Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
عالمی اسٹاک مارکیٹ

Samsung اور SK Hynix کی چین میں میموری چپس اپ گریڈ کرنے کی تیاریاں

★اہم نکات

  • •Samsung Electronics چین کے شہر شیان میں اپنے پلانٹ کو 200 سے زیادہ تہوں والی جدید NAND Memory Chips کی تیاری کے لیے اپ گریڈ کر رہی ہے، جس میں 286 تہوں والی چِپس بھی شامل ہیں۔
  • •SK Hynix شمال مشرقی چین کے شہر ڈالیان میں 192 تہوں والی چِپس سے آگے بڑھتے ہوئے 240 یا اس سے زیادہ تہوں والی NAND مصنوعات تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
  • •امریکی برآمدی پابندیاں دونوں کمپنیوں کے لیے جدید امریکی آلات کی تنصیب اور پیداواری ٹیکنالوجی میں تبدیلی کو مشکل بنا رہی ہیں۔
  • •چینی کمپنی YMTC نے چین کی NAND مارکیٹ میں اپنا حصہ 2025 کے پورے سال کے 28 فیصد سے بڑھا کر 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 38.5 فیصد کر لیا۔
  • •AI ڈیٹا سینٹرز، اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز میں بڑھتی ہوئی میموری کی طلب Samsung اور SK Hynix کے اپ گریڈ منصوبوں کی اہم وجہ ہے۔
  • •دونوں کمپنیوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ چین میں اپنی تکنیکی برتری برقرار رکھیں، لیکن امریکی ضوابط کی خلاف ورزی کیے بغیر مستقبل کی پیداواری ضروریات بھی پوری کریں۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

آخری اپ ڈیٹ: 86 مشاہدات

چین میں سیمی کنڈکٹر چِپس کی تیاری اور سام سنگ و ایس کے ہائنکس کی ٹیکنالوجی کی دوڑ۔
سام سنگ اور ایس کے ہائنکس چین میں چِپ پلانٹس کو جدید بنا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شعبے نے عالمی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں مقابلے کی نوعیت تبدیل کر دی ہے، جہاں زیادہ گنجائش، بہتر کارکردگی اور کم لاگت والی میموری چپس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں جنوبی کوریا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں Samsung Electronics اور SK Hynix نے چین میں اپنے موجودہ پیداواری مراکز کو جدید بنانے کا عمل تیز کر دیا ہے، تاکہ مقامی حریف Yangtze Memory Technologies (YMTC) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے اور عالمی صارفین، خصوصاً AI ڈیٹا سینٹرز، کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

تاہم، ان کمپنیوں کے لیے چین میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا محض صنعتی سرمایہ کاری کا معاملہ نہیں رہا۔ امریکہ کی جانب سے چِپ سازی کے آلات کی برآمد پر عائد پابندیاں، لائسنس کی شرائط اور واشنگٹن و بیجنگ کے درمیان تکنیکی کشیدگی ان کے کاروباری فیصلوں کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

ایسے حالات میں Samsung اور SK Hynix کی حکمت عملی اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ عالمی چِپ مارکیٹ میں تکنیکی برتری، پیداواری لاگت اور جغرافیائی سیاسی خطرات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

Samsung کا چین میں 286-Layer NAND Chips تیار کرنے کا منصوبہ

Samsung Electronics چین کے شمال مغربی شہر شیان میں واقع اپنے پلانٹ کو جدید بنانے پر کام کر رہی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ پلانٹ کمپنی کی عالمی NAND Production کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تکنیکی اپ گریڈیشن Samsung کی مجموعی میموری حکمت عملی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

اس وقت شیان پلانٹ میں تقریباً 200 تہوں والی NAND چِپس تیار کی جا رہی ہیں، تاہم کمپنی کا مقصد پیداوار کو جدید V9 NAND Technology کی جانب منتقل کرنا ہے، جس میں 286 تہوں والی چِپس شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو اندرونی طور پر “Monami” کا نام دیا گیا ہے۔

منصوبے سے واقف افراد کے مطابق Samsung دسمبر 2026 تک ماہانہ 5,000 ویفرز کی پیداوار کا ہدف رکھتی ہے، جسے دسمبر 2027 تک بڑھا کر 40,000 ویفرز ماہانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ویفرز وہ بنیادی سلیکون شیٹس ہیں جن پر چِپس تیار کی جاتی ہیں۔

Samsung کا کہنا ہے کہ اس کی اپ گریڈیشن امریکی برآمدی ضوابط کے مطابق کی جا رہی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکہ سمیت عالمی صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنا ہے، نہ کہ پیداواری صلاحیت میں توسیع یا نئی فیکٹری کی تعمیر۔

یہ فرق اہم ہے، کیونکہ امریکی حکام نے چین میں موجود غیر ملکی چِپ ساز کمپنیوں کو اپنی موجودہ فیکٹریاں چلانے کی اجازت دینے کی پالیسی بیان کی ہے، لیکن پیداواری صلاحیت بڑھانے یا ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنا ایک الگ اور حساس معاملہ ہے۔

SK Hynix کی Dalian Factory میں جدید ٹیکنالوجی کی تیاری

Samsung کی طرح SK Hynix بھی چین میں اپنی میموری چِپ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کے شمال مشرقی شہر ڈالیان میں واقع پلانٹ میں اس وقت 192 تہوں والی NAND چِپس تیار کی جاتی ہیں، لیکن منصوبے سے واقف افراد کے مطابق کمپنی 240 یا اس سے زیادہ تہوں والی مصنوعات کی تیاری کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یہ پلانٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ SK Hynix نے 2021 میں Intel کے NAND کاروبار کے حصول کے دوران اسے حاصل کیا تھا۔ یہ کاروبار اب Solidigm کے نام سے کام کرتا ہے اور امریکہ میں ممکنہ Initial Public Offering (IPO) کی تیاریوں سے بھی وابستہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی کو ڈالیان میں 240 تہوں تک کی چِپس تیار کرنے کی اجازت حاصل ہے، جبکہ وہ 300 سے زیادہ تہوں والی چِپس پر تحقیق اور ترقی کے لیے امریکی حکام سے اجازت لینے پر بھی غور کر سکتی ہے۔ ایسی تحقیق مستقبل میں امریکہ میں جدید میموری چِپس کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

SK Hynix امریکہ میں نئی NAND فیکٹری قائم کرنے کے منصوبے پر بھی ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی چین میں موجود پیداواری اثاثوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ امریکی مارکیٹ میں اپنی صنعتی موجودگی بڑھانے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔

امریکی برآمدی پابندیاں نے سرمایہ کاری کو مشکل بنا دیا

Samsung اور SK Hynix کے لیے چین میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی Export Controls ہیں۔ امریکہ نے 2022 میں چین کی تکنیکی ترقی کو محدود کرنے کی کوششوں کے تحت جدید چِپ سازی کے بعض آلات کی برآمد پر پابندیاں متعارف کرائی تھیں۔

ان ضوابط کے تحت دونوں جنوبی کوریائی کمپنیوں کو چین میں امریکی ساختہ آلات، مثلاً جدید ایچنگ مشینیں، نصب کرنے کے لیے سالانہ لائسنس حاصل کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکورٹی (BIS) نے 2025 میں یہ بھی کہا تھا کہ اس کا ارادہ موجودہ فیکٹریوں کو چلانے کے لیے لائسنس دینے کا ہے، لیکن ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنے یا پیداواری صلاحیت بڑھانے کی اجازت دینے کا نہیں۔

یہ پابندیاں کمپنیوں کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کو مشکل بناتی ہیں۔ جدید NAND چِپس کی تیاری کے لیے صرف سرمایہ کاری کافی نہیں ہوتی، بلکہ مخصوص مشینری، جدید پیداواری عمل اور مسلسل تکنیکی بہتری بھی ضروری ہوتی ہے۔

اگر مطلوبہ آلات کی منظوری میں تاخیر ہو یا اجازت نہ ملے تو کمپنیوں کو اپنے منصوبوں میں تبدیلی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس دوران چینی حریف اپنی مقامی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں جنوبی کوریائی کمپنیوں کی مسابقت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دونوں کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے چینی پلانٹس میں اپ گریڈیشن جاری ہے اور اس سلسلے میں امریکی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ منصوبہ بند اپ گریڈیشن کے لیے تمام ضروری امریکی لائسنس کس حد تک منظور کیے جا چکے ہیں۔

YMTC کی ترقی نے Samsung اور SK Hynix پر دباؤ بڑھا دیا

چین کی مقامی کمپنی Yangtze Memory Technologies (YMTC) نے اپنی مصنوعات اور مارکیٹ میں موجودگی کو تیزی سے بہتر کیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے Omdia کے اعداد و شمار کے مطابق، YMTC کا چین کی NAND مارکیٹ میں حصہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر 38.5 فیصد ہو گیا، جبکہ 2025 کے پورے سال میں یہ 28 فیصد تھا۔

اس کے برعکس Samsung کا مارکیٹ شیئر 2025 کے 36 فیصد سے کم ہو کر 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 33.5 فیصد رہ گیا، جبکہ SK Hynix کا حصہ 20 فیصد سے گھٹ کر 17 فیصد پر آ گیا۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین کی مقامی چِپ صنعت عالمی کمپنیوں کے لیے ایک سنجیدہ مسابقتی چیلنج بن رہی ہے۔

YMTC کی مصنوعات میں زیادہ تر 160 اور 232 تہوں والی NAND چِپس شامل ہیں، تاہم کمپنی محدود مقدار میں 294 تہوں والی چِپس بھی تیار کر رہی ہے اور 300 سے زیادہ تہوں والی مصنوعات کی تیاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

اگر YMTC جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار کو وسعت دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو چینی صارفین کو مقامی متبادل دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی میموری مارکیٹ میں قیمتوں اور مسابقت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

Samsung اور SK Hynix کے لیے اس مقابلے کا جواب صرف اپنی موجودہ مصنوعات کی پیداوار برقرار رکھنا نہیں، بلکہ تکنیکی جدت، لاگت میں کمی اور صارفین کی ضروریات کے مطابق مصنوعات فراہم کرنا بھی ہے۔

NAND Memory Chips کی AI Industry میں اہمیت

NAND Memory ایک ایسی میموری ٹیکنالوجی ہے جو بجلی بند ہونے کے بعد بھی ڈیٹا محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اسمارٹ فونز، ذاتی کمپیوٹرز، سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز اور جدید AI Data Centers میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

NAND چِپ میں تہوں کی تعداد بڑھانے سے عموماً ایک ہی جگہ پر زیادہ ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے اور فی یونٹ ڈیٹا کی لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، اگرچہ اصل نتائج کا انحصار ڈیزائن، پیداوار کی کارکردگی اور دیگر تکنیکی عوامل پر ہوتا ہے۔

AI ڈیٹا سینٹرز کو بڑے پیمانے پر ڈیٹا محفوظ کرنے اور تیزی سے اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید اسٹوریج سسٹمز درکار ہوتے ہیں۔ اسی لیے AI انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھنے سے NAND میموری کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: NAND میموری بنیادی طور پر ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ DRAM اور High-Bandwidth Memory (HBM) جیسے دیگر میموری حل پروسیسنگ کے دوران ڈیٹا تک تیز رسائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ AI کی ترقی ان مختلف اقسام کی میموری کی طلب کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن ان کی مارکیٹ اور استعمال ایک جیسے نہیں ہیں۔

Samsung اور SK Hynix کی عالمی ٹیکنالوجی برتری

چین میں پابندیوں کے باوجود Samsung اور SK Hynix کی جدید NAND ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر مضبوط موجودگی برقرار ہے۔ Samsung چین سے باہر 286 تہوں تک کی NAND چِپس فروخت کرتی ہے اور اگست 2026 میں 400 سے زیادہ تہوں والی NAND چِپ کا ایک نمونہ بھی متعارف کرا چکی ہے۔

دوسری جانب SK Hynix کی جانب سے فروخت کی جانے والی NAND مصنوعات 321 تہوں تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ دونوں کمپنیوں کی چین میں اپ گریڈیشن کا مقصد اپنی عالمی ٹیکنالوجی کو وہاں بھی زیادہ قریب لانا ہے، جہاں وہ اہم پیداواری اثاثے رکھتی ہیں۔

تاہم، چین میں جدید ترین ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی رفتار امریکی لائسنسوں، آلات کی دستیابی اور کمپنیوں کے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر منحصر رہے گی۔ اگر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو چین میں موجود پلانٹس اور جنوبی کوریا یا امریکہ میں قائم پیداواری مراکز کے درمیان تکنیکی فرق بڑھ سکتا ہے۔

عالمی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری پر اثرات

Samsung اور SK Hynix کے منصوبے تین اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلا، AI کی بڑھتی ہوئی طلب میموری چِپ ساز کمپنیوں کو جدید مصنوعات کی تیاری اور پیداواری عمل بہتر بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔ دوسرا، چین کی مقامی چِپ صنعت کی ترقی عالمی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھا رہی ہے۔ تیسرا، امریکی برآمدی پابندیاں اب محض تجارتی معاملہ نہیں رہیں بلکہ عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کی تشکیل پر براہ راست اثر ڈال رہی ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے ان کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے صرف تہوں کی تعداد یا پیداواری اہداف دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہ بھی اہم ہوگا کہ کمپنیوں کو جدید آلات کی منظوری کتنی آسانی سے ملتی ہے، اپ گریڈیشن مقررہ وقت پر مکمل ہوتی ہے یا نہیں، اور AI سے وابستہ طلب ان کی آمدنی اور منافع میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہے۔

اسی طرح YMTC کے بڑھتے ہوئے مارکیٹ شیئر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مقامی چینی پیداوار میں اضافہ قیمتوں، مسابقت اور عالمی مارکیٹ میں کمپنیوں کی پوزیشن پر اثر ڈال سکتا ہے۔

حاصل کلام

Samsung Electronics اور SK Hynix کی چین میں NAND فیکٹریوں کو جدید بنانے کی کوششیں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں جاری تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی مقابلے کی عکاسی کرتی ہیں۔ دونوں کمپنیوں کو ایک طرف AI ڈیٹا سینٹرز اور دیگر صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی برآمدی ضوابط کی پابندی اور چین کی مقامی کمپنی YMTC سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا بھی ہے۔

آنے والے مہینوں میں ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مطلوبہ امریکی لائسنس کس حد تک دستیاب ہوتے ہیں، جدید چِپس کی پیداوار کتنی تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور YMTC اپنی تکنیکی ترقی کو کتنی مؤثر انداز میں تجارتی پیداوار میں تبدیل کرتی ہے۔ یہی عوامل طے کریں گے کہ عالمی NAND مارکیٹ میں مستقبل کی مسابقت کس سمت جاتی ہے۔

انتباہ

Urdumarkets کا یہ مضمون صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ اسے مالیاتی، سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ مشورہ نہ سمجھا جائے۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رابطہ کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/world/china/samsung-sk-hynix-upgrading-china-plants-make-more-advanced-chips-people-say-2026-10-21/

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں