EURUSD کی اڑان، US Dollar کی کمزوری اور US-China Trade Tensions نے یورپی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی
Renewed US-China Trade Tensions and Fed’s Dovish Outlook Push EURUSD Higher
بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ میں آج EURUSD جوڑی نے نمایاں استحکام حاصل کیا. جس میں یہ 1.1600 کی نفسیاتی سطح سے اوپر تجارت کر رہی ہے۔ یہ تیزی بنیادی طور پر امریکی ڈالر (US Dollar) کی مجموعی کمزوری کا نتیجہ ہے. جس کی وجہ فیڈ (Fed) کی جانب سے شرح سود (Interest Rate) میں مزید کٹوتی کے اشارے اور امریکہ-چین کے تجارتی تناؤ میں نئی شدت ہے۔
ایک تجربہ کار مارکیٹ حکمت عملی کار (Strategist) کے طور پر، ہم سمجھتے ہیں. کہ یہ صرف ایک عارضی حرکت نہیں ہے. بلکہ یہ بڑے عالمی اقتصادی اور مالیاتی پالیسی (Monetary Policy) کے عوامل کی عکاسی کرتی ہے۔
اہم نکات
-
EURUSD کی مضبوطی: امریکی ڈالر (USD) پر سیلنگ پریشر (Selling Pressure) کی وجہ سے EURUSD جوڑی 1.1600 سے اوپر مستحکم ہوئی. جس کی بنیادی وجہ فیڈ کی جانب سے شرح میں مزید کٹوتی کا امکان ہے۔
-
فیڈ کا نرم رویہ: ستمبر کی کٹوتی کے بعد، فیڈ کا ڈاٹ پلاٹ (Dot Plot) سال کے آخر تک مزید 50 بنیادی پوائنٹس (Basis Points) کی نرمی کا اشارہ دے رہا ہے. جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھا ہے۔
-
تجارتی تناؤ کی واپسی: امریکہ-چین کے درمیان تجارتی جنگ (Trade war) کے خوف نے سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے. جس سے محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) کی تلاش کم ہوئی. اور ڈالر کمزور ہوا۔
-
ECB کا محتاط انتظار: یورپی مرکزی بینک (ECB) نے فی الحال شرح سود کو غیر تبدیل شدہ (Unchanged) رکھا ہے. اور وہ مکمل طور پر آنے والے معاشی اعداد و شمار (Economic Data) پر انحصار کر رہا ہے۔
امریکی ڈالر کمزور کیوں ہوا.
امریکی ڈالر میں کمزوری بنیادی طور پر فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود میں مزید کٹوتی کے امکانات اور امریکہ-چین کے درمیان دوبارہ بڑھتے ہوئے تجارتی تناؤ (Trade Tensions) کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا خیال ہے. کہ فیڈ اس سال مزید دو بار شرحیں کم کر سکتا ہے. جس سے دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی کشش (Attractiveness) کم ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ، تجارتی تناؤ نے مارکیٹ کے خطرے کے احساس (Risk Sentiment) کو متاثر کیا ہے. جو تاریخی طور پر USD کی قدر پر دباؤ ڈالتا ہے۔
فیڈ کا نرم رویہ اور مزید کٹوتیوں کی توقع
ستمبر میں فیڈ کی شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کی کمی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس فیصلے کے پیچھے کی بنیادی وجہ لیبر مارکیٹ میں نرمی اور افراط زر (Inflation) کا ابھی تک 2% کے ہدف سے اوپر رہنا ہے۔
فیڈ کے فیصلوں کی گہرائی:
-
مزید آسانی کا اشارہ: تازہ ترین ڈاٹ پلاٹ میں 2024 کے اختتام سے پہلے مزید 50 بنیادی پوائنٹس کی کٹوتی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے. کہ فیڈ اب سخت پالیسی سے نکل کر آسانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
-
چیئر پاول کا پیغام: فیڈ کے چیئر جیروم پاول (Jerome Powell) نے نوکریوں کی تخلیق (job creation) میں سست روی اور صارفین کے اخراجات میں کمی کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا. کہ زیادہ تر موجودہ قیمتوں کا دباؤ اب وسیع طلب کے بجائے ٹیرف (Tariffs) سے آ رہا ہے. جس کا مطلب ہے کہ شرحوں میں کٹوتی اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔
-
غیر جانبدارانہ موقف (Neutral Stance): مارکیٹ کو اب یہ سمجھنا چاہیے کہ فیڈ شاید شرحوں میں کٹوتی کے ایک مکمل سائیکل (full easing cycle) کا آغاز نہیں کر رہا. بلکہ اب وہ غیر جانبدارانہ شرح (Neutral stance) کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس باریکی (Nuance) کا مطلب ہے. کہ فیڈ ڈیٹا کے لحاظ سے لچکدار (Flexible) رہے گا. جو ڈالر کو دونوں طرف ہلا سکتا ہے۔
امریکہ-چین تجارتی تناؤ: EURUSD کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ میں اضافہ عالمی خطرے کے احساس (Global Risk Sentiment) کو خراب کرتا ہے۔ جب خطرہ بڑھتا ہے. تو سرمایہ کار عام طور پر محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) کرنسیوں جیسے کہ امریکی ڈالر (USD) اور جاپانی ین (JPY) کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
تاہم، اس بار تجارتی تناؤ کی وجہ سے امریکی ڈالر پر کچھ سیلنگ پریشر آیا ہے. کیونکہ مارکیٹیں ٹیرف کے عالمی اقتصادی نمو (Economic Growth) پر منفی اثرات پر تشویش میں ہیں۔ اس سے یورو (EUR) کو ڈالر کے مقابلے میں کچھ راحت ملی ہے۔
تجارتی تناؤ کی تازہ ترین صورتحال:
-
چین کی جانب سے نایاب زمینوں (Rare Earth Exports) پر نئی پابندیاں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے سو فیصد ٹیرف کی دھمکی نے ایک بار پھر مکمل تجارتی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
-
جنوبی کوریا میں امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کا منصوبہ کچھ ریلیف کا باعث بنا ہے۔ یہ ملاقات موجودہ "ٹیرف جنگ بندی” کو ایک وقفہ (Pause) فراہم کر سکتی ہے۔
ECB کا محتاط موقف: یورو کو سہارا دینے والا عنصر.
یورپی مرکزی بینک (ECB) نے ستمبر کی میٹنگ میں اپنی پالیسی کو تبدیل نہیں کیا. جو کہ فیڈ کے نرم رویہ کے برعکس ہے۔
-
ECB کی حکمت عملی: صدر کرسٹین لگارڈ (Christine Lagarde) نے واضح کیا ہے. کہ پالیسی ایک "اچھی جگہ” پر ہے، اور وہ آنے والے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہوئے "میٹنگ بہ میٹنگ” فیصلہ کریں گے۔ افراط زر کی پیشن گوئی (Inflation Forecast) بتاتی ہے کہ یہ 2026 میں 1.9% تک پہنچ کر 2% کے ہدف کے قریب آ جائے گا۔
-
یورو ایریا کی نمو: ECB اکاؤنٹس سے پتہ چلتا ہے. کہ پالیسی ساز یورو ایریا کی نمو پر قدرے زیادہ پر امید ہیں۔
-
EURUSD پر اثر: ECB کے مزید کٹوتیوں کے لیے کم جھکاؤ رکھنے کے رجحان نے یورو کو ڈالر کے مقابلے میں ایک مضبوط سپورٹ فراہم کی ہے. خاص طور پر جب Federal Reserve شرحیں کم کرنے کا اشارہ دے رہا ہو۔
EURUSD کا ٹیکنیکل آؤٹ لک: اگلے اہداف کیا ہیں؟
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) سے ظاہر ہوتا ہے. کہ EURUSD کی حالیہ مضبوطی کو اب بھی اہم مزاحمت (Resistance) کا سامنا ہے۔
-
مزاحمت (Resistance): خریداروں (bulls) کو سب سے پہلے 1.1778 پر موجود اکتوبر کے ٹاپ کو توڑنا ہوگا. تاکہ 1.1918 کی 2025 کی بلندی تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
-
سپورٹ (Support): موجودہ استحکام کے باوجود، مومنٹم انڈیکیٹرز (Momentum Indicators) ، جیسے کہ RSI (43 پر)، شارٹ ٹرم میں مزید کمی کے حق میں ہیں۔ جب تک یہ جوڑی 200-دن کی SMA یعنی 1.1233 سے اوپر رہتی ہے. مجموعی تعمیری رجحان (Constructive Tone) برقرار رہے گا۔

تجربہ کار ٹریڈنگ کا نکتہ نظر: (Add your experience here: ٹیکنیکل انالیسس میں، 1.1600 سے اوپر کی سطح پر قبضہ کرنا ایک نفسیاتی کامیابی ہے۔ تاہم، جب RSI 50 سے نیچے ہوتا ہے اور ADX 18 سے اوپر ہو تو یہ بتاتا ہے کہ شارٹ ٹرم میں رجحان (trend) کمزور ہو سکتا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ اہم نفسیاتی سطحوں جیسے 1.1600 کے ارد گرد پوزیشنز لینے سے پرہیز کرنا چاہیے جب تک کہ کوئی مضبوط بنیادی (fundamental) محرک یا ٹیکنیکل تصدیق (confirmation) نہ ہو۔ شارٹ ٹرم ٹریڈرز کو اس بات کا انتظار کرنا چاہیے کہ آیا 1.1600 سے اوپر کی کلوزنگ (closing) مضبوط ہے یا یہ محض ایک جھٹکا (whipsaw) ہے۔)
آگے کا لائحہ عمل
EURUSD کی حالیہ ترقی فیڈ کی جانب سے پیدا ہونے والی ڈالر کی کمزوری اور تجارتی تناؤ کی غیر یقینی صورتحال کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اگرچہ EURUSD نے 1.1600 پر اپنی جگہ بنا لی ہے، لیکن ایک بڑے اور پائیدار رجحان (sustainable trend) کے لیے مارکیٹ کو کسی مضبوط محرک (strong catalyst) کی ضرورت ہے۔
آگے دیکھنے کے لیے اہم عوامل:
-
امریکہ-چین بات چیت: جنوبی کوریا میں طے شدہ ملاقات کے بارے میں کوئی بھی مثبت یا منفی پیش رفت فوری طور پر EURUSD پر اثر انداز ہوگی۔
-
فیڈ کی مزید گفتگو: پاول یا دیگر فیڈ عہدیداروں کی جانب سے مزید نرم بیانات ڈالر کو مزید دباؤ میں لا سکتے ہیں۔
-
یورو ایریا کا ڈیٹا: یورو ایریا کے اقتصادی اعداد و شمار (خاص طور پر افراط زر اور روزگار) ECB کے اگلے اقدام کی سمت کا تعین کریں گے۔
ایک تجربہ کار حکمت عملی کار کے طور پر، میرا مشورہ یہ ہے. کہ ٹریڈرز کو اس وقت انتظار کرو اور دیکھو (Wait-and-See) کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔ اگرچہ بنیادی عوامل (Fundamentals) یورو کے حق میں جھک رہے ہیں. لیکن ٹیکنیکل اشارے شارٹ ٹرم میں خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ خطرے کا انتظام (Risk Management) اس غیر یقینی ماحول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈ شرح میں مزید کٹوتی کرکے ڈالر کو مزید کمزور کر دے گا. یا تجارتی تناؤ ختم ہونے پر ڈالر کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت واپس آ جائے گی؟ آپ EURUSD میں اپنی تجارت کی کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



