Gold Price کے نئے ریکارڈ اور مستقبل کی سمت کیا ہو گی.
Will the Bright Metal pass through a Correction soon.
Gold Price نے گزشتہ روز $3,600 فی ٹرائے اونس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس تاریخی اضافے نے سرمایہ کاروں اور تاجروں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے. جو یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور یہ رجحان کتنا دیرپا رہے گا۔
اس آرٹیکل میں، ہم Gold Price میں اضافے کی گہرائی میں موجود وجوہات کا تجزیہ کریں گے. اور اس کے مستقبل کے لیے ایک ماہرانہ نقطہ نظر پیش کریں گے۔
اہم نکات.
-
Gold Price نے کمزور امریکی ملازمتوں کے اعداد و شمار اور ڈالر کی کمزوری کے بعد $3,600 سے اوپر نیا ریکارڈ بنایا۔
-
امریکی Federal Reserve کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات، روس-یوکرین کی کشیدگی اور چین کے مرکزی بینک کی جانب سے مسلسل خریداری نے سونے کو سہارا دیا۔
-
جاپان میں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور چین کے معاشی اعداد و شمار میں سست روی نے سونے کی تیزی کو تھوڑا کمزور کیا۔
-
آنے والے دنوں میں امریکی افراط زر (Inflation) کے اعداد و شمار سونے کی اگلی حرکت کا تعین کریں گے، لیکن تکنیکی طور پر $3,550 اور $3,511 کی سطح اہم سپورٹ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔
-
طویل مدتی نقطہ نظر سے، مارکیٹ کے بنیادی عوامل Gold Price کو مزید بلند سطح پر لے جا سکتے ہیں، لیکن مختصر مدت میں تصحیح (Correction) ممکن ہے۔
Gold Price میں یہ نیا ریکارڈ، لیکن وجوہات کیا ہیں؟
یہ سوال ہر اس شخص کے ذہن میں ہے جو مالیاتی مارکیٹ (Financial market) کو سمجھتا ہے۔ Gold Price میں اس غیر معمولی اضافے کی وجہ کوئی ایک عامل نہیں بلکہ کئی مختلف عالمی عوامل کا ایک ساتھ کام کرنا ہے۔ ان میں سے سب سے اہم عوامل یہ ہیں:
1. کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار اور شرح سود میں کمی کی توقعات
اگست کے مہینے میں امریکی ملازمتوں کی رپورٹ، جسے نان فارم پے رولز (Nonfarm Payrolls) کہتے ہیں، توقعات سے کہیں زیادہ کمزور رہی۔ صرف 22,000 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جب کہ توقع 75,000 کی تھی۔ اس کے ساتھ بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) بڑھ کر 4.3% ہو گئی جو 2021 کے آخر سے بلند ترین سطح ہے۔
اس سے سونے کی قیمت پر کیا اثر پڑا؟ اس رپورٹ نے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے جلد ہی شرح سود میں کمی کرنے کی توقعات کو مزید پختہ کر دیا۔ جب شرح سود کم ہوتی ہے، تو ڈالر اور امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار (Yields) کم ہو جاتی ہے۔
اس صورتحال میں سونا، جو کہ کوئی پیداوار نہیں دیتا، زیادہ پرکشش سرمایہ کاری بن جاتا ہے. کیونکہ اس کا موازنہ (Comparison) زیادہ مہنگا نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان اعداد و شمار کے فوراً بعد ڈالر اور بانڈز پر دباؤ بڑھا. اور Gold Price میں تیزی آئی۔
2. بڑھتی ہوئی عالمی سیاسی کشیدگی (Geopolitical Tensions)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تناؤ اور حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے یوکرین پر بڑے فضائی حملوں نے عالمی عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ اس طرح کے حالات میں، سرمایہ کار خطرے سے بچنے کے لیے (Safe Haven) کے طور پر Gold کا رخ کرتے ہیں۔ سونا تاریخی طور پر ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر جانا جاتا ہے. جو غیر یقینی صورتحال اور کشیدگی کے دوران اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔
3. مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل خریداری
ایک اور اہم عامل چین کے مرکزی بینک (People’s Bank of China – PBoC) کی جانب سے سنہری دھات کی مسلسل خریداری ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، PBoC نے اگست میں بھی اپنے ذخائر میں Bright Metal کو شامل کیا، جس سے یہ مسلسل دسواں مہینہ ہے۔
مرکزی بینکوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر خریداری مارکیٹ میں Gold کی طلب (Demand) کو بڑھا دیتی ہے. اور Gold Price کو اوپر لے جانے میں مدد کرتی ہے۔ یہ اقدام ڈالر پر انحصار کم کرنے اور اپنے ذخائر کو متنوع بنانے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے. جس کا مارکیٹ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
کیا Gold Price کی یہ تیزی جاری رہے گی؟ ممکنہ خطرات کیا ہیں؟
1. جاپانی ین اور امریکی ڈالر کی مضبوطی
حال ہی میں جاپانی وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد جاپانی ین (JPY) میں شدید گراوٹ آئی. جس کی وجہ سے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اس کی قدر بہت کم ہوئی۔
ڈالر کے مقابلے میں ین کی یہ کمزوری عام طور پر ڈالر کی مجموعی قدر کو بڑھا دیتی ہے. جو Gold Price کے لیے ایک منفی عامل ہے۔ اگر ڈالر کی یہ مضبوطی برقرار رہتی ہے. تو یہ Gold Price میں اضافے کی رفتار کو روک سکتی ہے۔
میں نے اپنے مالیاتی مارکیٹ کے تجربے میں بارہا دیکھا ہے کہ کس طرح ایک بڑے ملک کی کرنسی میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اچانک گراوٹ، دیگر کرنسیوں اور خاص طور پر ڈالر کو متاثر کر سکتی ہے۔
2015 میں سوئس فرانک کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا. جب اس کی ویلیو بہت تیزی سے اوپر چلی گئی تھی. جس سے پورے مارکیٹ میں زلزلہ آ گیا تھا۔ اس طرح کے واقعات مارکیٹ میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ (Volatility) پیدا کرتے ہیں اور سونے جیسی محفوظ اثاثہ جات پر مختصر مدت کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی ہلچل کو ہمیشہ وسیع معاشی تصویر کے تناظر میں دیکھا جائے۔
2. چین کی معاشی سست روی
چین دنیا میں Gold کا سب سے بڑا صارف ہے۔ اگست میں چین کی درآمدات (Imports) میں کمی نے اس کی معاشی صحت پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ اگر چین کی معاشی ترقی سست ہوتی ہے. تو اس سے Yellow Metal کی صنعتی اور صارفین کی مانگ کم ہو سکتی ہے. جو Gold Price میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
3. آنے والے افراط زر (inflation) کے اعداد و شمار
اب مارکیٹ کی نظریں اس ہفتے جاری ہونے والے امریکی صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (Consumer Price Index – CPI) اور پیداواری قیمتوں کا اشاریہ (Producer Price Index – PPI) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ یہ اعداد و شمار فیصلہ کن ہوں گے کہ آیا فیڈرل ریزرو اس مہینے ایک بڑی شرح سود میں کمی کرے گا یا نہیں۔ اگر افراط زر توقعات سے زیادہ آتا ہے، تو فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کے معاملے میں محتاط ہو سکتا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): Gold Price کا اگلا قدم
تکنیکی نقطہ نظر سے، Gold Price میں تیزی اس وقت عارضی طور پر رک سکتی ہے کیونکہ 14-روزہ ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI) 76 پر ہے. جو کہ ایک اوور باٹ (Heavily Overbought) زون میں ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ بہت سے خریدار (Buyers) موجود ہیں اور قیمت میں مختصر مدت کی تصحیح (Corrective Decline) ممکن ہے۔
اہم سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں (Support and Resistance Levels):
-
پہلی سپورٹ: $3,550 کی نفسیاتی سطح ہے۔
-
دوسری سپورٹ: $3,511 کی سطح، جو 4 ستمبر کی کم ترین سطح تھی۔ اس سے نیچے، ماہ کی کم ترین سطح $3,437 پر ٹیسٹ کی جا سکتی ہے۔
-
اوپر کی جانب مزاحمت: اگر خریدار دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں. تو اگلی مزاحمت $3,600 کی ریکارڈ ہائی سطح پر ہے۔ اس کے بعد، $3,650 کی سطح پر نظریں ہوں گی۔
-
بلش کراس (Bull Cross): 21-روزہ سادہ موونگ ایوریج (Simple Moving Average – SMA) اور 50-روزہ SMA کا بلش کراس اس بات کا اشارہ دیتا ہے. کہ اگرچہ مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے. طویل مدت میں خریداری کا رجحان برقرار رہے گا۔ یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ مارکیٹ کے بنیادی رجحانات مضبوط ہیں۔
حرف آخر.
Gold Price کی حالیہ چڑھائی کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار، مرکزی بینکوں کی خریداری اور بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ تکنیکی اشارے مختصر مدت کی تصحیح کا اشارہ دے رہے ہیں. لیکن اس کا طویل مدتی رجحان کافی حد تک مثبت دکھائی دیتا ہے۔
سرمایہ کاروں کو افراط زر کی رپورٹ اور دیگر عالمی اقتصادی عوامل پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ مارکیٹ کے اس مرحلے پر صرف ایک یا دو دن کی حرکت کو دیکھ کر بڑا فیصلہ کرنا دانشمندی نہیں. بلکہ ایک وسیع اور گہری تصویر کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ بہترین منافع وہ ہوتا ہے. جو ایک گہری سمجھ اور صبر کے ساتھ حاصل کیا جائے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سونا اپنی بلندیوں کو برقرار رکھ سکے گا. یا مختصر مدت میں ایک بڑی تصحیح کا سامنا کرے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



