔
اسی طرح مضبوط روزگار کا ڈیٹا ڈالر کو سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ لیبر مارکیٹ میں نمایاں کمزوری ڈالر کے لیے منفی ثابت ہو سکتی ہے۔
Jackson Hole پر بھی نظر
ماہ کے آخر میں ہونے والا Jackson Hole Symposium بھی اہم رہے گا۔ سرمایہ کار فیڈ حکام کے بیانات کو غور سے سنیں گے کیونکہ ان کے تبصرے مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے بارے میں اہم اشارے دے سکتے ہیں۔
اگر فیڈ افراطِ زر کو اب بھی بڑا خطرہ سمجھتا ہے تو ڈالر کو سپورٹ مل سکتی ہے۔ لیکن اگر پالیسی میں نرمی کے امکانات بڑھتے نظر آئے تو ڈالر مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
US Dollar کا تکنیکی جائزہ
چارٹ کے مطابق DXY اس وقت مضبوط پوزیشن میں نہیں ہے۔ انڈیکس تقریباً 99.43 پر ہے اور اپنی 20-day EMA، جو 100.03 پر ہے، سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔
یہ 100.03 کی سطح اب ڈالر کے لیے پہلی اہم مزاحمت بن گئی ہے۔
اگر DXY اس سطح کو دوبارہ حاصل کر لیتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اس کے اوپر کلوز کرتا ہے تو ڈالر میں ریکوری کی امید بڑھ سکتی ہے۔
لیکن اگر انڈیکس 100.03 سے نیچے ہی رہتا ہے تو قلیل مدتی منفی رجحان برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

99.00 اہم سپورٹ
دوسری جانب 99.00 ایک اہم نفسیاتی سپورٹ ہے۔
اگر US Dollar اس سطح سے نیچے واضح بریک دیتا ہے تو ڈالر پر فروخت کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور انڈیکس نئی کم ترین سطحوں کی طرف جا سکتا ہے۔
تاہم اگر 99.00 کے قریب خریدار دوبارہ متحرک ہوتے ہیں تو ڈالر میں مختصر مدتی ریکوری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
RSI کیا بتا رہا ہے؟
DXY کا RSI تقریباً 35.95 پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کافی مضبوط ہے، لیکن انڈیکس ابھی مکمل طور پر Oversold زون میں نہیں پہنچا۔
اگر RSI مزید نیچے جاتا ہے تو ڈالر کی کمزوری بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، اگر RSI میں بہتری آتی ہے اور DXY 99.00 سے اوپر برقرار رہتا ہے تو یہ ریکوری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈالر کی اگلی سمت کیا ہوگی؟
مختصر مدت میں ڈالر کی حرکت FOMC منٹس کے ردِعمل سے متاثر ہو سکتی ہے، لیکن اس کا بڑا رجحان صرف آج کے منٹس سے طے نہیں ہوگا۔
آنے والا CPI، روزگار کا ڈیٹا اور Jackson Hole Symposium زیادہ اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار امریکی معیشت کی مضبوطی ظاہر کرتے ہیں تو ڈالر کو دوبارہ خریدار مل سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر افراطِ زر اور روزگار دونوں میں کمزوری آتی ہے تو فیڈ کی شرحِ سود میں کمی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں، جس سے ڈالر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
نتیجہ
فی الحال امریکی ڈالر FOMC منٹس سے پہلے دباؤ میں ہے اور US Dollar 99.45 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ آج کے منٹس مارکیٹ میں عارضی اتار چڑھاؤ ضرور پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ڈالر کی اصل سمت آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار سے زیادہ واضح ہوگی۔
تکنیکی اعتبار سے 100.03 اہم مزاحمت ہے، جبکہ 99.00 اہم سپورٹ ہے۔ اگر 100.03 US Dollar سے اوپر واپس آتا ہے تو ریکوری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ 99.00 سے نیچے بریک ڈالر کی کمزوری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
فی الحال ٹریڈرز کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی افراطِ زر اور روزگار کے اعداد و شمار فیڈ کے اگلے فیصلے کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ یہی عوامل آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر اور مجموعی فاریکس مارکیٹ کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
📰 مزید پڑھیں: گوگل کے پاکستان میں پہلے باقاعدہ دفتر کا آغاز ، 30 ارب ڈالر کے آئی ٹی برآمدی ہدف کو تقویت
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔