پاکستان: غربت میں اضافہ اور مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار: ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ
★اہم نکات
- •غربت میں اضافہ: پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران 3 ڈالر یومیہ کی خطِ غربت پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
- •علاقائی تناسب: پاکستان MENAAP کے خطے کے کل انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔
- •معاشی پیشگوئی: عالمی بینک نے 2027 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth) 3.8 فیصد اور مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
- •AI اور ڈیجیٹل صلاحیت: پاکستان کو ٹیکنیکل ٹیلنٹ اور بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات (ICT Exports) کا فائدہ حاصل ہے، تاہم جدت اور مقامی زبان کے ڈیٹا میں نمایاں کمی موجود ہے۔
عالمی بینک (World Bank) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے خطے میں انتہائی غربت کا شکار آبادی کا تقریباً نصف حصہ رکھتا ہے۔
اس چیلنجنگ پس منظر کے باوجود، ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے شعبے میں نمایاں ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔ "Divide To Opportunity: AI, Jobs, and Growth" کے عنوان سے جاری کردہ اس رپورٹ میں ملکی معیشت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
آئیے اس تفصیلی تحریر میں جانتے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت کن معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور مصنوعی ذہانت کس طرح اس معاشی بحران سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات
World Bank کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ کئی مسلسل اور شدید معاشی دھچکوں کی وجہ سے ہوا۔ ان میں کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند شرحِ مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ جیسے Macroeconomic بحران شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل مدتی معاشی اصلاحاتی عمل نے گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع کو کمزور کر دیا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا حصہ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ سال 2024 میں MENAAP کی 14.3 فیصد آبادی یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی اوسط 10.4 فیصد تھی۔ پاکستان میں ان مشکلات کے دوران حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے سے نچلے طبقے پر سب سے زیادہ دباؤ پڑا۔
معاشی نقطہ نظر: 2026 اور 2027 کے لیے ورلڈ بینک کی پیشگوئیاں
World Bank کے تخمینوں کے مطابق ملکی معیشت بتدریج بہتری کی راہ پر ہے، تاہم اسے اب بھی کئی ساختی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ عالمی بینک کے مطابق اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کے باوجود ترقی کی رفتار سرکاری اہداف سے کم رہنے کا امکان ہے، جبکہ افراط زر اور مالیاتی دباؤ بھی معیشت کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔
GDP Growth کے حوالے سے World Bank کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 2026 میں 3.7 فیصد سے بڑھ کر 2027 میں 3.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ معمولی بہتری معیشت میں بتدریج استحکام کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم 2027 کی متوقع شرح نمو حکومت کے 4 فیصد کے سرکاری ہدف سے اب بھی کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کے باوجود پاکستان کو پائیدار اور تیز رفتار ترقی کے لیے بنیادی ساختی مسائل پر مزید توجہ دینا ہوگی۔
افراط زر کے حوالے سے World Bank نے نسبتاً محتاط منظرنامہ پیش کیا ہے۔ اندازے کے مطابق 2026 میں افراط زر کی شرح 7.1 فیصد رہنے کے بعد 2027 میں بڑھ کر 8.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ افراط زر میں یہ ممکنہ اضافہ صارفین کی قوت خرید، کاروباری لاگت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے باعث اقتصادی بحالی کے عمل کو مزید چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب Current Account & Fiscal Deficit کے حوالے سے بھی عالمی بینک نے 2027 کے لیے محتاط اندازے پیش کیے ہیں۔ توقع ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے 0.8 فیصد جبکہ مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد تک محدود رہے گا۔
اگر یہ تخمینے برقرار رہتے ہیں تو بیرونی اور مالیاتی محاذ پر نسبتاً نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم معیشت کی پائیدار بحالی کے لیے مالیاتی خسارے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو مسلسل قابو میں رکھنا ضروری ہوگا۔
مصنوعی ذہانت اور پاکستان کے حقیقی مسائل
ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے باوجود، پاکستان کو خطے میں ان چند ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سالانہ تقریباً 75,000 آئی ٹی گریجوٹس اور 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ آئی ٹی برآمدات (ICT Exports) اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل سیکٹر تیزی سے ابھر رہا ہے۔
تاہم، World Bank نے خبردار کیا ہے کہ مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے باوجود کمزور جدت اور معاشی انضمام (Economic Integration) اس موقع کو محدود کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی (National AI Strategy) کے تحت سالانہ 200,000 افراد کو تربیت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں 1 ارب ڈالر کا پروگرام بھی شامل ہے جو 2030 تک مکمل ہوگا۔
لوکلائزیشن اور ڈیٹا کے چیلنج میں اردُو زبان کا کردار
مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال میں ایک بڑی رکاوٹ مقامی زبان کے مواد کی کمی ہے۔ گلوبل ویب کلیکشن (Common Crawl) کے اعداد و شمار کے مطابق، اردو زبان کا حصہ کل URLs میں صرف 0.03 فیصد ہے، جبکہ عربی اور فارسی کا حصہ 0.7 فیصد فی کس ہے۔
Frontier AI Models انگریزی اور اردو میں عام سوالات کے جوابات تو یکساں طور پر دے سکتے ہیں، لیکن اردو کے نثری اور انسانی علوم (Humanities) کے مضامین پر ان کی درستگی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس لیے، مقامی زبان میں معیاری ڈیجیٹل ڈیٹا کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔
بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور "چھوٹی مصنوعی ذہانت" (Small AI) کا تصور
پاکستان کو بجلی کی قلت اور موبائل براڈبینڈ سبسکرپشنز میں کمی جیسے بنیادی ڈھانچے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں Small AI یعنی سستی اور بنیادی نوعیت کی ایپلی کیشنز جو عام موبائل فونز اور کم رفتار انٹرنیٹ پر کام کر سکیں، زرعی، صحت اور تعلیمی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، سرکاری خدمات کی آن لائن فراہمی میں پاکستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی ہے، جس کی مدد سے حکومتی سطح پر اے آئی کے نفاذ کے تجربات کامیابی سے کیے جا سکتے ہیں۔
اختتامیہ
World Bank کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کو بیک وقت غربت کے خاتمے، افراط زر پر قابو پانے اور ڈیجیٹل معیشت خصوصاً مصنوعی ذہانت کے فروغ پر توجہ دینی ہوگی۔ روایتی چیلنجز کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہی ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان کا ڈیجیٹل ٹیلنٹ ملک کو اس معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو گا؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
اہم وضاحت
Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
سورس (Source)
Pakistan Stock Market News, PSX Business News & Updates | Investify
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تعاون، بیجوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ
SBP کا نیا ڈیجیٹل چیک کلیئرنس نظام: پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم کا آغاز
جیپکو نجکاری: پی سی بورڈ نے 9 کمپنیوں کو پری کوالیفائی کر لیا
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔