US Crypto Regulations کا مستقبل: کیا کلیرٹی ایکٹ اب ختم ہو چکا ہے؟

Regulations face uncertainty as Senate steps in after House approval of Clarity Act

ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں ایک بڑا سوال جو ہر کسی کے ذہن میں ہے وہ یہ ہے. کہ امریکہ میں آخر کار کرپٹو کرنسیز کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس US Crypto Regulations کب آئے گی؟ یہ نہ صرف عالمی مارکیٹ کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے پاکستان جیسے ممالک میں بھی پالیسی سازی کا ایک نیا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں، امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹٹوز نے "ڈیجیٹل اثاثہ جات کا مارکیٹ کلیرٹی ایکٹ” (Digital Asset Market Clarity Act) کو ایک بڑی کامیابی کے ساتھ منظور کیا۔ یہ کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑی فتح تھی. کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب کرپٹو ریگولیشن کے لیے ایک قابل ذکر بل قانون سازی کے مرحلے تک پہنچا۔

لیکن جیسا کہ فائنانشل مارکیٹس کی دنیا میں اکثر ہوتا ہے، ایک کامیابی دوسرے قدموں کے لیے صرف ایک سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔ اب اصل توجہ سینیٹ پر ہے. جو ایک الگ لیکن بہت ہی طاقتور بل پر کام کر رہا ہے. اور امکان ہے کہ یہی بل آخرکار قانون کی شکل اختیار کرے گا۔

Clarity Act نے US Crypto Regulations کی راہ ہموار کی، مگر اب آگے کیا؟

Clarity Act کی منظوری نے بلاشبہ ایک تاریخی لمحہ فراہم کیا۔ اس بل نے ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک فریم ورک پیش کیا۔ اس کی منظوری کے بعد، House of Representatives کے اہم رہنما جیسے کہ ٹام ایمر اور فرینچ ہل نے سینیٹ سے زور دیا کہ وہ اسی بل کو بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیں۔ مگر سیاست اور مارکیٹ کی گہرائیوں میں یہ بات واضح ہے کہ سینیٹ ہمیشہ زیادہ پیچیدہ اور مشکل میدان رہا ہے۔

سینیٹ کی منظوری کیوں زیادہ اہم ہے؟

اس کی وجہ سینیٹ کا 60 ووٹوں کا مشکل ترین اصول ہے۔ کسی بھی بڑے بل کو منظور کرانے کے لیے، سینیٹ میں عموماً 60 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے. جو صرف ایک پارٹی کے پاس نہیں ہوتے۔ اس لیے، سینیٹ میں وہی بل کامیاب ہوتا ہے جو دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان ایک گہرا اور محتاط سمجھوتہ ہو۔

جب کوئی بل سینیٹ کی اس کڑی آزمائش سے گزر کر منظور ہوتا ہے، تو اس کے House of Representatives سے بھی منظور ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کا بل زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

US Crypto Regulations کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

 سینیٹ میں کئی کمیٹیاں قانون سازی کے عمل میں شامل ہوتی ہیں۔ US Crypto Regulations کے بل پر اس وقت سینیٹ کی زرعی کمیٹی (Agriculture Committee) اور بینکنگ کمیٹی (Banking Committee) کام کر رہی ہیں۔ یہ دونوں کمیٹیاں مل کر بل کو حتمی شکل دیں گی. اور پھر اسے فلور ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ عمل اگلے مہینے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔

قانون بننے کا پورا عمل کیا ہے؟

  • پہلا مرحلہ: سینیٹرز دونوں پارٹیوں کی جانب سے US Crypto Regulations کو حتمی شکل دیں گے اور اس میں ضروری ترمیمات کی جائیں گی۔

  • دوسرا مرحلہ: سینیٹ کی بینکنگ اور زرعی کمیٹیاں بل کو ووٹ دیں گی. تاکہ اسے سینیٹ کے فلور پر پیش کیا جا سکے۔

  • تیسرا مرحلہ: فلور ووٹنگ میں 60 ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

  • چوتھا مرحلہ: اگر سینیٹ میں US Crypto Regulations کا بل منظور ہو جاتا ہے، تو یہ دوبارہ ہاؤس آف ریپریزنٹٹوز میں بھیجا جائے گا. جو پہلے ہی ایک ایسے ہی بل کو منظور کر چکا ہے. اس لیے اس کے یہاں سے منظور ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

  • پانچواں مرحلہ: اگر ہاؤس بھی اس کی منظوری دے دیتا ہے. تو بل White House بھیج دیا جاتا ہے . جہاں صدر کے دستخط کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔

میں نے فائنانشل مارکیٹس میں اپنی دس سالہ کیریئر میں ایک بات بہت قریب سے دیکھی ہے: جب بھی کوئی بڑی قانون سازی ہونے والی ہوتی ہے. جیسے کہ US Crypto Regulations کا اعلان، تو مارکیٹ میں بے یقینی کی ایک لہر پھیل جاتی ہے۔

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قانون آتے ہی مارکیٹ میں استحکام آ جائے گا. لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے بعد بھی اصل کام شروع ہوتا ہے. جو کہ عمل درآمد کا ہے۔ یہ عمل، جیسا کہ اس بل کی صورت میں ہوگا. مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتا ہے. اور اس دوران مارکیٹ میں نئی غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سمجھدار سرمایہ کار اس عمل کے دوران صبر اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

نئے ریگولیشن کا اثر اور اس کی اہمیت

Commodity Futures Trading Commission (CFTC) کا نیا کردار یہ نیا بل، جیسا کہ کلیرٹی ایکٹ میں بھی تھا، ڈیجیٹل اثاثوں کو واضح طور پر درجہ بندی (classify) کرے گا۔ اس میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ یہ Commodity Futures Trading Commission (CFTC) کو کرپٹو مارکیٹ میں ایک مرکزی کردار دے گا۔ اگرچہ stablecoins کو پہلے سے ہی GENIUS ایکٹ کے تحت ریگولیٹ کیا جا رہا ہے، یہ نیا بل ان کے علاوہ دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پہلے Securities and Exchange Commission (SEC) اور CFTC کے درمیان دائرہ اختیار کو لے کر تنازعات تھے۔

ریگولیشن کا مجموعی اثر کیا ہوگا؟

  • وضاحت (Clarity): US Crypto Regulations کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ کرپٹو کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو یہ واضح طور پر بتائے گا. کہ کونسا اثاثہ "کموڈٹی” ہے اور کونسا "سیکیورٹی”۔ اس وضاحت کے بغیر، کمپنیاں اور ایکسچینجز غیر یقینی کی صورتحال میں کام کر رہے تھے۔

  • مارکیٹ استحکام: طویل مدت میں، ایک واضح ریگولیٹری فریم ورک مارکیٹ میں استحکام لا سکتا ہے، کیونکہ US Crypto Regulations سے اداروں اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہونا آسان ہو جائے گا۔

  • جدت: شفاف ریگولیشنز جدت کو فروغ دے سکتی ہیں. کیونکہ کمپنیاں جانتی ہوں گی کہ انہیں کن قوانین کے تحت کام کرنا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

امریکی کرپٹو مارکیٹ کی ریگولیشن کی کہانی ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی ہے۔ Clarity Act نے ہاؤس میں ایک سنگ میل طے کیا، لیکن اب یہ سینیٹ کا بل ہے جو قانون بننے کا سب سے زیادہ امکان رکھتا ہے۔

US Crypto Regulations کو قانون بننے کے لیے کئی اہم سیاسی اور قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا. اور یہ عمل سست رفتار ہو سکتا ہے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے. کہ مارکیٹ ریگولیشن کی توقعات اکثر حقیقت سے مختلف ہوتی ہیں. اور عمل درآمد کا عمل خود ایک بڑی غیر یقینی کا باعث بن سکتا ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نیا بل امریکی کرپٹو مارکیٹ کو عالمی سطح پر مضبوط کرے گا؟ یا کیا اس سے طویل مدت میں مارکیٹ کی ترقی سست ہو جائے گی؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button