پاکستان معاشی جائزہ: 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور مثبت حقیقی شرح سود کے ساتھ معاشی استحکام برقرار
★اہم نکات
- •اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد اور افراط زر (CPI) 11.10 فیصد پر موجود ہے، جس سے 0.40 فیصد کی مثبت حقیقی شرح سود قائم ہے۔
- •انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 277.10 پر برقرار ہے، جو بیرونی کھاتے کے کنٹرول اور ترسیلاتِ زر کی مسلسل حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔
- •پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس کی سطح پر مستحکم بنیادوں پر موجود ہے۔
- •تیزی کی تصدیق افراط زر میں کمی اور ترسیلات کے اضافے سے ہوگی جبکہ 282.00 USD/PKR سے تجاوز مندی کے منظرنامے کو متحرک کرے گا۔
- •سی پی آئی (CPI) کا 13.00 فیصد سے تجاوز کرنا موجودہ معاشی استحکام کی بنیادی تھیسس کو منسوخ کر دے گا۔
پاکستان کا مالیاتی اور معاشی منظرنامہ اس وقت ایک طویل متوقع موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں گزشتہ کئی ماہ کی سخت مالیاتی پالیسی اور ساختی اصلاحات کے نتائج کیپیٹل مارکیٹ اور معاشی اشاریوں پر نمودار ہو رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے مرکزی پالیسی ریٹ (policy rate) کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے یا اس میں تدریجی تدبیر اپنانے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ، ملک کا قومی افراط زر (CPI) 11.10 فیصد پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال طویل عرصے بعد ملک کو مثبت حقیقی شرح سود (positive real interest rate) کے زمرے میں قائم رکھے ہوئے ہے، جو نہ صرف بچت کرنے والوں کے اعتماد کو بحال کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔
غیر ملکی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 277.10 کے قریب معقول حد میں کاربند نظر آتا ہے۔ گزشتہ سیشنز کے مقابلے میں USD/PKR کی شرح میں -0.4400 فیصد کی معمولی تبدیلی دیکھی گئی ہے، جو کہ کسی ہنگامی جھٹکے کا نتیجہ نہیں بلکہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کی معمول کی روانی کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا نمائندہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس کی مضبوط سطح پر برقرار ہے۔ تمام تر عالمی اور علاقائی خدشات کے باوجود پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں نچلی سطح پر ادارہ جاتی خریداری اور بنیادی معاشی اعادہ (re-rating) کے آثار واضح ہیں۔
کیا ہوا اور موجودہ مارکیٹ کی صورتحال
پاکستان کی معاشی بنیادیں اس وقت چار بنیادی ستونوں پر استوار نظر آتی ہیں: مالیاتی پالیسی کا تعادل، افراط زر پر گرفت، زرمبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کے ساتھ درپیش پیشرفت۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے پالیسی ریٹ کو 11.50 فیصد کی سطح پر طے کر رکھا ہے، جو اس سے قبل کی انتہائی بلند شرح سود کے مقابلے میں معیشت کو سانس لینے کا موقع دے رہا ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق افراط زر کی موجودہ شرح 11.10 فیصد پر موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ حقیقی شرح سود 0.40 فیصد (40 بیسس پوائنٹس) مثبت ہے۔ یہ مثبت ریٹ مالیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے اور سستے کریڈٹ کے باعث پیدا ہونے والے مصنوعی سیالیت (liquidity) کے خطرے کو محدود کرتا ہے۔
کرنسی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR کا جوڑا 277.10 کی حد کے گرد گھوم رہا ہے۔ اگرچہ اس میں 0.4400 فیصد کی روزانہ کی بنیاد پر تدریجی نچلی تبدیلی دیکھی گئی ہے، مگر یہ سطح بیرونی کھاتے پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کی تصدیق کرتی ہے۔ برآمد کنندگان کی جانب سے بروقت ڈالر کی وصولیاں اور وارد کنندگان کے محدود تجارتی آرڈرز نے روپے کو ایک طے شدہ دائرے میں رکھا ہے۔ ذخائر میں اچانک کمی کے بغیر کرنسی کا یہ استقرار اوپن مارکیٹ اور انٹربینک کے درمیانی فرق (spread) کو بھی کم سے کم سطح پر رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر (FX reserves) کی صورتحال اس وقت درآمدی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ (CAD) تاریخی حدوں سے کافی نیچے آ چکا ہے، جس کی بڑی وجہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (remittances) اور تجارتی خسارے پر مسلسل کنٹرول ہے۔ انہی معاشی بنیادوں کی بدولت KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس کی اونچی سطح پر مستحکم ہے، جو گزشتہ ہفتوں کے دوران 169,969 پوائنٹس کی تاریخی بلندی کو چھونے کے بعد معمولی پرافٹ ٹیکنگ (profit-taking) کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ایسا کیوں ہوا: محرکات اور تعلقات
اس معاشی استحکام اور قیمتوں کے اس توازن کے پیچھے متعدد عوامل اور ان کے باہمی تعلقات کارفرما ہیں۔ سب سے اہم محرک اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کے درمیان مالیاتی اور معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی کا قائم ہونا ہے۔ ماضی میں انتہائی بلند افراط زر کے بعد، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بنیادی بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول نے CPI کو 11.10 فیصد پر لانے میں مدد دی۔ جب افراط زر پالیسی ریٹ سے نیچے آتا ہے تو مارکیٹ میں انویسٹر کا اعتماد بڑھتا ہے کہ اب مرکزی بینک کے پاس شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے، جو کاروباری لاگت کو کم کر سکتی ہے۔
بیرونی محاذ پر، جاری کھاتے کے خسارے (CAD) کا محدود رہنا روپے کی قدر کو سہارا دینے والا کلیدی عنصر ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ہر ماہ آنے والی ترسیلاتِ زر (remittances) نے تجارتی خسارے کے خلا کو پر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ قانونی ذرائع سے رقم کی منتقلی میں اضافہ اور فارن ایکسچینج کمپنیوں کے لیے سخت رولز کے نفاذ نے غیر قانونی سرمائے کی منتقلی کو روکا ہے، جس کی بدولت USD/PKR 277.10 کی معقول سطح پر قائم ہے۔ جب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی آمد تسلی بخش ہوتی ہے تو مرکزی بینک کو زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے بازار سے ہنگامی خریداری نہیں کرنی پڑتی۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت جاری اصلاحات نے معاشی خطرات کا اثر کم کر دیا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، توانائی کے شعبے کے دائرہ کار کو درست کرنے اور گردشی قرضے (circular debt) پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے غیر ملکی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کو مثبت اشارے دیے ہیں۔ اس ساختی پیشرفت کی وجہ سے پاکستان کے س Sovereign اور یورو بانڈز کی ییلڈز میں استحکام آیا ہے، جس کا مستقیم مثبت اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر پڑا ہے اور KSE-100 انڈیکس 168,637 کی سطح پر مستحکم کھڑا ہے۔
حمایتی شواہد
موجودہ معاشی بیانیے اور مثبت رجحان کی تائید کے لیے کئی بنیادی اور ڈیٹا پر مبنی شواہد موجود ہیں۔ سب سے پہلا ثبوت مثبت حقیقی شرح سود کا وجود ہے۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ معیشت میں مثبت حقیقی شرح سود برقرار ہے، جو اس بات کی ضمانت ہے کہ سرمائے کی فراہمی میں بگاڑ پیدا نہیں ہو رہا۔ ماضی کی طرح منفی حقیقی شرح سود کے بجائے موجودہ ماحول بچت اور مستحکم سرمائے کی طرف ترغیب دیتا ہے۔
دوسرا اہم ثبوت کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (volatility) کا کم ہونا ہے۔ USD/PKR کی شرح 277.10 پر ہونا اور اس میں -0.4400% کی معمولی ترین نچلی حرکت ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ میں پینک بائنگ (panic buying) بالکل نہیں ہے۔ ڈالر کی دستیابی انٹربینک مارکیٹ میں معمول کے مطابق ہے، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک کے ہفتہ وار زرمبادلہ کے ڈیٹا سے بھی ہوتی ہے جہاں بیرونی ادائیگیوں کے باوجود ذخائر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
تیسرا ثبوت کیپیٹل مارکیٹ کی کارکردگی ہے۔ KSE-100 انڈیکس کا 168,637 پوائنٹس پر برقرار رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ مقامی اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو معاشی بحالی کا یقین ہے۔ بینکنگ، فرٹیلائزر، اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (E&P) جیسے انڈیکس ہیوی سیکٹرز میں مضبوط کمائی (earnings) اور پائیدار ڈیوڈنڈ ییلڈ کی توقعات انڈیکس کو زوال پذیری سے بچائے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ والیومز کا معقول سطح پر رہنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال اپنی ہولڈنگز فروخت کرنے کے بجائے قائم رکھے ہوئے ہیں۔
متضاد شواہد اور اہم غیر یقینیاں
تمام تر مثبت معاشی اشاریوں کے باوجود، کچھ ایسے متضاد شواہد اور غیر یقینی صورتحال موجود ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ سب سے بڑی غیر یقینی صورتحال عالمی مارکیٹ میں بنیادی اجناس بالخصوص خام تیل (Brent crude) کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ برآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر جیولوجیکل تناؤ یا اوپیک کی پیداواری پالیسی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ ہوتا ہے، تو اس سے پاکستان کا تجارتی خسارہ دوبارہ پھیل سکتا ہے، جس کا بلاواسطہ دباؤ USD/PKR اور ذخائر پر پڑے گا۔
دوسرا اہم خدشہ افراط زر کا دوبارہ سر اٹھانا (inflation sticky nature) ہے۔ 11.10 فیصد CPI اگرچہ پچھلے بلند ترین اعداد و شمار سے بہتر ہے، لیکن بجلی اور گیس کے ٹیرف میں متوقع ایڈجسٹمنٹس اور خوراک کی قیمتوں میں موسمی تبدیلیاں افراط زر کو دوبارہ اوپر دھکیل سکتی ہیں۔ اگر CPI 13.00 فیصد سے تجاوز کرتا ہے تو اسٹیٹ بینک کو اپنی شرح سود میں کمی کی حکمت عملی کو مؤخر یا تبدیل کرنا پڑے گا، جو بازارِ حصص کے لیے منفی ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسری غیر یقینی صورتحال کا تعلق ایف بی آر (FBR) کے ٹیکس اہداف اور مالیاتی خسارے سے ہے۔ اگر ٹیکس وصولیوں میں ہدف سے بڑی کمی رہ جاتی ہے تو حکومت کو بینکنگ سیکٹر سے مزید قرضہ حاصل کرنا پڑے گا، جس سے نجی شعبے کی کریڈٹ آف ٹیک (credit off-take) متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، جاری کھاتے کا کنٹرول اگر صرف درآمدات پر پابندیوں یا سست رفتار معاشی نمو کے سبب قائم ہے، تو یہ ایک عارضی ڈھال ہے کیونکہ صنعتی ترقی کی بحالی کے لیے خام مال کی آزادانہ درآمد انتہائی ضروری ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر پر نئے تقاضے عائد کرے گی۔
منظرنامے (تیزی اور مندی) اور ان کی تصدیق
موجودہ معاشی اشاریوں کی بنیاد پر آئندہ کے دو واضح منظرنامے سامنے آتے ہیں جن کی تصدیق مخصوص شرائط کی بنا پر کی جا سکتی ہے:
تیزی کا منظرنامہ (Bullish Scenario): اس منظرنامے کے تحت، اگر انے والے مہینوں میں ترسیلاتِ زر کی سالانہ بنیادوں پر آمد مسلسل مستحکم رہتی ہے اور برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، تو زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔ افراط زر 11.00 فیصد سے نیچے کی طرف گامزن رہنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان پالیسی ریٹ کو تدریجی طور پر کم کرنے کی گنجائش دیکھے گا۔ اس صورتِ حال میں USD/PKR کی قیمت 275.50 کی طرف مستحکم ہوگی جبکہ KSE-100 انڈیکس پچھلی بلند ترین سطح 169,969 پوائنٹس کو عبور کر کے 172,000 اور 175,000 پوائنٹس کی حد کو چھو سکتا ہے۔ اس منظرنامے کی تصدیق مسلسل مثبت جاری کھاتے (Current Account) کے نتائج اور ایم پی سی (MPC) کی جانب سے شرح سود پر نرم موقف سے ہوگی۔
مندی کا منظرنامہ (Bearish Scenario): اس منظرنامے میں، اگر بین الاقوامی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں بڑا اچھال آتا ہے یا ملکی سطح پر مالیاتی خسارہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے، تو CPI افراط زر 13.00 فیصد کے گرد واپس آ سکتا ہے۔ اس سے مثبت حقیقی شرح سود ختم ہو جائے گی اور مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ 11.50 فیصد سے بڑھانے یا معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ تصدیق کی صورت میں انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 282.00 کی مزاحمتی سطح کو توڑ کر اوپر نکل جائے گا جبکہ KSE-100 انڈیکس میں نچلی سطح کی طرف پیش قدمی ہوگی اور وہ 165,000 یا 162,000 پوائنٹس کی حمایت کی طرف گر سکتا ہے۔
کیا بدلا اور آگے کیا اہم ہے
گزشتہ ڈیسک اپڈیٹ اور بنیادی تھیسس کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا معاشی بیانیہ بڑی حد تک اپنے متعین کردہ راستے پر قائم ہے۔ پچھلی تھیسس کے دوران KSE-100 انڈیکس 169,969 پوائنٹس کی انتہائی سطح کو چھو رہا تھا اور روپیہ 276.98 پر موجود تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق روپیہ معمولی نرمی کے بعد 277.10 اور اسٹاک انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔ یہ تبدیلی کسی بنیادی تنزلی کا اشارہ نہیں دیتی بلکہ بازار میں قدرے اصلاح (consolidation) اور اگلے اہم معاشی ڈیٹا کے انتظار کی نشاندہی کرتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بنیادی منسوخی کی حد (invalidation limit) یعنی CPI کا 13.00% ہونا یا USD/PKR کا 282.00 سے اوپر جانا ابھی تک دور ہیں، جس کے باعث معاشی استحکام کا بنیادی بیانیہ بحال ہے۔
آگے دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کے لیے متعدد محرکات اہم رہیں گے:
اول، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اگلا اجلاس انتہائی حاسب ہوگا جس میں پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دوئم، اگلے مہینے کا CPI ڈیٹا جو یہ واضح کرے گا کہ آیا افراط زر 11.10 فیصد سے مزید نیچے آ رہا ہے یا بجلی و گیس کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سوئم، زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلاتِ زر کی نئی ماہانہ رپورٹس جو جاری کھاتے کے خسارے کی اصل تصویر پیش کریں گی۔ چہارم، آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی رپورٹس جو ملک کے مالیاتی نظم و ضبط پر حتمی مہر تصدیق ثبت کریں گی۔ جب تک یہ اعداد و شمار متوقع حد کے اندر رہتے ہیں، پاکستان کا مالیاتی منظرنامہ تدریجی بہتری کے راستے پر قائم رہے گا۔
📊 ڈیسک کا جائزہ
- ریگیم: monetary easing and macro stabilization · اعتماد: 95/100
- کیا بدلا: USD/PKR کی شرح مبادلہ 276.98 سے معمولی تبدیل ہو کر 277.10 پر آئی ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,969 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کے بعد 168,637 پوائنٹس کے قریب مستحکم انداز میں معاشی ڈیٹا کا منتظر ہے۔
- تیزی کا منظرنامہ: اگر برآمدات اور ترسیلاتِ زر کی مسلسل امداد سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہتے ہیں اور CPI افراط زر 11% سے نیچے برقرار رہتا ہے تو KSE-100 انڈیکس دوبارہ 170,000 پوائنٹس کی سطح کو عبور کر سکتا ہے۔
- مندی کا منظرنامہ: اگر افراط زر میں غیر متوقع اضافہ ہوتا ہے یا USD/PKR کی شرح 282.00 کی حد سے تجاوز کرتی ہے تو مالیاتی سختی کی بازگشت سے بازارِ حصص میں اصلاحی دباؤ آ سکتا ہے۔
- تھیسس کب غلط ہوگی: سی پی آئی افراط زر کا 13.00 فیصد سے تجاوز کر جانا یا USD/PKR کا 282.00 سے اوپر نکل جانا اس معاشی استحکام کے بنیادی بیانیے کو منسوخ کر دے گا۔
- کلیدی سطحیں: USD/PKR حمایت: 275.50، مزاحمت: 282.00 | KSE-100 حمایت: 165,000، مزاحمت: 170,000
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان میں اس وقت حقیقی شرح سود کی کیا صورتحال ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد ہے جبکہ افراط زر (CPI) 11.10 فیصد پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح ملک میں مثبت حقیقی شرح سود (positive real interest rate) موجود ہے جو بچتوں اور معاشی استحکام کو سہارا دیتی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان معیشت پر کیا اثر ڈال رہے ہیں؟
آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے تحت جاری مالیاتی نظم و ضبط اور مسلسل غیر ملکی ترسیلاتِ زر (remittances) نے زرمبادلہ کے ذخائر (FX reserves) کو سہارا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ (CAD) کنٹرول میں ہے اور انٹربینک میں روپیہ مستحکم بنیادوں پر معاشی سرگرمیوں کو رقم کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (KSE-100) کی موجودہ سطح کیا ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس کی مضبوط سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔ معاشی استحکام، پالیسی ریٹ میں کمی کی توقعات اور مستحکم روپے کی بدولت مارکیٹ کا عمومی رجحان مثبت بنا ہوا ہے۔
USD/PKR کے لیے کون سی سطحیں اہم ہیں؟
انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR اس وقت 277.10 کی سطح پر موجود ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے 275.50 ایک اہم حمایتی سطح ہے جبکہ 282.00 کی سطح کو انتہائی اہم مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
🔗 پاکستان سے متعلق مزید: پاکستان معیشت · تازہ ترین خبریں
🌐 بیرونی ذرائع: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) ↗ · ادارہ شماریات پاکستان (PBS) ↗
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
پاکستان کا تجارتی خسارہ 6 فیصد اضافے سے 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
پاکستان میں یٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں ستمبر 2026 کے دوران 2 فیصد کمی
پاکستان میں مہنگائی 10.3 فیصد پر آگئی، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں تیز اضافہ
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔