پاکستان اور چین کا تجارتی معاہدہ: ایک نئے دور کا آغاز
Unilateral Tariff Relief Request from China Sparks Debate on Pakistan’s Economic Sustainability
عالمی مارکیٹس میں، تجارت کی راہیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور جو ملک وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے دوستانہ اور اسٹریٹیجک تعلقات کے ساتھ، اقتصادی تعاون بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں، Pak China Free Trade Agreement (CPFTA) کے تیسرے مرحلے میں ہونے والی پیش رفت نے مالیاتی مارکیٹ کے ماہرین اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
پاکستان کی جانب سے چین سے تقریباً 700 اشیاء پر یکطرفہ (Unilateral) ٹیرف (Tariff) رعایت کی درخواست، موجودہ تجارتی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
یہ نہ صرف ایک تجارتی اقدام ہے بلکہ یہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو تقویت دینے اور طویل مدتی اقتصادی پائیداری (Economic Sustainability) کو یقینی بنانے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
خلاصہ
-
پاکستان نے چین سے 700 اشیاء پر یکطرفہ ٹیرف چھوٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ Pak China Free Trade Agreement کے تحت تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
-
پاکستان کے لیے Pakistan China Trade Agreement میں اضافہ ضروری ہے کیونکہ چین کے دیگر ممالک کے ساتھ معاہدوں سے ہماری برآمدی فائدہ مندی (Preferential Market Access) میں کمی آئی ہے۔
-
برآمدات میں ویلیو ایڈیشن (Value-added exports) پر زور دیا جا رہا ہے، یعنی خام مال (Raw Materials) کی بجائے تیار شدہ مصنوعات کی برآمد پر توجہ دی جائے. تاکہ زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
-
ادارہ جاتی اصلاحات اور تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں گرین چینل (Green Channel) کا قیام اور بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت شامل ہے۔
-
اہم ادارہ جاتی مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے، جیسے کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کا معاملہ اور گولڈ کی درآمد و برآمد سے متعلق SRO 760 کا التوا، جو تجارتی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
پاکستان نے چین سے یکطرفہ ٹیرف رعایت کا مطالبہ کیوں کیا؟
پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) ایک مسلسل تشویش کا باعث رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی چین کو برآمدات 2.375 ارب ڈالر تھیں. جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر تھیں۔
یہ عدم توازن پاکستان کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ اسی کو حل کرنے کے لیے پاکستان نے 700 اشیاء پر ٹیرف رعایت کی درخواست کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ میں مزید جگہ بنانا ہے تاکہ ہماری برآمدات بڑھ سکیں. اور تجارتی توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس اقدام کا مقصد کیا ہے؟
پاکستان کا مقصد ان 700 اشیاء پر چین کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ٹیرف چھوٹ حاصل کرنا ہے. تاکہ ہماری برآمدات کو مقابلہ کرنے کا زیادہ بہتر موقع مل سکے۔ یہ بالکل اسی طرح کی مارکیٹ رسائی حاصل کرنے کی کوشش ہے. جو چین نے آسیان (ASEAN) ممالک اور بنگلہ دیش کو فراہم کی ہے۔
تجارتی خسارے کا مسئلہ اور اس کا حل
پاکستان چین کا تجارتی معاہدہ Pak China Free Trade Agreement کس طرح تجارتی خسارے کو متاثر کر رہا ہے؟
اگرچہ CPFTA کے دوسرے مرحلے کے بعد پاکستان کی چین کو برآمدات میں اضافہ ہوا ہے. لیکن اس کے ساتھ ساتھ چین کی دیگر ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) نے پاکستان کے ترجیحی مارکیٹ رسائی (Preferential Market Access) کو کم کر دیا ہے۔
یہ ایک اہم نکتہ ہے جو یہ بتاتا ہے. کہ صرف معاہدے کا ہونا کافی نہیں. بلکہ اس میں مسلسل تبدیلی اور بہتری لانا ضروری ہے۔ چین کے ساتھ دیگر ممالک کے FTAs سے پاکستان کے لیے چینی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
بطور ایک مالیاتی مارکیٹ ماہر کے طور پر میں نے کئی دہائیوں میں دیکھا ہے. کہ تجارتی معاہدے اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتے. جب تک کہ ملک اپنی اندرونی پیداواری صلاحیت (Production Capacity) اور مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر توجہ نہ دے۔
ایک مارکیٹ کے طور پر، چین کو صرف سستی مصنوعات درکار نہیں. بلکہ وہ معیاری اور ویلیو ایڈڈ (Value-Added) مصنوعات کی بھی تلاش میں رہتا ہے۔ اگر ہم صرف خام مال (Raw Materials) برآمد کرتے رہیں گے. تو ہماری آمدنی محدود رہے گی۔ ٹیکسٹائل، معدنیات اور گوشت کی صنعتوں میں ویلیو ایڈیشن پر توجہ مرکوز کرنا پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
ادارہ جاتی اصلاحات: تجارتی کامیابی کی کلید
پاکستان کو تجارتی محاذ پر کامیابی کے لیے کئی داخلی چیلنجز کا سامنا ہے۔ نیشنل اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس کی حالیہ بریفنگ میں بھی اس پر کھل کر بات کی گئی۔
کراچی چیمبر آف کامرس کا معاملہ
Pak China Free Trade Agreement میں ایک اہم مسئلہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) اور کراچی میں نئے ضلعی چیمبرز کے قیام کا تھا۔ یہ مسئلہ کاروباری برادری میں ایک طویل عرصے سے تناؤ کا باعث بنا ہوا تھا۔ کمیٹی نے بالآخر اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے فیصلہ دیا. کہ KCCI اپنا موجودہ رتبہ اور نام برقرار رکھے گا. جبکہ نئے ضلعی چیمبرز کو بھی لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ پالیسی ساز موجودہ اداروں کو کمزور کیے بغیر، نئے اداروں کو بھی کاروباری کمیونٹی میں شامل کرنے کے حق میں ہیں۔
SRO 760: سونا کی تجارت کا التوا
ایک اور اہم مسئلہ SRO 760 کی وجہ سے سونے (Gold) کی برآمد اور درآمد کا رکا ہوا تھا۔ یہ مسئلہ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے اس تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور وزارت تجارت کو فوری طور پر وزیر اعظم کے دفتر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ گولڈ کی تجارت کا التوا نہ صرف غیر رسمی تجارت (Informal Trade) کو فروغ دیتا ہے بلکہ یہ قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ (Foreign Exchange) کے بہاؤ کو بھی روکتا ہے۔
پاکستان کی تجارتی حکمت عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان کی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کیوں اہم ہے؟
حکومتی حکام اور کمیٹی کے ارکان دونوں نے اس بات پر زور دیا. کہ پاکستان کو خام مال (Raw Materials) کی بجائے تیار شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات (Value-Added Products) کی برآمد پر توجہ دینی چاہیے۔ مثلاً، ہم تانبا (Copper) اور کپاس (Cotton) کی خام شکل میں برآمد کرتے ہیں. اور پھر مہنگی تیار شدہ مصنوعات کی شکل میں انہیں واپس درآمد کرتے ہیں۔
یہ معیشت کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ اس کے بجائے، ٹیکسٹائل، معدنیات اور گوشت جیسے شعبوں میں ویلیو ایڈیشن سے Pak China Free Trade Agreement میں پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے اہم اقدامات:
-
گرین چینل (Green Channel): خنجراب (Khunjerab) سرحد پر ایک گرین چینل کا قیام زیر غور ہے. تاکہ تجارتی اشیاء کی آمد و رفت میں تیزی لائی جا سکے۔
-
تجارت کا فروغ (Trade Promotion): بین الاقوامی تجارتی میلوں جیسے کہ چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں پاکستان کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔
-
غیر ملکی تجارت کے اہلکاروں کی جوابدہی (Accountability): بیرون ملک تعینات تجارتی افسران کی کارکردگی کی نگرانی اور انہیں پاکستانی مصنوعات کی نمائش کے لیے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
مفاہمتی معاہدے (FTAs) کی کارکردگی پر نظرثانی: کمیٹی نے ملائشیا، سری لنکا اور سارک ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی معاہدوں کا بھی جائزہ لیا۔ یہ بات واضح ہوئی کہ اگرچہ ان معاہدوں نے کچھ حد تک تجارت میں اضافہ کیا ہے. لیکن وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق فائدہ نہیں دے رہے ہیں۔
اس کی بڑی وجوہات میں پیداواری رکاوٹیں (Productivity Constraints) ، توانائی کی بلند قیمتیں (High Energy Costs) ، اور دیگر ممالک کی جانب سے غیر-ٹیرف رکاوٹیں (Non-Tariff Barriers) شامل ہیں۔
مستقبل کی سمت.
Pak China Free Trade Agreement اس کی معیشت کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ تاہم، صرف معاہدے کرنا کافی نہیں ہے۔ جیسا کہ موجودہ صورتحال سے واضح ہے. ہمیں مسلسل اپنی برآمدی حکمت عملی کو بہتر بنانا ہو گا۔ ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ، انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ، اور داخلی پالیسیوں میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ اقدامات پاکستان کو صرف چین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط تجارتی شراکت دار کے طور پر ابھرنے میں مدد دیں گے۔
اس پورے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے، آپ کے خیال میں پاکستان کو اپنے تجارتی اہداف حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے کس مسئلے کو حل کرنا چاہیے؟ کیا یہ ویلیو ایڈیشن ہے. ادارہ جاتی اصلاحات، یا چین سے مزید رعایتیں حاصل کرنا؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



