SEC کی نئی "Innovation Exemption” پالیسی! امریکی مارکیٹس میں ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد؟

Despite Government shutdown challenges, SEC Chair Paul Atkins signals commitment to innovation

امریکی Securities and Exchange Commission) SEC)  نے ایک ایسے وقت میں مالیاتی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے. جب حکومت کی بندش (Shutdown) نے کئی اقتصادی محکموں کی رفتار سست کر دی ہے۔ Chair Paul Atkins نے واضح کر دیا ہے کہ ادارہ 2025 کے اختتام یا 2026 کی پہلی سہ ماہی تک Innovation Exemption کو باقاعدہ قانون بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ریگولیٹری تبدیلی نہیں. بلکہ امریکی فنانشل مارکیٹس کے مستقبل کی سمت طے کرنے والا سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • SEC کی ترجیح Innovation Exemption کو 2025 تک باقاعدہ قانون بنانا ہے۔

  • امریکی حکومت کی بندش نے ریگولیٹری عمل میں تاخیر پیدا کی ہے۔

  • Paul Atkins کے مطابق، کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثے "Job One” ہیں۔

  • GENIUS Act جیسے قوانین کے ذریعے Stablecoins کے استعمال میں تیزی متوقع ہے۔

  • Visa جیسے عالمی ادارے پہلے ہی USDC کو اپنے نظام میں شامل کر رہے ہیں۔

Innovation Exemption کیا ہے اور SEC اسے کیوں لانا چاہتا ہے؟

SEC کی Innovation Exemption ایک مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک (Regulatory Framework) ہے. جو کرپٹو کمپنیوں اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کو موجودہ سیکیورٹیز قوانین (Securities Laws) کے کچھ حصوں سے عارضی یا مشروط رعایت دے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کمپنیاں بغیر کسی مسلسل ریگولیٹری خطرے کے امریکہ میں نئے پروڈکٹس اور خدمات تیار کر سکیں۔

SEC چیئر اٹکنز نے واضح کیا ہے کہ کرپٹو ان کی ایجنسی کے لیے ‘اولین ترجیح’ (job one) ہے۔ گزشتہ انتظامیہ میں جو ‘ریگولیشن بائی انفورسمنٹ’ (Regulation-by-Enforcement) کا طریقہ کار اپنایا گیا. اس نے انوویشن کو بیرون ملک دھکیل دیا۔ اب SEC کا مقصد اس رجحان کو تبدیل کرنا اور ڈویلپرز کو یہ احساس دلانا ہے. کہ وہ امریکہ میں محفوظ طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔

Innovation Exemption کیسے کام کر سکتا ہے؟

یہ Innovation Exemption ممکنہ طور پر محدود مدت اور مخصوص شرائط کے ساتھ آئے گا. جو کمپنیوں کو یہ موقع دے گا کہ وہ اپنی مصنوعات کو ریٹیل انویسٹرز (Retail Investors) کے لیے بڑی سطح پر لانچ کرنے سے پہلے ٹیسٹ کر سکیں۔ اس سے SEC کو نئی مصنوعات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کے لیے مناسب قواعد (Rules) تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

ریگولیشن بائی انفورسمنٹ سے رسمی قواعد کی طرف تبدیلی کیوں ضروری ہے؟

میرا دس سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ Financial Markets میں غیر یقینی (Uncertainty) سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جب بھی کسی شعبے، جیسے کہ نئے ڈیریویٹوز (Derivatives) یا ٹیکنالوجی اسٹاکس (Technology Stocks) ، میں ریگولیٹری وضاحت (Regulatory Clarity) کا فقدان ہوتا ہے، تو بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional Investors) اور بینک خطرہ مول لینے سے گریز کرتے ہیں۔

ریگولیشن بائی انفورسمنٹ کا مطلب ہے کہ آپ کو ریگولیٹر کی طرف سے قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے. کہ آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ مارکیٹ کو منجمد کر دیتا ہے۔ رسمی اور واضح قواعد آنے سے پہلے، ہم نے کرپٹو میں بہت سے باصلاحیت منصوبوں کو دیکھا ہے. جو واضح رہنمائی کی کمی کی وجہ سے امریکہ سے باہر چلے گئے۔

اٹکنز کا یہ اقدام دراصل مارکیٹ کے اعتماد (Market Confidence) کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ واضح قواعد (Clear Rules) کی موجودگی ہی پائیدار ترقی (Sustainable Growth) اور طویل مدتی سرمایہ کاری (Long-Term Investment) کی بنیاد بنتی ہے۔

حکومتی شٹ ڈاؤن اور ٹائم لائن پر اس کا اثر

SEC کے سربراہ  نے تسلیم کیا کہ جاری حکومتی شٹ ڈاؤن (Government Shutdown) ایجنسی کی ضابطہ سازی کی رفتار کو بری طرح متاثر کر رہا ہے. کیونکہ اہم کام رکا ہوا ہے۔

تاہم، ان کی پختہ یقین دہانی ہے. کہ یہ Innovation Exemption سال 2025 کے اختتام یا 2026 کی پہلی سہ ماہی (First Quarter) تک ان کی اولین ترجیح رہے گی۔ یہ بات ان کاروباری اداروں کے لیے اہم ہے. جو امریکہ میں سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

مارکیٹ سٹرکچر اور سٹیبل کوائنز: مکمل تصویر

SEC کا انوویشن استثنیٰ ریگولیٹری پہیلی کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی دو دیگر اہم پیش رفت ہو رہی ہیں:

1. GENIUS ایکٹ اور سٹیبل کوائنز (Stablecoins)

GENIUS Act امریکہ میں منظور ہونے والا پہلا بڑا کرپٹو سے متعلق قانون بن گیا ہے۔ اس نے سٹیبل کوائنز کی ضابطہ سازی کا راستہ کھولا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سٹیبل کوائنز کے لیے واضح قواعد آنے کے بعد، ہم ان کے استعمال میں ایک ‘کیمبرین ایکسپلوزن’ (Cambrian Explosion) دیکھیں گے.

یعنی ان کی روزمرہ کی لین دین (Day-to-day transactions) اور مالیاتی معاہدوں (Financial Contracts) میں بڑے پیمانے پر شمولیت ہو گی۔ مثال کے طور پر، VISA جیسے بڑے ادارے پہلے ہی ادائیگی کے نظام میں USDC جیسے سٹیبل کوائنز کو شامل کر رہے ہیں۔

2. مارکیٹ سٹرکچر بل (Market Structure Bill)

GENIUS ایکٹ کے بعد اگلا بڑا چیلنج کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک وسیع تر مارکیٹ سٹرکچر بل کو منظور کرانا ہے۔ یہ بل اس بات کی وضاحت کرے گا. کہ کون سی ڈیجیٹل اثاثے سیکیورٹیز ہیں اور کون سی کموڈٹیز (Commodities)، اور ان کی نگرانی SEC اور کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) میں کیسے تقسیم کی جائے گی۔

  • مارکیٹ ماہرین کی رائے: کانگریس (Congress) میں اس بل کی منظوری پر ماہرین کی آراء منقسم ہیں۔ کچھ لابی گروپ اسے 50/50 کا امکان دے رہے ہیں. جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ 2025 میں منظور نہیں ہو سکے گا۔

Innovation Exemption دراصل مارکیٹ سٹرکچر کے بڑے مسئلے کو حل کرنے سے پہلے، صنعت کو فوری طور پر کچھ ریلیف فراہم کرنے کی SEC کی کوشش ہے۔

آنے والے سال میں سرمایہ کاروں کو کیا دیکھنا چاہیے؟

SEC کے سربراہ اٹکنز کی طرف سے Innovation Exemption پر ضابطہ سازی شروع کرنے کی یقین دہانی ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت کے لیے ایک امید افزا قدم ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے. کہ امریکی حکومت اب انوویشن کو دبانے کے بجائے اسے اندرون ملک فروغ دینے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔

مارکیٹ پر اثرات. 

  1. اعتماد کی بحالی: رسمی قواعد (Formal Rules) غیر یقینی صورتحال کو کم کریں گے، جو ادارہ جاتی سرمائے (Institutional Capital) کی کرپٹو مارکیٹ میں آمد کا راستہ کھول سکتے ہیں۔

  2. ڈویلپر کا تحفظ: ٹیکنالوجی کمپنیوں کو قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر امریکہ میں کام کرنے کی اجازت ملے گی، جس سے ٹیلنٹ کا انخلاء (Talent Drain) رکے گا۔

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ‘ریگولیشن بائی انفورسمنٹ’ کی جگہ ‘ریگولیشن بائی رول’ (Regulation by Rule) لے رہا ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ ضابطہ سازی کتنی جامع اور قابل عمل (Actionable) ثابت ہوتی ہے۔ یہ وہ بنیادی تبدیلی ہے. جو اگلے ایک دہائی کے لیے امریکی مالیاتی اور کرپٹو مارکیٹوں کی سمت متعین کرے گی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Securities and Exchange Commission کا یہ قدم امریکی کرپٹو انوویشن کو بیرون ملک جانے سے روکنے میں کامیاب ہو گا؟ آپ اس موقع پر اپنے سرمایہ کاری کے منصوبے میں کیا تبدیلی لائیں گے؟ ہمیں کمنٹس میں بتائیں۔

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button