US CPI Report جاری، امریکی ڈالر انڈیکس میں کمی، یورو اور گولڈ میں تیزی

US CPI Report جاری کر دی گئی ہے۔ U.S BUREAU Of Labor Statistics کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افراط زر کی سالانہ شرح 5.0 فیصد رہی ہے۔ جبکہ مارکیٹ توقعات 5.2 فیصد تھیں۔ ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 0.4 فیصد کی پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ دوسری طرف حقیقی افراط زر (Core Inflation) کی سالانہ شرح 5.6 فیصد رہی ہے۔ واضح رہے کہ Core Inflation کا تخمینہ 5.5 فیصد رہا ہے۔ اس طرح Headline Inflation توقعات سے کم رہی ہے لیکن Core Inflation جاری کردہ تخمینے سے زیادہ آئی ہے۔

فیڈرل ریزرو کے فیصلے پر یہ ڈیٹا کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے ؟

ماہرین معاشیات آئندہ ماہ فیڈرل ریزرو (Fed) کی میٹنگ میں سخت مانیٹری پالیسی کی توقع کر رہے ہیں۔ تاہم کنزیومر پرائس انڈیکس توقعات سے مثبت آنے سے FOMC کے پالیسی ساز اراکین کے لئے شرح سود میں زیادہ اضافے کا جواز ختم ہو جائے گا۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ سلیکون ویلی بینک سے شروع ہونیوالے بینکنگ بحران کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو نے گذشتہ ماہ بھی ٹرمینل ریٹس میں توقعات سے کم اضافہ کیا تھا۔

گذشتہ برس شرح سود میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں بینکوں کے مارجن کم ہو گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے تین ملٹی نیشنل بینک دیوالیہ ہوئے۔ جس کے بعد سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 165 سال پرانا کریڈٹ سوئس (Credit Suisse) بینک بھی ڈیفالٹ کر گیا تھا۔ عالمی مالیاتی نظام کو درپیش خطرات کے پیش نظر فیڈرل ریزرو پہلے ہی شرح سود میں کم اضافے کیلئے دباؤ میں ہے۔ آج کی رپورٹ سے کیش ریٹس میں کم اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم آئندہ دو روز میں PPI اور ریٹیل سیلز رپورٹ کے اعداد و شمار بھی FOMC کے فیصلے پر اثر انداز ہوں گے۔

مارکیٹ کا ردعمل

رپورٹ کے اعداد و شمار منظر عام پر آنے کے بعد امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آئہ۔ جس کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو (EURUSD) 1.0970 کی سطح پر آ گیا ہے۔ جبکہ GBPUSD بھی 1.2450 کی نفسیاتی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ دوسری طرف سوئس فرانک کے خلاف امریکی ڈالر (USDCHF) 0.598 فیصد مندی کے ساتھ 0.8980 پر آ گیا ہے

امریکی ڈالر انڈیکس اور 10 سالہ مدت کی Bonds Yields میں آنیوالی کمی سے کماڈٹیز کی طلب (Demand) میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد سنہری دھات 18 ڈالرز اضافے سے 2021 ڈالرز پر مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ جبکہ پلاٹینیئم 26 ڈالرز کی تیزی سے 1023 ڈالرز فی اونس میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔ سلور 25.56 ڈالرز اور پلاڈیئم 1454 ڈالرز پر مثبت انداز اپنائے ہوئے ہے۔ کروڈ آئل کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ آئل 0.57 ڈالرز کے معمولی اضافے سے 86.13 اور WTI آئل 82.08 ڈالرز پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

کرپٹو کرنسیز نے البتہ ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ بٹ کوائن رپورٹ پبلش ہونے سے پہلے کی سطح 30240 ڈالرز فی کوائن پر ہی ٹریڈ کر رہا ہے۔ دوسری طرف فیوچر اسٹاکس میں زبردست تیزی نظر آ رہی ہے۔ Dow Jones Future انڈیکس 222 ڈالرز کی تیزی سے 34074 اور Nasdaq100 Future بھی 134 پوائنٹس کے اضافے سے 13 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کرتے ہوئے 13029 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button