قطر کی LNG اوور سپلائی سے مقامی Gas Production معطل، حکومت دباؤ میں
Government Faces Tough Choices Amid Costly LNG Deals
پاکستان کو اس وقت Qatar کے ساتھ ہونے والے مہنگے اور طویل المدتی معاہدوں کے باعث LNG کی اوور سپلائی کا سامنا ہے جس نے مقامی Gas Production کو معطل کر دیا ہے۔
اس مالیاتی سکینڈل کا مرکز وہ پیچیدہ معاہدے ہیں جنہوں نے توانائی کے شعبے کو مہنگی درآمدات اور سبسڈی کے جال میں پھنسا دیا ہے۔ حکومت اب Energy Demand and Supply میں توازن قائم کرنے کے لیے متحرک ہے. لیکن عالمی مارکیٹ، مقامی ضروریات اور سیاسی دباؤ نے فیصلے مزید مشکل بنا دیے ہیں۔
خلاصہ
-
Qatar کے ساتھ دوسرا طویل المدتی LNG Agreement ملک میں مہنگی گیس کی فراہمی کا باعث بنا.
-
معاہدے کے تحت 400 ایم ایم سی ایف ڈی تک کی یومیہ فراہمی نے مقامی Gas Production کو متاثر کیا.
-
حکومت کو 300 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس کی پیداوار معطل کرنی پڑی.
-
150 ارب روپے کی سبسڈی محفوظ صارفین اور 250 ارب روپے کی RLNG گھریلو صارفین کو منتقل کی گئی.
-
مقررہ گیس چارجز میں 200 روپے اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا.
-
ایران-پاکستان Gas Pipeline Project پر ثالثی جاری، نگران کمیٹی تشکیل.
-
وزیر توانائی نے ایک ہی Energy Ministry کی تجویز دی.
-
نجی شعبے کی شمولیت محدود، موجودہ RLNG Terminals کے پاس اضافی گنجائش نہیں.
-
پیٹرولیم مصنوعات کی Deregulation بتدریج مکمل کرنے کا عندیہ دیا گیا.
قطر کے ساتھ دوسرا طویل المدتی معاہدہ.
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے میڈیا کو بتایا کہ سابق حکومت نے توانائی کے تحفظ کے لیے دوسرا LNG Agreement قطر کے ساتھ کیا. جس نے شروع میں تو بحران کو روکا مگر اب اس کی قیمت معیشت کو چکانی پڑ رہی ہے۔
مقامی Gas Production معطل ہونے کی وجوہات
مہنگی RLNG کے بڑھتے اخراجات نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ 300 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی Gas Production روک دے. تاکہ اضافی درآمدی گیس کی کھپت ممکن ہو۔
Energy Subsidy کا مالی بوجھ
150 ارب روپے کی سبسڈی محفوظ صارفین کو دی گئی جبکہ 250 ارب روپے کی مہنگی RLNG بجلی کے شعبے سے گھریلو صارفین تک منتقل ہوئی. جس سے مقررہ چارجز میں 200 روپے اضافہ لازمی ہو گیا۔
Iran-Pakistan Gas Pipeline اور Regional Tensions
Power Division کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ Gas Pipeline Project پر پیرس میں ثالثی جاری ہے، جبکہ اس پر ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ موجودہ RLNG Terminals کے پاس Qatar کی مہنگی گیس کی نجی درآمدات کی اضافی گنجائش نہیں، اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات کی Deregulation بتدریج کی جائے گی تاکہ مالی دباؤ کم ہو۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



