کماڈٹیز اپڈیٹ: گولڈ اور خام تیل کی قدر میں اضافہ، گندم کی قیمت میں کمی۔

گذشتہ روز امریکی CPI رپورٹ کے اجراء کے بعد کماڈٹی مارکیٹ میں تیزی کی لہر دیکھی گئی۔ جس کی بنیادی وجہ ڈالر انڈیکس (DXY) اور امریکی ڈالر سے منسلک سرمایہ کاری بانڈز کی حاصلات (Gains) میں ہونیوالی کمی ہے۔ جس کا ایڈوانٹیج کمڈٹیز اور اسٹاکس کو حاصل ہوا ہے۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سونے (Gold) کی قدر میں مجموعی طور پر 21 ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد 1747 ڈالرز فی اونس پر آ گیا ہے۔ چاندی (Silver) بھی گذشتہ روز CPI رپورٹ کے اجراء کے بعد آنیوالی تیزی کی لہر لے بعد 21.53 ڈالرز فی اونس پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ پلاٹینیم (Platinum) بھی اگرچہ ایشیائی سیشن کے دوران قدرے نیچے نظر آ رہا ہے۔ لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 68 ڈالرز اضافے کے بعد 1033 ڈالرز فی اونس میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس قیمتی دھات کی یہ رواں سال میں بلند ترین سطح ہے۔ دوسری طرف پلاڈیم (Palladium) بھی ایشیائی سیشن میں دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے ہیں تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس قیمتی دھات میں 77 ڈالرز کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد یہ 1952 ڈالرز کی سطح پر آ گئی ہے۔
اگر زرائع توانائی کا جائزہ لیں تو قدرتی گیس (Natural Gas) بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 سینٹس اضافے کے ساتھ 6.12 ڈالرز فی ملیئن مکعب فٹ کی سطح پر آ گئی ہے۔ خام تیل (Crude Oil) کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد برینٹ آئل (Brent) کی قیمت 2 ڈالر اضافے کے ساتھ 93.73 ڈالرز فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ ڈبلیو۔ٹی۔آئی آئل (WTI Oil) بھی ایک ڈالر اضافے سے 86.55 ڈالرز فی بیرل پر آ گیا ہے۔ کوئلے کی قدر میں البتہ نمایاں کمی نظر آ رہی ہے جو کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 65 ڈالرز کمی کے ساتھ 205 ڈالرز فی ٹن میں فروخت ہو رہا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے ذکر کریں گے اہم ترین صنعتی دھات تانبے (Copper) کا جسے معاشی صورتحال کا بیرو میٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی 28 ڈالرز اضافے کے ساتھ 8062 ڈالرز فی ٹن (3.67 ڈالرز فی پونڈ) پر آ گیا ہے۔
زرعی اجناس میں گندم کی قدر 6 ڈالرز کمی کے بعد 327 ڈالرز فی ٹن پر آ گئی ہے جبکہ کپاس (Cotton) بھی 0.08 فیصد اضافے کے ساتھ 0.87 ڈالرز فی بیل پر فروخت ہو رہی ہے۔ جبکہ پام آئل (Palm Oil) کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جس کے بعد یہ 4020 رنگٹس فی ٹن کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔