Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

USDJPY پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور فیڈ پالیسی کے اثرات

★اہم نکات

  • •خام تیل کا اثر: جاپان اپنی ضرورت کا تقریباً تمام خام تیل درآمد کرتا ہے۔ برینٹ کروڈ کی 107 ڈالر فی بیرل تک پیش قدمی نے ین پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس سے USDJPY میں تیزی آئی۔
  • •سود کی شرح کا فرق (Interest Rate Gap): امریکی فیڈرل ریزرو (3.75%-4.00%) اور بینک آف جاپان (1.25%) کے درمیان شرح سود کا 2.5 فیصد سے زائد کا فرق کیری ٹریڈ کو فروغ دے رہا ہے۔
  • •اسپیکولیٹرز کے پوزیشنز: CFTC ڈیٹا کے مطابق اسپیکولیٹرز کے پاس 62.3K نیٹ لونگ ین کانٹریکٹس ہیں، لیکن ٹوکیو کی غیر موجودگی اور مداخلت نہ ہونے سے ڈالر مضبوط ہوا ہے۔
  • •ٹیکنیکل صورتحال: 1 گھنٹے کے چارٹ پر Bullish Trend برقرار ہے۔ 158.00 اہم سپورٹ لیول ہے جبکہ 159.00 اور 160.00 اوپر کی جانب اہم ہدف یا مزاحمت ہیں۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

75 مشاہدات

بینک آف جاپان کی عمارت، جاپانی پرچم، ین کے سکے، جاپانی کرنسی نوٹ، ماؤنٹ فوجی اور مالیاتی کینڈل اسٹک چارٹ پر مشتمل تصویر۔
جاپانی ین، بینک آف جاپان، شرح سود اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال، ٹوکیو کی معیشت اور کرنسی مارکیٹ کے اہم رجحانات۔

ٹوکیو اور امریکی بانڈ مارکیٹ کی چھٹی کے باوجود فاریکس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نظر آ رہا ہے۔ امریکی ڈالر بمقابلہ جاپانی ین (USDJPY) 158.60 کی سطح کے قریب ٹریڈ کرتا ہوا نظر آیا، جو 24 ستمبر کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس تیزی کے پیچھے خام تیل (Brent Crude Oil) کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بینک آف جاپان (BoJ) کی پالیسی اور متوقع امریکی سی پی آئی (US CPI) کے اعداد و شمار شامل ہیں۔ اس مضمون میں ہم بنیادی اور تیکنیکی دونوں پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

ٹوکیو کی چھٹی اور خام تیل میں تیزی: ین میں گراوٹ کی وجوہات

ٹوکیو میں ہیلتھ اینڈ اسپورٹس ڈے اور امریکہ میں کولمبس ڈے کی وجہ سے دونوں ممالک کی بانڈ مارکیٹس بند تھیں، لیکن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر نے جاپانی ین کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ برینٹ کروڈ آئل جب 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تو USDJPY کی جوڑی 158.60 کی سطح تک پہنچ گئی۔

جاپان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے تقریباً تمام خام تیل باہر کے ممالک سے ڈالر میں خریدتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو جاپانی کمپنیوں کو تیل خریدنے کے لیے زیادہ ڈالر درکار ہوتے ہیں اور ین بیچنا پڑتا ہے۔ اس عمل کو مارکیٹ میں ٹریڈنگ فلو کہا جاتا ہے۔

جیو پولیٹیکل کشیدگی جیسے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملے اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے واقعات نے خام تیل کو 103 ڈالر سے اٹھا کر 107 ڈالر تک پہنچایا، جس کا براہ راست نقصان جاپانی ین کو ہوا۔

بینک آف جاپان اور امریکی فیڈ، شرح سود میں فرق

کرنسی کی قیمت کا سب سے بڑا ڈرائیور دو ممالک کے درمیان سود کی شرح کا فرق ہوتا ہے۔ امریکہ اور جاپان کے درمیان 2.5 فیصد سے زائد کا یہ فرق سرمایہ کاروں کو کیری ٹریڈ کی ترغیب دیتا ہے۔

سرمایہ کار کم سود والی کرنسی یعنی ین سے قرض لے کر زیادہ سود دینے والی کرنسی یعنی ڈالر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جس کی وجہ سے USDJPY کو مستقل سپورٹ ملتی رہتی ہے۔ جہاں تک فیڈرل ریزرو کی موجودہ شرح سود 3.75% سے 4.00% کے درمیان ہے، وہیں بینک آف جاپان کی شرح 1.25% پر برقرار ہے، جو اس فرق کو مزید گہرا کرتی ہے۔

کیا BOJ دوبارہ مداخلت کر سکتا ہے؟

جاپانی وزارت خزانہ نے جولائی سے اگست کے دوران ین کو سنبھالنے کے لیے 15.4 ٹریلین ین خرچ کیے، جو تاریخ میں ایک ماہ کی سب سے بڑی مداخلت تھی۔ اس وقت یہ خریداری USDJPY کے 164.00 کے قریب پہنچنے پر شروع کی گئی تھی۔

کمودیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کی 6 اکتوبر تک کی رپورٹ کے مطابق اسپیکولیٹرز کے پاس 62.3K نیٹ لونگ فیوچرز کانٹریکٹس موجود تھے یعنی وہ ین کی مضبوطی پر شرط لگا رہے ہیں، اور اس ہفتے کے دوران مزید 6.9K کانٹریکٹس کا اضافہ کیا گیا، جس کی کل مالیت تقریباً 779 ارب ین بنتی ہے۔

تاہم، بینکاک میں IMF اور G20 کے اجلاسوں کی وجہ سے جاپانی حکام فی الحال خاموش نظر آتے ہیں۔ نائب وزیر خزانہ میمورا اور وزیر خزانہ کاتایاما کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر USDJPY دوبارہ 160.00 کی سطح کو پار کرتا ہے تو ٹوکیو کی طرف سے دوبارہ زبردست مداخلت دیکھنے مل سکتی ہے۔

جاپانی معیشت اور بینک آف جاپان کی اندرونی حکمت عملی

بینک آف جاپان کے بورڈ ممبران کے درمیان سود کی شرح بڑھانے پر ملا جلا ردعمل ہے۔ 18 ستمبر کی میٹنگ میں شرح سود 1.25% کرنے کے خلاف ووٹ دینے والی بورڈ ممبر ساتو نے حال ہی میں اپنے موقف میں تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ جاپانی گھرانوں کے اخراجات میں مسلسل 9ویں مہینے کمی دیکھی گئی ہے، لیکن خام تیل کی بڑھتی قیمتیں افراط زر کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں، اس لیے مراحل میں شرح سود بڑھانا درست فیصلہ ہوگا۔ باخبر ذرائع کے مطابق 30 اکتوبر کی میٹنگ میں BoJ شرح سود کو برقرار رکھے گا، جبکہ دسمبر کی میٹنگ میں 0.25% اضافے کا قوی امکان ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم تاکایچی پارلیمنٹ سے اپریل 2027 سے دو سال کے لیے کھانے پینے کی اشیاء پر کنزیومر ٹیکس 8% سے گھٹا کر 1% کرنے کی درخواست کر سکتی ہیں۔ اس منصوبے پر تقریباً 10 ٹریلین ین کی لاگت آئے گی۔ مارکیٹ میں یہ تشویش ہے کہ ٹیکس میں کمی سے جاپان کا سرکاری قرضہ بڑھے گا اور بونڈز کے بوجھ کی وجہ سے ین مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

US CPI اور فیڈ کے بیانات

اس ہفتے فاریکس مارکیٹ کی نظریں امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے اہلکاروں کی تقاریر پر لگی ہوئی ہیں۔ بدھ کے روز جاری ہونے والے US CPI ڈیٹا کا اندازہ یہ ہے کہ ہیڈ لائن سی پی آئی 0.6% MoM اور 3.7% YoY ہوگی جو اگست کے 3.4% سے زیادہ ہے، جبکہ کور سی پی آئی 0.2% MoM اور 2.5% YoY رہنے کی توقع ہے۔

اگر سی پی آئی 3.7% یا اس سے اوپر آتا ہے تو دسمبر میں فیڈ کے ریٹ ہائیک کا امکان 80% سے تجاوز کر جائے گا، جس سے امریکی ڈالر کو مزید طاقت ملے گی۔ منگل کے روز فیڈ گورنر والین کی تقریر جبکہ جمعرات کو BoJ بورڈ ممبر کوئیڈا کی تقریر، امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس جو کہ متوقع 5.4% YoY ہے، اور ریٹیل سیلز جاری ہوں گی۔ جمعہ کے روز فیڈ چیئرمین وارش IMF میں تقریر کریں گے، جو کہ فیڈ کے 27-28 اکتوبر کے اجلاس سے قبل عوامی بیانات کا آخری موقع ہوگا۔

USDJPY کا تیکنیکی جائزہ

USDJPY کا ٹیکنیکل آؤٹ لک شارٹ ٹرم اور میڈیم ٹرم میں واضح Bullish Signals دے رہا ہے، تاہم کچھ انڈیکیٹرز اوور بوٹ صورتحال کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔ روزانہ کے چارٹ پر پہلا اہم مزاحمتی لیول 158.50 سے 159.00 کا زون ہے، جو 24 ستمبر کی اعلیٰ ترین سطح بھی ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر بند ہوتی ہے تو اگلا ہدف 160.00 کی نفسیاتی سطح ہوگی۔ 158.00 کا لیول جہاں 50 دن کی EMA موجود ہے، ایک مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے۔

سپورٹ، مزاحمتی سطحیں اور مومینٹم انڈیکیٹرز

اگر قیمت 157.50 سے نیچے روزانہ کی بنیاد پر بند ہوتی ہے تو تیزی کا رجحان یعنی Bullish Trend ختم ہو جائے گا۔ روزانہ کے چارٹ پر Stoch RSI بھی 85 سے گر کر 72 پر آگیا ہے جبکہ قیمت اوپر جا رہی ہے، جو مومینٹم اور قیمت کے درمیان ڈائیورجنس کو ظاہر کرتی ہے، یعنی یہاں احتیاط کی ضرورت ہے۔

1 گھنٹے کے چارٹ پر USDJPY اس وقت 158.71 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جہاں 100 روزہ موونگ ایوریج 158.21 پر موجود ہے اور شارٹ ٹرم ٹرینڈ کو اوپر رکھ رہی ہے، جبکہ 200 روزہ سمپل موونگ ایوریج 158.03 پر مضبوط فلور فراہم کر رہا ہے۔ ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس 70 کے قریب ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ اوور بوٹ زون میں داخل ہو چکی ہے اور فوری طور پر ہلکا سا پل بیک ممکن ہے۔

حاصل کلام

USDJPY کا حالیہ بریک آؤٹ محض ایک تکنیکی نکتہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، امریکہ اور جاپان کے سود کی شرح میں وسیع فرق، اور ٹوکیو کی عارضی چھٹی کا مجموعی نتیجہ ہے۔

اگرچہ ٹیکنیکل چارٹ 160.00 کی طرف پیش قدمی کا اشارہ دے رہے ہیں، لیکن بدھ کے روز جاری ہونے والے امریکی CPI اعداد و شمار اور 160.00 کے قریب جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت مارکیٹ کے رخ کو کسی بھی وقت موڑ سکتے ہیں۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ رسک مینجمنٹ کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور 158.00 کے سپورٹ لیول پر نظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جاپانی وزارت خزانہ USDJPY کو 160.00 سے اوپر جانے دے گی یا پچھلی بار کی طرح مارکیٹ میں مداخلت کرکے ین کو سنبھالے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/asia/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں