مائیکروسوفٹ کارپوریشن کے معاشی نتائج، امریکی ڈالر میں گراوٹ

مائیکروسوفٹ کارپوریشن کے معاشی نتائج جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جس کے بعد امریکی ڈالر میں شدید فروخت ریکارڈ کی گئی ہے۔ کئی دنوں سے بیئرش ریلی کا شکار ڈالر اسٹاکس کی طلب میں اضافے اور مارکیٹ کے محتاط انداز کے باعث بیک فٹ پر نظر آ رہا ہے۔

مائیکروسوفٹ کارپوریشن کے ناقابل شکست نتائج

امریکی جائنٹس یعنی ٹیکنالوجی کی دنیا پر راج کرنیوالی بڑی کمپنیوں مائیکرو سوفٹ اور ایلفابیٹ (سابقہ گوگل) کے معاشی نتائج پر مبنی رپورٹ جسے U.S Tech Earning Report کہا جاتا ہے کے مطابق گذشتہ سال کے آخری کوارٹر اور رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران انکی مجموعی آمدنی اور فی شیئر ارننگ میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ان کے علاوہ آج دیگر کمپنیوں کے کوارٹرلی رزلٹس بھی پبلش کئے جائیں گے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ Microsoft کے نتائج 2022ء کے آخری کوارٹر کے ہیں۔

 

بل گیٹس کی مائیکرو سوفٹ اپنے معاشی نتائج سے ایک مرتبہ پھر عالمی اسٹاکس (Global Stocks) میں تیزی کی وجہ بن گئی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال Azure اور Cloud کی سروسز کی طلب میں 27 فیصد کمی دیکھی گئی۔ تاہم 2022ء کے اختتام پر ایک طویل عرصے تک ٹیکنالوجی کی دنیا پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنیوالی مائیکرو سوفٹ کے ریونیو میں زبردست اضافہ ہوا۔ جس سے دنیا بھر کی مارکیٹس میں ٹیکنالوجی اسٹاکس ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

 

مائیکرو سوفٹ کی طرف سے جاری کردہ اسٹاکس ڈیکلیریشن کے مطابق اسکی فی شیئر آمدنی میں 2.45 ڈالرز اضافہ ہوا جبکہ مارکیٹ توقعات 2.23 ڈالرز تھیں۔ اس طرح کمپنی کی مجموعی آمدنی 52.86 ارب ڈالرز رہی۔ جبکہ 51.02 بلیئن ڈالرز کا تخمینہ جاری کیا گیا تھا۔

 

گذشتہ روز مائیکروسوفٹ کی ورچوول پریس کانفرنس میں فائنانس چیف ایمی ہڈ نے 54.85 سے 55.85 ارب ڈالر ریونیو کا دعوی کیا تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ متوقع کوارٹرلی گروتھ 6.7 فیصد ہے۔ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جینس کی بنیاد پر بننے والے سافٹ ویئرز کی ریکارڈ سیلز پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔

آج کی رپورٹ میں کمپنی کی Annual Net Income یعنی سالانہ آمدنی میں 9 فیصد اضافہ ہوا جو کہ امریکی اسٹاکس میں ایک ریکارڈ اور فائنانس چیف ایمی ہڈ کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔ Microsoft Intelligent Cloud Segment جس میں Azure, انٹر پرائز سروسز، SQL سرور، اور ونڈوز سرور شامل ہیں کی حقیقی آمدنی (Net Income) 22.08 ارب ڈالر رہی۔ جو کہ گذشتہ سال کی نسبت 16 فیصد زائد ہے۔ انتظامیہ نے دنیا بھر میں اپنے شیئرز ہولڈرز کے غیر معمولی ورچوول اجلاس میں تمام سرمایہ کاروں اور صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 2 ڈالرز فی شیئر Dividend کا اعلان بھی کیا۔

مارکیٹ کا ردعمل

معاشی نتائج جاری ہونے کے بعد دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اسٹاکس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ امریکی ڈالر میں دیگر کرنسیز کے مقابلے میں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button