Gold سونا دباؤ میں، ڈالر مضبوط

Gold سونے کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات

عالمی مالیاتی منڈیوں میں Gold سونے کی قیمت اس وقت ایک پیچیدہ مرحلے سے گزر رہی ہے۔ جہاں واضح سمت کا تعین مشکل ہو چکا ہے۔ جمعرات کے روز سونا معمولی بہتری دکھانے کے باوجود اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔ اور ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گیا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔ جو اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی ترجیح بنا ہوا ہے۔

Gold سونا چونکہ ایک نان-ییلڈنگ اثاثہ ہے۔ اس لیے جب شرح سود بڑھنے کی توقع ہو تو سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Federal Reserve کی سخت پالیسی سونے کی قیمتوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

فیڈ کی پالیسی: مارکیٹ کے رجحان کا اصل ڈرائیور

فیڈرل ریزرو کی حالیہ میٹنگ کے منٹس نے مارکیٹ میں ایک واضح پیغام دیا ہے۔ کہ مرکزی بینک ابھی بھی مہنگائی کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ پالیسی سازوں کا ماننا ہے۔ کہ اگر مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے اوپر برقرار رہی تو مزید شرح سود میں اضافہ ضروری ہو سکتا ہے۔

یہ بیان محض ایک پالیسی اشارہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر ہے۔ شرح سود میں اضافے کی توقعات براہ راست امریکی ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں۔ کیونکہ سرمایہ کار زیادہ ریٹرن حاصل کرنے کے لیے امریکی بانڈز اور دیگر مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری بڑھاتے ہیں۔

اس صورتحال میں سونا ایک دباؤ کا شکار اثاثہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی سودی منافع نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سونے کی ہر ریلی محدود رہی ہے اور قیمتیں اوپر جانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی: غیر یقینی کا عنصر

اگرچہ فیڈ کی پالیسی سونے پر دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن جغرافیائی کشیدگی ایک ایسا عنصر ہے جو اس دباؤ کو مکمل طور پر غالب آنے نہیں دیتا۔ United States اور Iran کے درمیان جاری تنازعہ عالمی مارکیٹ میں مسلسل غیر یقینی پیدا کر رہا ہے۔

Donald Trump کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو "آخری مراحل” میں قرار دیا، وقتی طور پر مارکیٹ میں مثبت جذبات پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی فوجی کارروائی کی دھمکیاں اور ایران کی جانب سے سخت ردعمل اس امید کو کمزور کر دیتے ہیں۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے اقدامات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسی لیے سرمایہ کار مکمل طور پر رسک لینے کے لیے تیار نہیں اور سونے کو مکمل طور پر فروخت بھی نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے قیمتیں ایک محدود رینج میں پھنسی ہوئی ہیں۔

ڈالر اور Gold سونے کا تعلق: ایک پیچیدہ توازن

Gold سونے اور امریکی ڈالر کے درمیان تعلق ہمیشہ سے الٹا رہا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ تعلق مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف فیڈ کی سخت پالیسی ڈالر کو مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف جغرافیائی خطرات سونے کو سہارا دے رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں واضح ٹرینڈ کی کمی نظر آتی ہے۔ نہ تو Gold سونا مکمل طور پر نیچے جا رہا ہے اور نہ ہی مضبوطی سے اوپر جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو اکثر "کنسولیڈیشن فیز” کہا جاتا ہے، جہاں مارکیٹ اگلے بڑے محرک کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

Gold ٹیکنیکل تجزیہ: قیمتوں کی سمت کا اشارہ

Gold ٹیکنیکل چارٹ کا جائزہ لیا جائے تو سونا ابھی بھی ایک ڈاؤن ٹرینڈ چینل کے اندر ٹریڈ کر رہا ہے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجموعی رجحان ابھی بھی کمزوری کی طرف ہے۔ Relative Strength Index (RSI) درمیانی سطح کے قریب ہے، جو اس بات کا اشارہ دیتا ہے۔ کہ مارکیٹ میں نہ تو زیادہ خریداری ہے اور نہ ہی زیادہ فروخت۔

Gold

MACD کا ہلکا مثبت سگنل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی طور پر قیمتوں میں ریباؤنڈ آ سکتا ہے۔ لیکن یہ کسی مضبوط بُلش ٹرینڈ کی تصدیق نہیں کرتا۔

Gold قیمت اگر $4,500 کی نفسیاتی سطح سے نیچے برقرار رہتی ہے۔ تو مزید گراوٹ کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ اوپر کی جانب $4,680 کے قریب مضبوط رکاوٹ موجود ہے۔ جسے عبور کیے بغیر کسی بڑی تیزی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی

اس وقت سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ فیڈ کی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف جغرافیائی حالات بھی ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional investors) عام طور پر ایسے حالات میں اپنی پوزیشنز کو محدود رکھتے ہیں۔ اور واضح سگنل کا انتظار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں حجم (Volume) کم رہتا ہے اور قیمتیں ایک محدود دائرے میں حرکت کرتی ہیں۔

آنے والے دنوں میں کیا متوقع ہے؟

Gold سونے کی آئندہ سمت کا انحصار چند اہم عوامل پر ہوگا۔ اگر فیڈ مزید سخت مؤقف اختیار کرتا ہے اور معاشی ڈیٹا مضبوط آتا ہے۔ تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے Gold سونے پر دباؤ بڑھے گا۔

دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یا کوئی بڑا جغرافیائی واقعہ پیش آتا ہے تو سونا بطور محفوظ سرمایہ تیزی دکھا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر مہنگائی میں کمی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ تو فیڈ نرم پالیسی اختیار کر سکتا ہے، جو سونے کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔

نتیجہ: سونا ایک فیصلہ کن مرحلے پر

موجودہ صورتحال میں Gold سونا ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں مختلف بنیادی عوامل ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ فیڈ کی سخت پالیسی اور مضبوط ڈالر سونے کے لیے منفی ہیں، جبکہ جغرافیائی خطرات اس کے لیے ایک حفاظتی عنصر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

جب تک ان عوامل میں سے کوئی ایک واضح طور پر غالب نہیں آتا۔ Gold سونے کی قیمتیں اسی طرح محدود رینج میں رہنے کا امکان رکھتی ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button