Smart Meter منصوبے پر سوالات، صارفین پر 1.4 ٹریلین روپے کے بوجھ کا خدشہ
★اہم نکات
- •2.3 ارب ڈالر کا منصوبہ: PPIB پانچ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں تقریباً 16.2 ملین جدید میٹر نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
- •1.4 ٹریلین روپے کی ممکنہ ادائیگیاں: FPCCI کے تخمینے کے مطابق، 12 سالہ مالیاتی معاہدے کے تحت صارفین کی مجموعی ادائیگیاں اس سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
- •ماہانہ ادائیگیوں کا بوجھ: 40 ہزار روپے فی میٹر کی مفروضہ لاگت اور 15 فیصد شرح سود کی بنیاد پر فی میٹر ماہانہ ادائیگی تقریباً 615 روپے بن سکتی ہے۔
- •کارکردگی سے منسلک ادائیگیوں کا مطالبہ: کاروباری برادری چاہتی ہے کہ ادائیگیاں بجلی کے نقصانات میں کمی اور وصولیوں میں قابلِ تصدیق بہتری سے مشروط ہوں۔
- •مقامی پیداوار اور سائبر سکیورٹی: منصوبے میں مقامی سطح پر میٹر تیار کرنے اور بجلی کے نظام کو بیرونی سائبر خطرات سے محفوظ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
- •NEPRA کی نگرانی: FPCCI نے مطالبہ کیا ہے کہ آزادانہ لاگت و فائدے کے تجزیے، شفاف قیمتوں اور ریگولیٹری جانچ کے بغیر منصوبے کو حتمی شکل نہ دی جائے۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لیے PPIB نے 2.3 ارب ڈالر کے مجوزہ منصوبے پر مشاورت شروع ہو گئی ہے، جس کے تحت پانچ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں 1 کروڑ 62 لاکھ جدید میٹر نصب کیے جائیں گے۔ تاہم، کاروباری برادری اور FPCCI نے منصوبے کی لاگت، ادائیگیوں کے طریقہ کار اور صارفین پر ممکنہ مالی بوجھ کے حوالے سے سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے مطابق، اگر مجوزہ مالیاتی ڈھانچے پر عمل کیا گیا تو 12 سال کے دوران صارفین کی مجموعی ادائیگیاں تقریباً 1.4 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ بجلی کے نقصانات میں کمی اور بلوں کی وصولی میں بہتری کے متوقع فوائد تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں کیے گئے۔
پاکستان میں 2.3 ارب ڈالر کے Smart Meter منصوبے کی تفصیلات
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) نے متعلقہ اداروں اور کاروباری نمائندوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) سے لیس تقریباً 16.2 ملین بجلی میٹر نصب کیے جائیں گے، تاکہ بجلی کی کھپت کی نگرانی، بلنگ اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مکمل کرنے کی تجویز ہے اور اس کا دائرہ پانچ تقسیم کار کمپنیوں تک محدود ہوگا۔ ان میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (PESCO)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (QESCO) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (HAZECO) شامل ہیں۔
منصوبے کا بنیادی مقصد بجلی کے استعمال کی بہتر نگرانی، میٹر ریڈنگ میں شفافیت اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ تاہم، اس کے مالیاتی ڈھانچے نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا جدید میٹرز سے حاصل ہونے والے فوائد ان کی طویل مدتی لاگت سے زیادہ ہوں گے یا اس سرمایہ کاری کی قیمت بالآخر بجلی صارفین کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔
FPCCI کے تحفظات، 12 سال میں 1.4 ٹریلین روپے کی ادائیگیوں کا خدشہ
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 13 اکتوبر کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری اعتراضات میں مجوزہ منصوبے کے مالیاتی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، اگر ہر میٹر کی مفروضہ قیمت 40 ہزار روپے رکھی جائے تو 16.2 ملین میٹرز کی ابتدائی لاگت تقریباً 648 ارب روپے بنتی ہے۔
FPCCI کے ایک وضاحتی مالیاتی حساب کے مطابق، اگر اس رقم کو 15 فیصد مفروضہ سالانہ شرح سود پر 12 سال کے دوران ادا کیا جائے تو سالانہ ادائیگیاں تقریباً 119.5 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس حساب سے فی میٹر ماہانہ ادائیگی تقریباً 615 روپے بنتی ہے، جبکہ پورے معاہدے کے دوران مجموعی ادائیگیاں تقریباً 1.4 ٹریلین روپے تک جا سکتی ہیں۔
یہ اعداد و شمار حتمی منظور شدہ لاگت نہیں بلکہ FPCCI کے مفروضوں پر مبنی تخمینے ہیں۔ ان میں مواصلاتی نظام، سافٹ ویئر اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی شامل نہیں ہیں، اس لیے اصل مالیاتی بوجھ مختلف ہو سکتا ہے۔
کاروباری تنظیم کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ حکومت کو پہلے آزادانہ لاگت و فائدے کا تجزیہ کرانا چاہیے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بجلی چوری میں کمی، لائن لاسز کی روک تھام اور بلوں کی بہتر وصولی سے حاصل ہونے والی بچت منصوبے کی مجموعی لاگت سے زیادہ ہوگی یا نہیں۔
صارفین پر Capacity Payments جیسا مالیاتی دباؤ
FPCCI نے مجوزہ ادائیگیوں کے طریقہ کار کا موازنہ بجلی پیدا کرنے والے آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے Capacity Payments ماڈل سے کیا ہے۔ اس ماڈل پر ماضی میں بھی اس لیے تنقید ہوتی رہی ہے کہ بجلی کی حقیقی پیداوار یا استعمال میں کمی کے باوجود معاہدوں کے تحت ادائیگیاں جاری رہ سکتی ہیں۔
تنظیم کے مطابق، اگر جدید میٹرز کے لیے مقررہ ماہانہ ادائیگیاں ان کی حقیقی کارکردگی سے منسلک نہ ہوئیں تو صارفین کو طویل عرصے تک اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں، چاہے بجلی کے نقصانات میں مطلوبہ کمی یا وصولیوں میں نمایاں بہتری حاصل نہ ہو۔
اسی لیے FPCCI نے مطالبہ کیا ہے کہ ادائیگیوں کو صرف میٹر نصب کرنے اور ان کے مواصلاتی نظام سے منسلک ہونے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کے عملی نتائج کی بھی تصدیق کی جائے۔ اس میں بجلی کے نقصانات میں کمی، بلوں کی وصولی میں بہتری اور مجموعی مالیاتی بچت کی پیمائش شامل ہونی چاہیے۔
ڈالر انڈیکسیشن اور روپے میں ادائیگیاں
مجوزہ منصوبے کے حوالے سے ایک اور اہم مسئلہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شرح سے منسلک ادائیگیاں ہیں۔ FPCCI کے مطابق، مسودے میں سروس ادائیگیوں کو پاکستانی روپے میں ظاہر کرنے کے باوجود ان میں Foreign Exchange Indexation کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ اس اضافے کی کوئی واضح زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں کی گئی۔
FPCCI کا مؤقف ہے کہ اگر منصوبے کے لیے سرمایہ کاری اور قرضوں کا بندوبست نجی کمپنیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے تو زرِ مبادلہ کے خطرات بھی مناسب مالیاتی انتظامات یا ہیجنگ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو برداشت کرنے چاہییں۔ اس کا مطالبہ ہے کہ صارفین سے وصول کی جانے والی ادائیگی پاکستانی روپے میں طے شدہ اور شفاف ہو، تاکہ مستقبل میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث ان کے بلوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
دوسری جانب، مشاورتی اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے میں ڈالر انڈیکسیشن شامل نہیں ہوگی۔ اس لیے حتمی مالیاتی ڈھانچے میں اس معاملے کی واضح وضاحت ضروری ہوگی، تاکہ مسودے اور مجوزہ عملی طریقہ کار کے درمیان موجود ابہام دور کیا جا سکے۔
NEPRA کی نگرانی اور قیمتوں میں شفافیت کا مطالبہ
FPCCI نے اس تجویز پر بھی اعتراض کیا ہے کہ منصوبے کے تحت سروس ادائیگیوں کو ایسے اخراجات قرار دیا جا سکتا ہے جنہیں تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف میں مکمل طور پر شامل کرکے صارفین سے وصول کیا جائے۔ تنظیم کے مطابق، اس طریقہ کار سے منصوبے کی سرمایہ کاری اور کارکردگی کے خطرات نجی سرمایہ کاروں کے بجائے صارفین پر منتقل ہو سکتے ہیں۔
اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اخراجات کی جانچ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے ذریعے کی جائے اور ادائیگیوں کو تقسیم کار کمپنیوں کی منظور شدہ مالیاتی حدود اور عملی کارکردگی کے مطابق طے کیا جائے۔
مجوزہ منصوبے میں ایک خفیہ Benchmark Price کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ FPCCI چاہتی ہے کہ مالیاتی تجاویز کھولے جانے کے وقت اس معیار اور اس کے بنیادی مفروضوں کو ظاہر کیا جائے، تاکہ ریگولیٹر اور متعلقہ فریق ان کی معقولیت کا جائزہ لے سکیں۔
تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر انہی میٹرز پر سرمایہ کاروں کو الگ سے ریگولیٹڈ منافع کی اجازت دی گئی اور ان کی لاگت بھی صارفین سے وصول کی گئی تو ایک ہی سرمایہ کاری کی دو مرتبہ وصولی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
سرکاری ضمانتیں اور مستقبل کی مالی ذمہ داریاں
منصوبے کے مالیاتی ڈھانچے میں تقسیم کار کمپنیوں کی ادائیگیوں کے تحفظ، ماسٹر کلیکشن اکاؤنٹ کے استعمال اور ممکنہ سرکاری ضمانتوں سے متعلق انتظامات بھی شامل ہیں۔ FPCCI کے مطابق، اگر حکومت 12 سالہ معاہدے کے دوران ادائیگیوں یا معاہدہ ختم ہونے پر واجبات کی ضمانت دیتی ہے تو یہ وفاقی حکومت کے لیے مستقبل کی مالی ذمہ داریاں پیدا کر سکتا ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ضمانت کی حد واضح ہو، اس کی منظوری متعلقہ قواعد کے مطابق دی جائے اور اس کی مالیاتی قیمت عوام کے سامنے رکھی جائے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی واضح کیا جائے کہ ان ادائیگیوں کو بجلی کی خریداری سے متعلق واجبات کے مقابلے میں کیا ترجیح حاصل ہوگی۔
FPCCI کا مؤقف ہے کہ جن تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی منظوری دی جا چکی ہے، انہیں اپنے جدید میٹرنگ منصوبوں کی سرمایہ کاری کے لیے ایسے انتظامات کرنے چاہییں جن کا جائزہ NEPRA لے۔ اس صورت میں نجی مالکان کو نقصانات میں کمی اور وصولیوں میں بہتری کا براہِ راست فائدہ حاصل ہوگا، لہٰذا سرمایہ کاری اور کارکردگی کے خطرات بھی انہی کو برداشت کرنے چاہییں۔
صنعتی صارفین اور دیگر بجلی کمپنیوں کو تحفظ دینے کی ضرورت
FPCCI نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ منصوبے کی لاگت ان صارفین پر منتقل نہ کی جائے جو اس سے براہِ راست فائدہ حاصل نہیں کریں گے۔ اس میں صنعتی صارفین، کے الیکٹرک کے صارفین اور دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین شامل ہیں۔
تنظیم کے مطابق، مجوزہ منصوبہ پانچ کمپنیوں میں سنگل فیز میٹرز کی تبدیلی کے لیے ہے، جبکہ بہت سے صنعتی صارفین تھری فیز میٹرنگ استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے صنعتی صارفین کو ایسے منصوبے کی لاگت برداشت کرنے کا پابند نہیں بنایا جانا چاہیے جس کے فوائد انہیں براہِ راست حاصل نہیں ہوں گے۔
اسی طرح، کے الیکٹرک اس مجوزہ منصوبے کے دائرے میں شامل نہیں ہے اور اس کے اپنے سرمایہ کاری منصوبے اور ریگولیٹری تعین موجود ہیں۔ FPCCI کا مطالبہ ہے کہ منصوبے کی ادائیگیوں کو متعلقہ کمپنیوں اور ان کے صارفین تک محدود رکھنے کے لیے واضح قانونی اور مالیاتی تحفظات شامل کیے جائیں۔
مقامی پیداوار اور Cybersecurity پر توجہ
مالیاتی اعتراضات کے ساتھ ساتھ جدید میٹرز کی ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی بھی مشاورتی اجلاس کے اہم موضوعات رہے۔ حکومت نے تاحال میٹرز کی تیاری کے لیے حتمی ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں کیا، تاہم اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ مقامی سطح پر پیداوار کو ترجیح دی جائے گی۔
بین الاقوامی کمپنیاں پاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کرکے مقامی مینوفیکچرنگ کی سہولیات قائم کر سکیں گی۔ اس عمل میں پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (PITC) بھی اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد میٹرنگ انفراسٹرکچر متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں کے حوالے کرنے کی تجویز ہے۔
شرکا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بجلی کے میٹرز اور ان سے منسلک مواصلاتی نظام میں سائبر سکیورٹی کی کمزوریوں سے حساس معلومات اور بجلی کی تقسیم کے نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور مضبوط حفاظتی انتظامات سے ان خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، صرف مقامی پیداوار کافی نہیں ہوگی۔ منصوبے کی کامیابی کے لیے ٹیکنالوجی کے معیار، ڈیٹا کے تحفظ، سافٹ ویئر کی سلامتی اور نظام کی مسلسل نگرانی کے لیے واضح اصول بھی ضروری ہوں گے۔
بجلی چوری اور کمزور وصولیوں کا مسئلہ
جدید میٹرز سے متعلق ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکنالوجی ان علاقوں میں مؤثر ثابت ہوگی جہاں صارفین بل ادا نہیں کرتے یا غیر قانونی کنکشن استعمال کرتے ہیں۔ FPCCIنے نشاندہی کی کہ اگر بلوں کی وصولی میں رکاوٹیں برقرار رہیں اور بجلی چوری پر قابو نہ پایا جا سکا تو صرف میٹرز کی تبدیلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مخصوص اقدامات متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ تاہم، ان اقدامات کی تفصیلات اور ان کے قابلِ پیمائش اہداف سامنے آنا ضروری ہے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ منصوبہ تقسیم کار کمپنیوں کی عملی کارکردگی میں کس حد تک بہتری لائے گا۔
حکومت کے لیے اصل چیلنج جدید میٹرز کی تنصیب کے ساتھ وصولیوں، بجلی کے نقصانات اور غیر قانونی کنکشنز کے خلاف مؤثر انتظامی کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
Pilot Project اور آئندہ مشاورت
PPIB کے مطابق، منصوبے کا ابتدائی آزمائشی مرحلہ اگلے ماہ شروع کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ ان اجلاسوں کا مقصد کاروباری برادری، تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تحفظات سننا اور مجوزہ منصوبے کی تفصیلات واضح کرنا ہے۔
اس عمل میں تقسیم کار کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی اعتراض کیا کہ اتنے بڑے منصوبے کی تیاری میں ان اداروں کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا جو بعد میں اسے نافذ کریں گے۔ ان کے مطابق، قومی سطح کے فیصلوں میں عملی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اداروں کی بروقت مشاورت ضروری ہے۔
FPCCI نے مطالبہ کیا ہے کہ آزادانہ لاگت و فائدے کا تجزیہ شائع ہونے، منصوبے کی مکمل لاگت اور Benchmark Price ظاہر کیے جانے، ادائیگیوں کو قابلِ تصدیق کارکردگی سے منسلک کرنے اور NEPRA کے زیرِ التوا معاملات پر فیصلے آنے تک حتمی پیش رفت روک دی جائے۔ تنظیم نے منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
پاکستان کے بجلی شعبے کے لیے اگلا اہم فیصلہ
پاکستان کے لیے جدید میٹرنگ انفراسٹرکچر بجلی کی تقسیم، بلنگ اور وصولیوں کے نظام میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی کی تنصیب پر نہیں ہوگا۔ اصل معیار یہ ہوگا کہ منصوبہ کتنے نقصانات کم کرتا ہے، کتنی اضافی وصولیاں ممکن بناتا ہے اور اس کے مقابلے میں صارفین کو کتنی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔
اگر منصوبے کے مالیاتی ڈھانچے میں شفافیت، کارکردگی کی بنیاد پر ادائیگیوں اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تو اس سے بجلی کے شعبے میں طویل مدتی بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر اخراجات کی مکمل جانچ اور متوقع فوائد کی تصدیق کے بغیر معاہدے کیے گئے تو صارفین پر ایک اور طویل مدتی مالیاتی ذمہ داری عائد ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
حکومت کے سامنے اب بنیادی فیصلہ یہ ہے کہ وہ جدید میٹرنگ کے ذریعے بجلی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے خطرات، مالیاتی ذمہ داریوں اور صارفین کے حقوق میں مناسب توازن کیسے قائم کرتی ہے۔
آپ کا اس منصوبے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا سمارٹ میٹرز پاکستان میں بجلی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے یا یہ ٹیرف میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے؟ اپنے خیالات کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
اہم وضاحت
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Business Recorder: PPIB holds talks with stakeholders: USD2.3bn project to deploy 16.2m AMI meters envisaged - Business Recorder
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
معاہدہ بدر: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا مشترکہ دفاعی و معاشی صلاحیتوں میں تعاون کا فیصلہ
IMF کا پاکستان پر ٹیکس اصلاحات, رعایتوں میں کمی اور کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو نیٹ میں لانے کا مطالبہ
پاکستان کی معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر سے تجاوز، GDP گروتھ 3.65 فیصد اضافہ ریکارڈ
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔