” بیلٹ اینڈ روڑ پروجیکٹ”، دنیا کو معاشی گلوبل ویلیج میں بدلنے والا چینی منصوبہ ۔۔۔۔
(تحقیق و تحریر: عدیل خالد)۔۔ بیلٹ اینڈ روڑ پروجیکٹ کا نام آتے ہی عام طور پر زہن میں گوادر کے حوالے سے سی پیک کا خیال آتا ہے۔ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسے چین اور پاکستان کی حد تک محدود سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن درحقیقت یہ دنیا کی نئی معاشی سپرپاور چین کی طرف سے دنیا کی معیشت کو ایک اکائی میں پرونے اور معاشی مسابقت کا منصوبہ ہے جسکا معاشی مرکز چین ہے جبکہ دنیا کے مختلف خطوں کو ایک اقتصادی وحدت میں بدلنے والے ون بیلٹ ون روڑ منصوبے میں ایشیاء ، افریقہ اور مشرقی یورپ کے 146 ممالک شامل ہیں جن میں سے 43 ممالک کا تعلق افریقہ کے صحارا ریجن ، 34 کا وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ، 25 ممالک مشرقی، جنوبی اور پیسیفک ایشیا، 18 ممالک مشرق وسطی اور شمالی افریقہ جبکہ 6 ممالک کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا سے ہے۔ یہ تمام ممالک چین سے نکلنے والی مختلف شاہراوں سے ہی آپس میں مربوط نہیں ہوں گے بلکہ اقتصادی تعاون کے سمجھوتوں اور رشتوں میں بھی بندھے ہوں گے۔ یہ تمام ممالک 2017 ء کے 19 ویں کیمونسٹ پارٹی آف چائنا کنونشن کے موقع پر ون بیلٹ ون پروجیکٹ کو بیلٹ اینڈ روڑ انیشیٹو میں بدلے جانے کے بعد سے کے کر اب تک چین کے ساتھ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط کر چکے ہیں ۔ جن میں پاکستان سے کے کر انڈونیشیا اور افریقہ کے صحارا ممالک سے لے کر یورپ کے دل میں واقع البانیہ تک شامل ہیں۔ اگرچہ چین اس اکنامک گلوبلائزیشن کے منصوبے پر 2013 سے کام کر رہا ہے لیکن اسے چینی کیمونسٹ پارٹی کے منشور میں 2017ء کے چینی کیمونسٹ پارٹی کے 19 ویں کنونشن کے موقع پر شامل کیا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین کو آخر کیا پڑی ہے کہ وہ دنیا کے متوسط اور غریب ترین ممالک کیلئے کھربوں ڈالرز کے وسائل جھونک دے ؟۔ اور آخر چین کو ان منصوبوں سے کیا حاصل ہو گا ؟۔۔۔ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان شروع ہونیوالی سرد جنگ کے زمانے میں جانا ہو گا جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی اور ہر وقت عالمی افق پر جنگی خطرات منڈلاتے رہتے تھے۔ پھر تاریخ نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت اور سپرپاور سوویت یونین ایک گولی بھی چلائے بغیر خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ یہ دنیا میں مغربی نیو ورلڈ آرڈر کا نقطہ آغاز تھا جسے کیمیونزم اور سوشلزم کی شکست کا نام دیا جاتا ہے اور اقتصادیات کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے افراد کے نزدیک سوشلزم سرد جنگ کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تھا ۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے کا مطلب سوشلزم کا اختتام ہرگز نہیں تھا۔ یقینی طور پر امریکہ کی سرپرستی میں سامراجیت کے یک قطبی نظام کے تین عشرے مکمل ہو چکے ہیں ۔ لیکن دنیا کے کسی اور ملک نے سوویت زوال سے کچھ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو چین کی حکمراں کیمونسٹ پارٹی نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے اور درحقیقت دنیا میں موجود معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کا چینی منشور اور تصور 2017 میں کھل کر دنیا کے سامبے آیا۔۔ چینی حکمران جماعت کے پیراماونٹ لیڈر جی جن پنگ نے اس اس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئی کہا تھا کہ ” یہ ایک بہت بڑی بھول ہو گی اگر کوئی یہ کہے کہ کیمیونزم یا سوشلزم ختم ہو گیا۔ یہ آج بھی اپنی پوری قوت سے موجود ہے۔ ہم جنگ کی بجائے معیشت کو طاقت کا مرکز سمجھتے ہیں اور ایک وقت آئیگا جب زمین سے کے کر خلاء تک چینی کیمونسٹ تصور کے مطابق معاشی مسابقت اور ہمواری قائم ہو گی ۔ یہی دنیا کی منزل ہے اور یہی کیمونزم کے عملی تصور کا نقطہ آغاز” ۔۔ اسوقت درحقیقت عظیم چینی لیڈر جی کے یہ الفاظ ایک نئی معاشی گلوبلائزیشن کے آغاز کا اعلان تھا۔ جس کے بعد سے مغربی دنیا چین کے تجارتی اور معاشی اثر کو کم کرنے کے لئے سرگرم ہو گئی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کو چینی پیراماونٹ لیڈر جی جن پنگ کا سب سے قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ جن بوتل سے باہر آ چکا ہے اور چین کی معاشی قوت نے شنگھائی میں مرتکز ہونے کی بجائے کانگو سے کے کر البانیہ تک اور پاکستان سے کے کر انڈونیشیا تک دنیا کے چینی اقتصادی بلاک کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ آج دنیا کے ایک سو پینتالیس ممالک میں بیک وقت بیلٹ اینڈ روڑ پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہے اور سوشلزم کے بنیادی تصورات کے ساتھ چین دنیا بھر میں اقتصادی اور معاشی شعور پیدا کر چکا ہے ۔ اسی اقتصادی شعور کا معجزہ ہے کہ امریکہ کے سب سے قریبی اتحادی سمجھے جانیوالے عرب ممالک امریکی صدر جوبائیڈن کا فون اٹینڈ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ محض ایک عشرہ قبل تک ایسی صورتحال کا تصور بھی ممکن نہیں تھا ۔ یہ ہے گلوبلائزیشن کا چینی تصور کیونکہ جی جن پنگ کے الفاظ کے مطابق ” جنگ جیتنے کے لئے گولی چلانا ضروری نہیں ہے ۔ آج کی اقتصادی دنیا میں آپ مسابقت اور معاشی برابری کے ساتھ بھی حکومت کر سکتے ہیں۔ یہی سوشلزم کا بنیادی تصور ہے اور یہی گلوبل اکانومی کی چینی تشریح”۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔