فیڈ چیئرمین کے خطاب اور BOJ کے اقدامات سے قبل جاپانی ین دباؤ کا شکار۔
★اہم نکات
- •ڈالر کی پیش قدمی: امریکہ میں ستمبر کے پی پی آئی (PPI) کے اعداد و شمار 6.3% سالانہ (YoY) تک پہنچنے کے بعد USDJPY نفسیاتی مزاحمت 158.10کے قریب پہنچ گیا ہے، جو چار سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
- •فیڈ کا سخت موقف: افراط زر کے دباؤ کی وجہ سے مارکیٹ کے سرمایہ کار سال کے اختتام سے قبل فیڈرل ریزرو کی طرف سے مزید ایک شرح سود میں اضافے (Rate Hike) کی توقع کر رہے ہیں۔
- •بینک آف جاپان کی ہاکش پالیسی: BoJ بورڈ ممبر جونکو کوئیدا (Junko Koeda) نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی بینک کو شرح سود بڑھانے میں حد سے زیادہ محتاط نہیں ہونا چاہیے اور نیوٹرل ریٹ 1% سے نمایاں طور پر اوپر ہے۔
- •ٹیکنیکل رکاوٹ: USDJPY کی قیمت فی الحال 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج بمقام 159.45 اور بولنگر بینڈ کے اوپری حصے کے نیچے محدود (Capped) ہے، جبکہ 157.95 پر فوری سپورٹ موجود ہے۔
جمعہ کی ابتدائی ایشیائی تجارتی نشست کے دوران USDJPY جوڑا مضبوطی حاصل کرتے ہوئے 158.10 کے قریب پہنچ گیا ہے۔ امریکہ میں توقعات سے زیادہ مثبت پی پی آئی (PPI) کے اعداد و شمار نے جہاں امریکی ڈالر (Greenback) کو نئی طاقت بخشی ہے، وہیں بینک آف جاپان (BoJ) کے حکام کی طرف سے شرح سود میں اضافے کے واضح اشاروں نے جاپانی ین (JPY) کو نچلی سطح پر سہارا فراہم کیا ہے۔
اس مضمون میں ہم امریکی معیشت کے افراط زر (Inflation) کے تازہ ترین اعداد و شمار، فیڈ چیئر کیون وارش (Kevin Warsh) کے متوقع خطاب کے اثرات، بینک آف جاپان کی مانیٹری پالیسی میں سٹریٹجک تبدیلیوں اور USDJPY کے تیکنیکی انڈیکیٹرز کا جامع اور باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔
امریکی افراط زر اور فیڈرل ریزرو کا کردار
امریکی معیشت میں افراط زر کے دباؤ میں اچانک و غیر متوقع اضافہ سامنے آیا ہے۔ امریکہ کے بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس (Bureau Of Labor Statistics) کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، ستمبر میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) سالانہ بنیادوں پر 6.3% بڑھا۔ یہ ستمبر 2022 کے بعد سے کسی بھی ایک ماہ میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اگست کا اعداد و شمار بھی 5.4% سے ترمیم ہو کر 5.6% ہو گیا تھا، جبکہ معاشی ماہرین کا اندازہ 5.3% تھا، جس نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔
جب ہول سیل یا پیداواری سطح پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ بالآخر صارف سطح پر سی پی آئی (CPI) کی شکل میں منتقل ہوتی ہیں۔ حالیہ سی پی آئی ارقام بھی توقعات سے تجاوز کر چکے ہیں، جس نے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کے ہاکش (Hawkish) موقف کو تقویت دی ہے۔
امریکی پی پی آئی (PPI) کا 6.3% تک بڑھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صنعتی اور پیداواری سطح پر لاگت بڑھ رہی ہے۔ یہ صورتحال فیڈرل ریزرو کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو طویل عرصے تک سخت رکھے اور سال کے اختتام سے قبل شرح سود میں کم از کم 25 بنیادی پوائنٹس (0.25%) کا مزید اضافہ کرے۔
CME FedWatch ٹول کے مطابق، فیڈرل فنڈز ریٹ فیوچرز اب اس بات کا قوی امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ سال کے اختتام سے پہلے شرح سود میں کم از کم ایک بار اضافہ کیا جائے گا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس منظرنامے کے امکانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے امریکی ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔
بینک آف جاپان (BoJ) کا بدلتا موقف
اگرچہ امریکی ڈالر کو مضبوط ڈیٹا کی حمایت حاصل ہے، لیکن جاپانی ین کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بینک آف جاپان (BoJ) کے مانیٹری پالیسی کا جھکاؤ اب منفی یا صفر شرح سود کے دور سے نکل کر نارملائزیشن (Policy Normalization) کی طرف گامزن ہے۔
بینک آف جاپان کی پالیسی میکر جونکو کوئیدا (Junko Koeda) نے کوماموٹو میں مقامی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی اہم اور جارحانہ نکات اٹھائے، اور انہوں نے واضح کیا کہ معاشی اعداد و شمار مضبوط ہو رہے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کے خطرات اوپر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
جونکو کوئیدا کے خطاب کے مطابق مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ (Policy Rate) میں بر وقت اضافہ کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے، اور انہوں نے متنبہ کیا کہ حد سے زیادہ محتاط رویہ معاشی توازن کو خراب کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اشارہ دیا کہ جاپان کے لیے نیوٹرل شرح سود کا تخمینہ 1% سے "نمایاں طور پر اوپر" (Considerably Above 1%) ہے۔
چونکہ موجودہ پالیسی ریٹ 1.25% پر ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں شرح سود میں مزید اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے تاکہ بنیادی افراط زر (Underlying Inflation) 2% کے پائیدار ہدف سے اوپر نہ نکلے۔
FXS Speechtracker کے مطابق، جونکو کوئیدا کے خطاب کا سکور 8.2/10 رہا، جو تاریخی اوسط کے برابر ہے لیکن جاپان کی روایتی طور پر نرم مانیٹری پالیسی (Accommodative Policy) کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک واضح ہاکش اشارہ ہے۔
مجموعی طور پر، ایم یو ایف جی (MUFG) کے معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ BoJ اس ماہ کے اجلاس میں شرح سود کو مستحکم رکھ سکتا ہے، لیکن دسمبر تک ایک اور شرح سود کا اضافہ (Rate Hike) یقینی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اقدام جاپانی ین کو طویل المدتی بنیادوں پر مضبوط سہارا فراہم کرے گا۔
تیکنیکی جائزہ، سپورٹ اور مزاحمت کی سطحیں
USDJPY کا روزانہ چارٹ (Daily Chart) اس وقت ایک دلچسپ کشمکش کو ظاہر کر رہا ہے۔ بنیادی فنڈامنٹلز امریکی ڈالر کے حق میں ہیں، لیکن تکنیکی اشاریے اور ین کی بنیادیں قیمت کو ایک محدود رینج میں رکھ رہی ہیں۔

جہاں تک بنیادی مزاحمتی سطحوں کا تعلق ہے، بولنجر بینڈ (Bollinger Band) کا اوپری حصہ 158.85 کے قریب واقع ہے، اور جب تک قیمت اس سطح کو توڑ کر اوپر بند نہیں ہوتی، خریداروں (Bulls) کے لیے رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ اس کے اوپر، اہم ترین مزاحمت سمپل موونگ ایوریج 159.45 کے نقطے پر موجود ہے، جہاں سے ایک پائیدار اور مضبوط بریک آؤٹ (Breakout) ہی USDJPY کو 160.00 کی نفسیاتی حد کی طرف لے جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، بنیادی سپورٹ لیولز میں 157.95 کا لیول پہلی اہم سپورٹ فراہم کرتا ہے جہاں بولنگر بینڈ کا درمیانی حصہ (Middle Band) اور 20-دیہی موونگ ایوریج واقع ہیں۔ اگر قیمت اس سطح کو نیچے کی طرف توڑتی ہے تو 157.05 پر موجود بولنجر بینڈ کا نچلا حصہ دوسری اہم ترین سپورٹ کا کام کرے گا۔
اس دوران، روزانہ کی بنیاد پر ریلیٹو سٹرینتھ انڈیکس (RSI) 53.23 پر غیر جانبدار (Neutral) زون میں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ فی الحال خریداروں اور فروخت کنندگان کے توازن کے ساتھ کسی بڑی خبر کا انتظار کر رہی ہے۔
حاصل کلام
مجموعی طور پر، USDJPY کا موجودہ ماحول ایک دوہرے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف امریکی معیشت کا گرم افراط زر (PPI اور CPI) امریکی ڈالر کو 158.10 سے اوپر لے جانے کے لیے پرعزم ہے، تو دوسری طرف بینک آف جاپان کی کوئیدا جیسے پالیسی سازوں کے ہاکش بیانات ین کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دے رہے ہیں۔
ٹیکنیکل طور پر، جب تک USDJPY 100 سمپل موونگ ایوریج سے نیچے ہے، اس کی بالائی پیش قدمی محدود رہے گی۔ ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ فیڈ چیئر کے آنے والے خطاب اور بینک آف جاپان کے اگلے اقدامات پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ یہی عوامل اس کرنسی جوڑے کی اگلی بڑی سمت کا تعین کریں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈرل ریزرو کا سخت موقف USDJPY کو 160.00 کی نئی اونچائی تک لے جائے گا، یا بینک آف جاپان کی شرح سود میں اضافے کی حکمت عملی ین کو واپس 155.00 کی طرف دھکیل دے گی؟ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں ضرور شیئر کریں!
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پرمعاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ مضامین
3 مضامین
GBPUSD کی قدر میں تیزی، چیئرمین فیڈ کے بیانات میں نرم مانیٹری پالیسی کے اشارے
GBPUSD کی قدر میں تیزی، چیئرمین فیڈ کے بیانات میں نرم مانیٹری پالیسی کے اشارے
EURUSD کی بحالی: پی پی آئی ڈیٹا اور کیون وارش کے خطاب سے قبل مارکیٹ کی صورتحال
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔