Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
پاکستانی کاروبار

گل احمد ٹیکسٹائل کا صنعتی توسیع کا منصوبہ اور Renewable Energy منصوبوں کی منظوری

★اہم نکات

  • •43.75 ایکڑ اراضی کا حصول: کمپنی نے SITE نوری آباد میں پانچ اضافی پلاٹس خریدنے کی منظوری دی ہے، تاہم یہ عمل ضروری قانونی، انتظامی اور ضابطہ جاتی تقاضے پورے ہونے سے مشروط ہے۔
  • •7.5 میگاواٹ ونڈ ٹربائن: ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے Goldwind کی فراہم کردہ ونڈ ٹربائن نصب کی جائے گی، جس کا انتظام Orient Energy Systems کرے گی۔
  • •6 میگاواٹ تک سولر پاور پلانٹ: کمپنی نے JinkoSolar کے سولر پینلز پر مشتمل منصوبے کی منظوری دی ہے، جبکہ مقامی سطح پر متعلقہ کام A2Z Energy Systems انجام دے گی۔
  • •20 میگاواٹ آور بیٹری اسٹوریج: بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے 20 میگاواٹ آور صلاحیت کا Battery Energy Storage System قائم کیا جائے گا، جس کی فراہمی Sungrow Power Supply کرے گی۔
  • •پلاٹ A-44 کا حصول مکمل: کمپنی نے نوری آباد میں پلاٹ A-44 کے ساتھ عمارت، پلانٹ، مشینری اور دیگر متعلقہ اثاثوں کا حصول مکمل ہونے کی اطلاع بھی دی ہے۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

56 مشاہدات

گل احمد ٹیکسٹائل کی صنعتی توسیع، کپڑے کی تیاری، سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی نمائندگی کرتی تصویر۔
گل احمد ٹیکسٹائل کی صنعتی توسیع اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے، جن میں سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شامل ہیں۔

پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنی گل احمد ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (Gul Ahmed Textile Mills)نے صنعتی سرگرمیوں میں توسیع اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سندھ کے صنعتی علاقے نوری آباد میں مزید 43.75 ایکڑ اراضی حاصل کرنے، ونڈ ٹربائن نصب کرنے، سولر پاور پلانٹ قائم کرنے اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لگانے کی منظوری دی ہے۔ یہ اقدامات کمپنی کی پیداواری صلاحیت، توانائی کے انتظام اور طویل مدتی صنعتی حکمت عملی کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ نوٹس کے مطابق، کمپنی کے بورڈ کا اجلاس 24 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا، جس میں اراضی کے حصول اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں کے ذریعے گل احمد اپنی صنعتی بنیاد کو مزید مستحکم کرنے اور بجلی کی ضروریات کے لیے متبادل ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Gul Ahmed Textile Mills کی صنعتی توسیع، نوری آباد میں مزید اراضی کی منظوری

Gul Ahmed Textile Mills نے سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹس لمیٹڈ (SITE) کے صنعتی علاقے نوری آباد، ضلع جامشورو میں پانچ اضافی پلاٹس حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان پلاٹس کا مجموعی رقبہ 43.75 ایکڑ بنتا ہے، جو کمپنی کے صنعتی اثاثوں میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

منظور شدہ پلاٹس میں B-80A کا رقبہ 12 ایکڑ، B-153 کا 18 ایکڑ، B-236 کا چار ایکڑ، A-473 کا آٹھ ایکڑ اور B-268 کا 1.75 ایکڑ شامل ہے۔ ان پلاٹس میں سے سب سے بڑا رقبہ 18 ایکڑ پر مشتمل ہے، جبکہ باقی چار پلاٹس کمپنی کی مجوزہ صنعتی توسیع میں اضافی جگہ فراہم کریں گے۔

تاہم، کمپنی کے مطابق ان اراضی کی خریداری حتمی تکمیل سے پہلے ضروری جانچ پڑتال، کارپوریٹ منظوریوں، قانونی کارروائی اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں سے مشروط ہے۔ اس لیے بورڈ کی منظوری کو اراضی کے حصول کی تکمیل سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

Renewable Energy: ونڈ اور سولر پاور منصوبوں کی منظوری

اراضی کے حصول کے ساتھGul Ahmed Textile Mills نے توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کی بھی منظوری دی ہے۔ کمپنی نے 7.5 میگاواٹ کی ونڈ ٹربائن نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو Goldwind فراہم کرے گی، جبکہ Orient Energy Systems (Private) Limited اس منصوبے کے ذریعے متعلقہ آلات کی فراہمی اور تنصیب میں کردار ادا کرے گی۔

اس کے علاوہ، بورڈ نے چھ میگاواٹ تک صلاحیت کے سولر پاور پلانٹ کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے میں JinkoSolar Holding Co., Ltd. کے سولر پینلز استعمال کیے جائیں گے اور مقامی سطح پر کام A2Z Energy Systems (Private) Limited انجام دے گی۔

ونڈ اور سولر توانائی کے منصوبوں کا بنیادی کاروباری فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ کمپنی اپنی بجلی کی ضروریات کا کچھ حصہ خود پیدا کر سکے۔

اگر یہ منصوبے مؤثر انداز میں مکمل اور آپریشنل ہوتے ہیں تو بجلی کی خریداری پر انحصار کم کرنے، توانائی کے اخراجات کو بہتر طور پر منظم کرنے اور پیداواری سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ان ممکنہ فوائد کا انحصار منصوبوں کی تکمیل، پیداواری کارکردگی، تنصیب کی لاگت اور دیکھ بھال کے اخراجات پر ہوگا۔

بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ

Gul Ahmed Textile Mills کے منصوبوں میں 20 میگاواٹ آور صلاحیت کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم بھی شامل ہے، جس کی فراہمی Sungrow Power Supply Co., Ltd. کرے گی، جبکہ Orient Energy Systems اس منصوبے میں معاونت کرے گی۔ کمپنی نے اس نظام کے لیے 0.5C ریٹنگ بھی منظور کی ہے۔

بیٹری اسٹوریج سسٹم قابل تجدید توانائی کے انتظام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دستیاب اضافی بجلی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سولر پاور کی پیداوار میں دن کے مختلف اوقات میں تبدیلی آتی ہے، جبکہ ہوا سے بجلی کی پیداوار بھی موسمی حالات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بیٹری اسٹوریج توانائی کی فراہمی اور استعمال کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

20 میگاواٹ آور اس نظام کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ 0.5C ریٹنگ بیٹری کی چارجنگ اور ڈسچارجنگ کی شرح سے متعلق ہے۔ تاہم، نظام کی اصل افادیت اس کی ترتیب، آپریٹنگ حالات اور کمپنی کے بجلی کے استعمال کے طریقہ کار پر منحصر ہوگی۔

SITE نوری آباد میں پلاٹ کا حصول مکمل

نئے پلاٹس کی منظوری کے علاوہ، گل احمد نے تصدیق کی ہے کہ SITE نوری آباد میں پلاٹ A-44 کا حصول مکمل ہو چکا ہے۔ اس لین دین میں صرف زمین ہی نہیں بلکہ عمارت، پلانٹ، مشینری، متعلقہ آلات اور دیگر منسلک اثاثے بھی شامل ہیں۔

یہ پیش رفت نئی خریداری کی منظوری سے مختلف ہے، کیونکہ کمپنی کے مطابق A-44 سے متعلق حصول مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اضافی پانچ پلاٹس کی خریداری ابھی ضروری رسمی کارروائیوں سے مشروط ہے۔

پہلے سے موجود صنعتی اثاثوں اور نئے مجوزہ پلاٹس کو یکجا دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی نوری آباد میں اپنی صنعتی موجودگی کو وسعت دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم، اس توسیع کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت یا آمدنی میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا تعین مستقبل میں سامنے آنے والی کاروباری تفصیلات اور مالی نتائج سے ہی کیا جا سکے گا۔

گل احمد کا ٹیکسٹائل اور ریٹیل بزنس

Gul Ahmed Textile Mills ایک مربوط ٹیکسٹائل کمپنی ہے جو مختلف ٹیکسٹائل مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ ہے۔ کمپنی کی سرگرمیاں صرف صنعتی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ اس کا ریٹیل کاروبار بھی ملک بھر میں موجود ہے۔

کراچی سے شروع ہونے والا کمپنی کا ریٹیل نیٹ ورک اب پاکستان میں 40 سے زیادہ اسٹورز تک پھیل چکا ہے۔ ان اسٹورز پر فیشن، ملبوسات اور گھریلو استعمال کی مختلف مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔

یہ کاروباری تنوع کمپنی کو صنعتی پیداوار اور براہ راست صارفین تک رسائی، دونوں شعبوں میں موجودگی فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں صنعتی اراضی میں توسیع اور توانائی کے متبادل منصوبے کمپنی کی مجموعی کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، اگرچہ ان اقدامات کے مالی اثرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے سرمایہ کاری کی لاگت، منصوبوں کی تکمیل اور مستقبل کے مالیاتی اعداد و شمار ضروری ہوں گے۔

سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی کی حیثیت سے گل احمد کے ان فیصلوں پر سرمایہ کاروں کی توجہ رہ سکتی ہے۔ صنعتی اراضی میں اضافہ مستقبل کی توسیع کے لیے جگہ فراہم کر سکتا ہے، جبکہ قابل تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کے منصوبے بجلی کے اخراجات اور توانائی کے انتظام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تاہم، صرف منصوبوں کی منظوری کو کمپنی کے منافع میں اضافے کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اراضی کے حصول اور توانائی کے منصوبوں پر مجموعی سرمایہ کاری کتنی ہوگی، ان کی تکمیل کا شیڈول کیا ہے، اور ان سے عملی طور پر لاگت اور پیداواری کارکردگی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

مجموعی طور پر گل احمد ٹیکسٹائل کے فیصلے صنعتی توسیع، توانائی کے متبادل ذرائع اور بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار مؤثر عمل درآمد اور ان کے طویل مدتی کاروباری فوائد پر ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Gul Ahmed Textile Mills کا گرین انرجی اور BESS میں سرمایہ کاری کا ماڈل دیگر پاکستانی صنعتی اداروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Pakistan Stock Market News, PSX Business News & Updates | Investify

⚠ ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ یہ کوئی سرمایہ کاری، مالیاتی، یا تجارتی مشورہ نہیں ہے۔ فاریکس (Forex)، اسٹاک، کموڈٹیز اور کرپٹو کرنسی کی تجارت میں نمایاں مالی خطرہ موجود ہے اور یہ ہر سرمایہ کار کے لیے موزوں نہیں۔ ماضی کی کارکردگی مستقبل کے نتائج کی ضمانت نہیں ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لیں اور کسی مستند مالیاتی مشیر سے رجوع کریں۔ اردو مارکیٹس اس مضمون میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں