PSX میں تیزی، مثبت کرنٹ اکاؤنٹ رپورٹ کے اثرات

PSX میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ عید کی تعطیلات کے دوران جاری ہونیوالی مثبت کرنٹ اکاؤنٹ اور ٹریڈ رپورٹ کا اجراء ہے۔ جس کے مطابق مارچ 2023ء میں تجارتی خسارہ ختم ہو کر سرپلس 60 کروڑ ڈالر سے زائد رہا۔ ملکی معاشی اعشاریوں کیلئے یہ انتہائی مثبت اعداد و شمار ہیں

پاکستانی کرنٹ اکاؤنٹ رپورٹ 19 اپریل کو جمعے کے روز جاری کی گئی۔ جب ملک میں عید الفطر کی تعطیلات کا آغاز ہو چکا تھا۔۔ جس کے مطابق تین سال کے بعد پہلی بار سرپلس بیلینس رہا۔ واضح رہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ منافع ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک سنگین سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی کرنٹ اکاؤنٹ رپورٹ اور PSX پر اثرات

 

 یہ ماہانہ رپورٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پبلش کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2023ء کے دوران ملک کا مجموعی Current Account Surplus پہلی بار 654 ملیئن (60.4) کروڑ ڈالر رہا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس سے قبل 2020ء میں یہ ہدف حاصل کیا گیا تھا۔ تین سال قبل بھی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کورونا کی عالمی وباء کے باعث ملک سنگین معاشی چیلنجز میں گھرا ہوا تھا۔ تاہم اسوقت غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم تھے اور بحثیت ریاست دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں منڈلا رہا تھا۔

ماہانہ رپورٹ کے علاوہ مرکزی بینک نے جولائی 2022ء تا مارچ 2023ء کے نو ماہی اعداد و شمار بھی جاری کئے ہیں۔ جن کے مطابق گذشتہ 9 ماہ کے دوران Current Account Deficit جولائی 2021ء تا مارچ 2022ء کے مقابلے میں کم ہو کر 3.4 بلیئن ڈالر رہ گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اسی عرصے کے دوران یہ 13.4 بلیئن ڈالرز تھا۔ مالی مشکلات کے باوجود اسے ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

 

سرپلس کی وجوہات

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس منافع کی بڑی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث درآمدات میں 36 فیصد کمی ہے۔ مزید برآں برآمدات میں بھی 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ Blink Capital Associates کے چیف ایگزیکٹو حسن مقصود نے Urdumarkets.com سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جب تمام درآمدات پر پابندی عائد کر دی جائے گی یہاں تک کہ ادویات کے لئے ضروری خام مال درآمد کرنے کیلئے بھی ایل سیز نہیں کھولی جائیں گی تو کرنٹ اکاؤنٹ منافع حاصل ہونا حیران کن نہیں ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ملک کے معاشی مسائل میں کمی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے اجراء سے عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری مذاکرات میں پاکستان کا معاشی منظرنامہ مثبت رہنے کی توقع ہے۔ کیونکہ Current Account Deficit کا خاتمہ IMF کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔

 

حسن مقصود کے خیال میں اگرچہ اسکے مثبت پہلو ہیں لیکن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائے جانیوالے ترسیلات زر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں کمی مستقبل میں شرح نمو (Growth Rate) کے حصول کیلئے بڑا چیلنج رہے گا۔

پاکستان میں اسوقت بینکوں اور ایکسچینجز کے ذریعے کسی بھی مد میں ملک سے باہر غیر ملکی زرمبادلہ بھجوانے پر پابندی عائد ہے۔ جسکے باعث پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ عرصے میں ٹیلی نار سمیت کئی کمپنیاں بنگلہ دیش اور خطے کے کئی ممالک میں منتقل ہو چکی ہیں۔

درآمدات اور برآمدات کی تفصیلات

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرنٹ اکاؤنٹ کے علاوہ اسی عرصے کے دوران ملک کی درآمدات اور برآمدات کی وصولیوں اور ادائیگیوں کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ جن کے مطابق مالی سال 2022-23 کے پہلے نو ماہ کے دوران برآمدات کی مد میں 21.1 بلیئن جبکہ مارچ کے دوران ماہانہ ایکسپورٹس کی وصولیاں 2.1 ارب ڈالر رہیں۔ دوسری طرف اس عرصے کے دوران درآمدی بل 41.5 بلیئن ڈالرز رہا۔ جن میں سب سے زیادہ درآمدات ذرائع توانائی کی رہیں۔

اسٹاک مارکیٹ پر اثرات

آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز انتہائی مثبت رہا۔ سیمنٹ، کیمیکل، کمرشل بینکنگ اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا زبردست رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم آٹو موبیلز سیکٹر میں خام مال کی رسد ختم ہونے کے باعث یونٹس کے بند ہونے سے شدید فروخت کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق کیپیٹل مارکیٹ میں عید ی تعطیلات کے بعد ہونیوالے مثبت آغاز کی وجوہات میں سرفہرست کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہونے سے IMF پروگرام بحال ہونے کی توقعات، روس سے سستے خام تیل کی مقامی کرنسیز میں ٹریڈ کا آغاز اور سیاسی عدم استحکام میں کمی کیلئے ہونیوالی کوششیں شامل ہیں

آج KSE100 انڈیکس 266 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 41273 کی سطح پر مثبت رجحان کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ اس کی کم ترین سطح 41007 اور بلند ترین 41363 ہے۔ دوسری طرف KSE30 بھی 64 پوائنٹس کی تیزی سے 15371 پر مستحکم نظر آ رہا ہے۔ انڈیکس کی ٹریڈنگ رینج 15275 سے 15417 کے درمیان ہے۔ اسوقت تک کیپیٹل مارکیٹ میں مجموعی طور پر 11 کروڑ 70 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا ہے۔ جن کی مجموعی مالیت 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد ہے۔

 

 

شیئر بازار میں 390 رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے ٹریڈ میں 280 کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ جن میں سے 163 کی اسٹاک ویلیو میں تیزی، 106 میں مندی جبکہ 11 کی قدر میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔  توقع ہے کہ آنیوالے دنوں میں  تیزی کی یہ ریلی جاری رہے گی۔ اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ گذشتہ ایک سال کے دوران KSE100 انڈیکس میں 6 ہزار جبکہ KSE30 انڈیکس میں 3 ہزار پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اس عرصے کے دوران PSX کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 30 ارب روپے کم ہوئی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button