PSX میں تاریخی تیزی، KSE100 نے 185,000 کی نفسیاتی حد عبور کر لی

Monetary Policy Expectations, Global Momentum, and Blue-Chip Buying Ignite Pakistan’s Equity Surge

پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو چکا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX نے اپنی ریکارڈ ساز پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی نفسیاتی حد (Psychological Level) کو عبور کر لیا ہے جس کا تصور چند ماہ قبل ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ منگل کے روز ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک KSE100 انڈیکس 185,000 کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا. جو سرمایہ کاروں کے غیر متزلزل اعتماد اور معاشی اشاریوں میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ اس غیر معمولی تیزی (Bull Run) کے محرکات کیا ہیں. عالمی سیاست پاکستان کی مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے. اور ایک عام سرمایہ کار کے لیے آنے والے دنوں میں کیا مواقع موجود ہیں۔

مختصر خلاصہ.

  • تاریخی بلندی: KSE100 انڈیکس 185,023.74 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا. جس میں ایک ہی دن میں 2,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

  • شرح سود میں کمی کی توقع: مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے آئندہ مانیٹری پالیسی میں 50 بنیادی پوائنٹس کی کمی کی توقع اس تیزی کی بنیادی وجہ ہے۔

  • ادارتی سرمایہ کاری: مقامی میوچل فنڈز اور بڑے مالیاتی اداروں کی جانب سے ‘ایگریسو بائنگ’ نے مارکیٹ کو اوپر لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

  • عالمی اثرات: وینزویلا کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی مارکیٹ نے اپنی مثبت سمت برقرار رکھی۔

مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس وقت ایک زبردست ‘بائنگ ریلی’ (Buying Rally) جاری ہے۔ منگل کو KSE100 نے 1.43 فیصد اضافے کے ساتھ 185,000 کی حد عبور کی۔ یہ تیزی کسی ایک سیکٹر تک محدود نہیں. بلکہ اس میں آٹو موبائل، سیمنٹ، بینکنگ، فرٹیلائزر، اور آئل اینڈ گیس جیسے تمام بڑے شعبے شامل ہیں۔ خاص طور پر بڑے اداروں (Blue-Chip Stocks) جیسے HUBCO، MARI، اور UBL میں سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

KSE100 Crossed historical level amid bullish Rally in PSX.
KSE100 Crossed historical level amid bullish Rally in PSX.

KSE30 نےکیا ایک نیا سنگ میل عبور.

یہاں اپنے قارئیں کو بتاتے چلیں کہ یہ تیزی صرف KSE100 میں ہی نہیں دیکھی جا رہی. بلکہ بینچ مارک انڈیکس KSE30 بھی تاریخ میں پہلی بار 57000 کی بلند ترین سطح سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے.

KSE30 crossed Ever High Level
KSE30 crossed Ever High Level

شرح سود میں کمی (Policy Rate Cut) کی توقعات اور PSX کا ردعمل

اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ مستقبل کی پیش گوئیوں (Forward-Looking Mechanism) پر چلتی ہے۔ موجودہ تیزی کے پیچھے سب سے بڑی منطق مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا آئندہ اجلاس ہے۔

جب اسٹیٹ بینک شرح سود (interest rate) میں کمی کرتا ہے. تو کمپنیوں کے لیے قرض لینا سستا ہو جاتا ہے. جس سے ان کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، فکسڈ انکم (جیسے بینک ڈیپازٹس) پر منافع کم ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال کر اسٹاک مارکیٹ میں لگاتے ہیں. جو قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

ماضی میں دیکھا ہے کہ جب بھی افراط زر کے اعدادوشمار (CPI) نیچے آتے ہیں. سمارٹ منی (Smart Money) مانیٹری پالیسی سے دو ہفتے پہلے ہی PSX میں پوزیشنز بنانا شروع کر دیتی ہے۔ موجودہ ریلی میں بھی وہی پیٹرن نظر آ رہا ہے. جہاں بڑے ادارے چھوٹے سرمایہ کاروں کے متحرک ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ کو لیڈ کر رہے ہیں۔

موجودہ رفتار یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر Monetary Policy میں متوقع نرمی سامنے آتی ہے. تو PSX میں یہ تیزی مزید گہری ہو سکتی ہے. تاہم سرمایہ کاروں کے لیے محتاط حکمت عملی، سیکٹرل اینالسس اور مضبوط بنیادی اسٹاکس کا انتخاب آئندہ بھی کلیدی حیثیت رکھے گا۔ یہ ریلی محض نمبرز کی کہانی نہیں. بلکہ پاکستان کی معیشت میں اعتماد کی بحالی اور کیپٹل مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی عکاس ہے۔

کلیدی شعبوں کی کارکردگی اور انڈیکس ہیوی اسٹاکس

اس ریکارڈ تیزی میں صرف KSE100 ہی اوپر نہیں گیا. بلکہ شیئرز کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔ درج ذیل شعبوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا:

  1. کمرشل بینک (Commercial Banks): HBL، MCB اور UBL جیسے بینکوں میں تیزی دیکھی گئی. کیونکہ شرح سود میں کمی کے باوجود ان کے پورٹ فولیو میں موجود پرانے بانڈز کی ویلیو بڑھ جاتی ہے۔

  2. آئل اینڈ گیس (E&P Companies): MARI اور POL جیسے اسٹاکس میں خریداری کا رجحان رہا. جس کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی ہے۔

  3. پاور جنریشن (Power Generation): HUBCO جیسے بڑے شیئرز نے انڈیکس کو ہزاروں پوائنٹس فراہم کرنے میں مدد کی۔

مارکیٹ کے ٹاپ پرفارمرز (Top Index Contributors)

کمپنی کا نام سیکٹر اثر (Impact)
ہب پاور کمپنی (HUBCO) پاور جنریشن مثبت
ماری پیٹرولیم (MARI) آئل اینڈ گیس ریکارڈ تیزی
یونائیٹڈ بینک (UBL) بینکنگ بلندی کی سطح
اٹک ریفائنری (ARL) ریفائنری بائنگ انٹرسٹ

عالمی تناظر: وینزویلا، ڈونلڈ ٹرمپ اور تیل کی قیمتیں

پاکستان اسٹاک مارکیٹ محض مقامی عوامل پر نہیں چلتی، بلکہ عالمی سیاسی منظر نامہ (Geopolitical Landscape) بھی اس پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ حال ہی میں امریکی کارروائی کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔

عالمی حالات پاکستانی مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہو رہے ہیں؟

 وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے۔ وہاں عدم استحکام یا امریکی کنٹرول کی خبروں سے خام تیل (crude oil) کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہے. اس لیے عالمی قیمتوں میں کمی پاکستانی معیشت اور PSX (خاص طور پر سیمنٹ اور اسٹیل سیکٹرز) کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے شعبے کو کھولنے کی کوششیں اگر کامیاب ہوتی ہیں. تو عالمی مارکیٹس میں تیل کی سپلائی بڑھے گی، جس سے قیمتیں گر سکتی ہیں۔ یہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ادارتی سرمایہ کاروں کا کردار (The Power of Institutional Buying)

پیر کے روز جب مارکیٹ نے نئے سال کا آغاز کیا، تو مقامی اداروں، بالخصوص میوچل فنڈز نے جارحانہ خریداری کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پیشہ ور فنڈ مینیجرز اب اسٹاک مارکیٹ کو دیگر تمام سرمایہ کاری کے ذرائع (جیسے ریئل اسٹیٹ یا سونا) سے بہتر سمجھ رہے ہیں۔

میوچل فنڈز کے پاس عوام کا بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ جب یہ فنڈز مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، تو یہ انفرادی سرمایہ کاروں (Retail Investors) کے لیے ایک اعتماد کا سگنل ہوتا ہے۔ اس سے مارکیٹ میں ‘لیکویڈیٹی’ (liquidity) بڑھتی ہے اور قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

میری 10 سالہ مشاہدے کے مطابق، جب مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے. تو عام طور پر ریٹیل انویسٹر خوف کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، ‘ٹرینڈ آپ کا دوست ہے’ (Trend is your friend)۔ جب تک ادارتی سرمایہ کاری کا بہاؤ مثبت ہے. مارکیٹ میں ہر گراوٹ (Dip) خریداری کا ایک موقع ہوتی ہے۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کا رجحان اور عالمی مارکیٹ سے موازنہ

پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ایشیائی منڈیاں بھی منگل کو مثبت نظر آئیں۔ جاپان کا ٹوپکس (Topix) انڈیکس 1.3 فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا. جبکہ ہانگ کانگ اور آسٹریلیا میں بھی تیزی دیکھی گئی۔

وال اسٹریٹ (Wall Street) پر ڈاؤ جونز کی بلندی نے بھی عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی حالیہ پرفارمنس اسے اس وقت خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ (Top-Performing Market) بنا رہی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل: سرمایہ کاروں کے لیے مشورے (Forward Guidance)

185,000 کی سطح عبور کرنے کے بعد، اب سب کی نظریں اس سوال پر ہیں کہ "کیا یہ تیزی برقرار رہے گی؟”

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

  • پرافٹ ٹیکنگ (Profit Taking): جب مارکیٹ اتنی تیزی سے اوپر جاتی ہے، تو کچھ سرمایہ کار منافع کمانے کے لیے شیئرز بیچتے ہیں، جس سے عارضی گراوٹ آ سکتی ہے۔ اسے ‘کریکشن’ (correction) کہا جاتا ہے اور یہ ایک صحت مند مارکیٹ کی نشانی ہے۔

  • مانیٹری پالیسی کا اعلان: اگر اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس (1%) تک کی کمی کر دی، تو انڈیکس بہت جلد 200,000 کی سطح کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

  • سیاسی استحکام: ملک میں سیاسی استحکام اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ معاملات کی ہمواری مارکیٹ کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔

اختتامیہ.

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 185,000 کی حد عبور کرنا محض ایک عدد نہیں. بلکہ ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ مقامی اداروں کی سپورٹ، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام کی امید، اور شرح سود میں ممکنہ کمی وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس ریکارڈ ریلی کو جنم دیا ہے۔

تاہم، ایک سمجھدار سرمایہ کار کے طور پر آپ کو ہمیشہ ‘رسک مینجمنٹ’ (risk management) کو اولیت دینی چاہیے. اسٹاک مارکیٹ میں مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں. لیکن جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے اعدادوشمار اور ماہرانہ تجزیوں پر بھروسہ کرنا ہی طویل مدتی کامیابی کی ضمانت ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 انڈیکس اس سال 200,000 کی سطح کو چھو لے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اپنے پورٹ فولیو کے بارے میں مشورہ لیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button