پاکستان مقروض ممالک کے فورم ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کا سربراہ مقرر
★اہم نکات
- •پاکستان کو سال 27-2026 کے لیے اقوام متحدہ کے تحت قائم کردہ ’Borrowers Platform‘ کی گورننگ کونسل کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔
- •اس پلیٹ فارم کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے درمیان قرضوں کے انتظام (Debt Management)، تکنیکی تعاون (Technical Cooperation) اور باہمی تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
- •اگست 2026 کے اختتام تک پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے کل واجب الادا قرض 82 ہزار 953 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
- •اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) کے مطابق دنیا کے 46 ممالک صحت اور تعلیم سے زیادہ وسائل قرضوں کی سود کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
عالمی مالیاتی منظرنامے میں ایک اہم پیشرفت کے دوران پاکستان کو قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے نئے بین الاقوامی فورم Borrowers Platform (باروئرز پلیٹ فارم) کی گورننگ کونسل کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ملکی سطح پر اقتصادی سفارت کاری کی کامیابی کا عکاس ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بنکاک میں ہونے والے ورلڈ بینک اور IMF کے سالانہ اجلاس کے دوران سامنے آنے والی اس پیشرفت نے عالمی مالیاتی اداروں کی توجہ مبذول کروا دی ہے۔ اس مضمون میں ہم Borrowers Platform کے مقاصد، اس کے قیام کی پس منظری وجوہات اور پاکستان پر عائد مجموعی قرضوں کے حجم کا تفصیلی تجزیہ پیش کریں گے۔
باروئرز پلیٹ فارم کا تعارف
تجارت اور ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (UNCTAD) کے تحت قائم ہونے والا Borrowers Platform ایک ایسا بین الاقوامی فورم ہے جو خاص طور پر قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد اراکین کو ایک ایسا مشترکہ فورم مہیا کرنا ہے جہاں وہ مالیاتی مسائل، قرضوں کے بہتر انتظام اور تیکنیکی تعاون پر کھل کر تبادلہ خیال کر سکیں۔
اس فورم کو قائم کرنے کا مقصد کسی بھی طرح اراکین کی طرف سے اجتماعی طور پر قرضوں کی ادائیگی سے گریز یا کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں ہے، بلکہ اس کا ہدف شفافیت، پالیسیوں کے تبادلے اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بہتر تکنیکی طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
اس پلیٹ فارم کا آغاز 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن میں کیا گیا تھا، جہاں ابتدائی طور پر مصر کو عبوری چیئرمین اور پاکستان کو نائب چیئرمین کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اب بنکاک میں منعقدہ اجلاس کے بعد پاکستان کو باضابطہ طور پر سال 27-2026 کے لیے اس کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سونپ دی گئی ہے۔
Borrowers Platform کے مقاصد
گذشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی سطح پر شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ترقی پذیر معیشتوں پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ UNCTAD کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 میں ترقی پذیر ممالک کا بیرونی قرض بڑھ کر 11.7 ٹریلیئن ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ان ممالک نے اپنی حکومتی آمدنی کا اوسطاً 10 فیصد حصہ صرف بیرونی قرض دہندگان کو سود کی مد میں ادا کیا۔ کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید تشویشناک ہے کیونکہ وہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ قرضوں کی نذر کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی مالیاتی نظام کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ روایتی طور پر قرض دہندگان کی قائم کردہ تنظیمیں قرض لینے والے ممالک کے مسائل کا مؤثر حل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے Borrowers Platform کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
اس پلیٹ فارم کا پہلا بنیادی مقصد مل کر سیکھنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ اراکین کو یہ موقع فراہم کیا جا سکے کہ وہ اپنے کامیاب تجربات دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور مالیاتی بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹ سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، یہ پلیٹ فارم حکومتی سطح پر قرضوں کے ریکارڈ، ری فائنانسنگ اور Risk Management کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے Debt Management کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر زور دیتا ہے۔
مزید برآں، اس کا ایک اور اہم ہدف عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنا، پالیسی سازی میں ان کا اثر و رسوخ بڑھانا اور بین الاقوامی سطح پر ان کی اجتماعی آواز کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔
خود پاکستان پر کتنا قرض ہے؟
عالمی فورم پر قیادت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ خود ملکی معیشت کن مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ مالیاتی رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے اگست 2026 کے اختتام تک مجموعی قرض 82 ہزار 953 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو کہ ایک سال قبل اگست 2025 کے اختتام پر 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔
پاکستان کے اس مجموعی قرضے کی ساخت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 87 ارب ڈالر ہے۔ اس بیرونی مالیاتی بوجھ میں Paris Club کے رکن ممالک کے 5.2 ارب ڈالر اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے طویل المدتی 43.5 ارب ڈالر شامل ہیں، جبکہ قلیل المدتی مالیاتی اداروں کا قرضہ ایک ارب ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک سے حاصل کردہ دو طرفہ قرضوں کا حجم 14 ارب ڈالر ہے۔
عالمی کیپیٹل مارکیٹ یعنی Capital Market کی بات کی جائے تو پاکستان نے Eurobonds، Sukuk اور دیگر مالیاتی بانڈز کے ذریعے تقریباً 6 ارب ڈالر حاصل کر رکھے ہیں۔ جہاں تک کمرشل قرضوں کا تعلق ہے، پاکستان پر طویل المدتی کمرشل قرضے 6.4 ارب ڈالر اور قلیل المدتی کمرشل قرضے 8.3 ارب ڈالر واجب الادا ہیں۔ اس تمام ساخت کے ساتھ ساتھ IMF سے حاصل کردہ فنانسنگ کا مجموعی حجم تقریباً 11 Billion Dollars بنتا ہے۔
جب ہم مارکیٹ میں طویل المدتی بانڈز اور Exchange Rates کی نقل و حرکت کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بیرونی قرضوں کی Refinancing اور فارن ایکسچینج ریزروز کا توازن کسی بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
معاشی نقطہ نظر اور مستقبل کا منظرنامہ
پاکستانی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے Borrowers Platform کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "قرض کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ایک ذریعہ بننا چاہیے۔" یہ سوچ اس بات کی عکاس ہے کہ اب پالیسی ساز روایتی قرضوں کے حصول سے ہٹ کر بنیادی اصلاحات اور ریونیو جنریشن پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
عالمی فنانشل مارکیٹس میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ چیلنج ہمیشہ سے اہم رہا ہے کہ وہ اپنے تجارتی خسارے کو قابو میں رکھیں اور برآمدات میں اضافہ کریں۔ جب تک ملکی معیشت Foreign Direct Investment (FDI) اور برآمدی نمو پر انحصار نہیں بڑھاتی، اس وقت تک عالمی قرضوں کے چکر سے مکمل آزادی حاصل کرنا ایک مشکل ہدف رہے گا۔
تاہم، Borrowers Platform کی سربراہی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی مالیاتی حکمت عملی کو بہتر بنانے اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔
حاصل کلام
پاکستان کا Borrowers Platform کی گورننگ کونسل کا چیئرمین منتخب ہونا ایک اہم سفارتی اور معاشی سنگِ میل ہے۔ جہاں ایک طرف ملک کو اگست 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق 82 ہزار 953 ارب روپے کے بھاری بھرکم اندرونی اور بیرونی قرضوں کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف اس پلیٹ فارم کی قیادت ملنے سے پاکستان کو عالمی مالیاتی فورمز پر اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرنے کا موقع ملا ہے۔
اب اصل امتحان اس بات کا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے توسط سے حاصل ہونے والے تجربات اور تکنیکی تعاون کو عملی جامہ پہنا کر ملکی معیشت کو کس طرح پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جاتا ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ترقی پذیر ممالک کا یہ فورم عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں میں کوئی نمایاں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکے گا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس سیکشن میں ضرور شیئر کریں۔
انتباہ
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Investify Pakistan
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
پاکستان کی عالمی بانڈز حکمت عملی: پانڈا کے بعد اب سیمورائی بانڈز کے امکانات کا جائزہ
IMF کی پیشگوئی: پاکستان میں 2027 تک افراط زر 9.9% اور معاشی نمو 3.5% رہنے کا امکان
گورنر راج اور سیاسی عدم استحکام ، PSX میں نئے کاروباری ہفتے کا منفی آغاز
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔