گولڈ رواں سال اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔ Commerz Bank کی پیشگوئی

جرمن ملٹی نیشنل معاشی ادارے Commerz Bank نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں سال گولڈ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا۔ بینک کے تحقیقاتی ونگ کے مطابق 2023ء کے پہلے چھ ماہ میں سنہری دھات 1800 ڈالرز فی اونس تک گراوٹ کا شکار رہے گا۔ اس عرصے کی دوران اصلاح (Correction) کے بعد جولائی سے دسمبر 2023ء کے دوران یہ 1950 ڈالر تک بحال ہونے کی توقع ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں موجودہ عالمی سیاسی و جغرافیائی حالات، سینٹرل بینکس بالخصوص فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک (ECB) کی پالیسیوں کے مشاہدے پر اپنے تخمینے کی بنیاد رکھی رہے۔ Commerz Bank کے اسٹریٹجک ماہرین کے خیال میں شرح سود (Interest rate) میں اضافے اور افراط زر (Inflation) کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جون تک جاری رہیں گی جس کی وجہ سے گولڈ اور دیگر قیمتی دھاتیں اتار چڑھاؤ کی شکار رہیں ھی۔ تاہم اسکے بعد کماڈٹیز بتدریج اپنی قدر بحال کریں گی اور رواں سال کے اختتام تک گولڈ کی طلب (Demand) اپنے عروج پر ہو گی۔

کیا گولڈ معاشی پالیسیوں کے زیر اثر رہے گا ؟

بینک کی تحقیقاتی رپورٹ میں عالمی تنازعات کے باعث بدلتی ہوئی معاشی پالیسیوں کو قلیل اور طویل المدتی بنیادوں پر گولڈ کی طلب و قدر میں تغیر پزیری کی مرکزی وجہ قرار دیا ہے۔ تحقیقاتی نوٹ کے مطابق ” مختصر عرصے کے دوران جو کہ سال کے پہلے چھ ماہ پر محیط ہو سکتا ہے۔ پیلی دھات (گولڈ) دباؤ کا شکار رہے گا تاہم افراط زر میں کمی اور جارحانہ مانیٹری پالیسیز اس دورانیے کے بعد معمول پر آ جائیں گی جس سے گولڈ 1950 ڈالرز یا اس سے بھی اوپر کی سطح پر بحال ہو سکتا ہے”۔

امریکی ڈالر انڈیکس اور گولڈ کے درمیان مقابلہ

رپورٹ میں امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اور گولڈ کے درمیان موجودہ مقابلے کو See-Saw سے تشبہہ دی گئی ہے۔ فیڈ کی پالیسیوں میں ٹھہراؤ آنے تک اور معیشت کی یوکرائن جنگ سے قبل کے لیولز پر بحالی تک ڈالر انڈیکس گولڈ کی طلب کا توازن تبدیل کرتا رہے گا لیکن طویل المدتی بنیادوں پر آخر کار گولڈ اسے بیک فٹ پر لے آئے گا۔اور مستحکم ہونے میں کامیاب ہو گا لیکن اس کا دارومدار FOMC کے رویے پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے اور دوسرے کوارٹر کا ممکنہ اختتام 1800 ڈالرز، تیسرے کا 1900 اور چوتھے کوارٹر کے اوائل میں 1950 ڈالرز فی اونس پر ہو گا۔ جبکہ 2024ء کے پہلے کوارٹر میں یہ دوبارہ 2 ہزار ڈالرز فی اونس (مارچ 2022ء کی سطح) پر بحال ہو سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button