Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
پاکستان معیشت

تھر کول بلاک ٹو کا فیز تھری: سالانہ پیداوار 1.12 کروڑ ٹن تک پہنچ گئی

★اہم نکات

  • •پیداوار میں اضافہ: تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) سے کوئلے کی سالانہ پیداوار 7.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن سالانہ ہو گئی ہے۔
  • •سستی بجلی: مائن ماؤتھ پاور پلانٹ (Mine Mouth Power Plant) پر بجلی کی لاگت کم ہو کر 3.75 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس (MMBtu) رہ جائے گی، جو درآمدی کوئلے سے تقریباً تین گنا سستی ہے۔
  • •زرمبادلہ کی بچت: اس توسیع سے سالانہ تقریباً 15 ارب روپے (54 ملین ڈالر) بجلی کی پیداوار میں اور 220 ملین ڈالر غیر ملکی زرِ مبادلہ میں بچائے جا سکیں گے۔
  • •صنعتی استعمال: حکومت تھر کے کوئلے سے یوریا اور گیس (Syngas) بنانے کے منصوبوں پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

95 مشاہدات

Thar Coal Block II Phase III Expands Mine Output to 11.2M Tonnes
تھر کول بلاک II فیز III میں کان کنی کی پیداوار بڑھ کر 11.2 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔

پاکستان کی معاشی تاریخ میں توانائی کا شعبہ ہمیشہ سے ہی ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ فنانشل مارکیٹس اور میکرو اکنامک (Macroeconomic) تجزیہ کاروں کے نزدیک، کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس کے زرِ مبادلہ (Foreign Exchange) کے ذخائر اور توانائی کے متبادل اور سستے ذرائع پر ہوتا ہے۔ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اس منصوبے سے نہ صرف سالانہ کوئلے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی درآمدی بل (Import Bill) پر بھی اس کے گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Thar Coal Project کی اہمیت

Thar Coal پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں واقع ایک وسیع اور دیسی لگنائٹ کوئلے کا ذخیرہ (Indigenous Lignite Coal Reserve) ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے جس کا تخمینہ 175 ارب ٹن ہے۔

یہ ذخیرہ نہ صرف ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مالیاتی نقطہ نظر سے درآمدی ایندھن پر انحصار کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری اور توانائی کے استحکام کے لیے ایسے مقامی وسائل کسی بھی ملک کی فنانشل مارکیٹس میں اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جب ہم عالمی کماڈٹی مارکیٹس میں توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن ممالک کے پاس اپنے دیسی توانائی کے ذرائع ہوتے ہیں، وہ بیرونی جھٹکوں اور تیل یا گیس کے بحران سے سب سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ تھر کا کوئلہ پاکستان کی انرجی سیکیورٹی (energy security) کے لیے ایک ایسا ہی ڈھال کا کام کر سکتا ہے۔

Thar Coal بلاک ٹو فیز تھری کی توسیع

تھر کوئل بلاک ٹو فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کا بنیادی مقصد مائننگ کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مطابق، یہ پورا منصوبہ سو فیصد خود فنانسنگ (100% self-financing) کے تحت مکمل کیا گیا ہے، جو کہ مقامی معیشت کی داخلی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پیداوار میں نمایاں اضافہ

Thar Coal کی پیداوار کی سالانہ گنجائش پہلے 7.6 ملین ٹن تھی، جسے بڑھا کر 11.2 ملین ٹن سالانہ کر دیا گیا ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں سالانہ پیداواری گنجائش میں 3.6 ملین ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔ اس منصوبے کی فنانسنگ مکمل طور پر ملکی وسائل سے کی گئی ہے، جس سے مقامی وسائل کے استعمال اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔

اس توسیع کے نتیجے میں Lucky Electric Power Company کا 660 میگاواٹ کا پاور پلانٹ اب مکمل طور پر تھر کے کوئلے پر کام کرے گا۔ اس کے بعد تھر کے کوئلے سے مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھ کر 1,980 میگاواٹ ہو جائے گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق، مقامی کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پاور جنریشن کی لاگت میں خاطر خواہ کمی آنے کی توقع ہے، جس سے بجلی کی پیداوار کے مجموعی اخراجات پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

کوئلے سے گیس اور یوریا کی تیاری

صرف بجلی کی پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے، حکومت اب Thar Coal کو گیس اور یوریا بنانے کے لیے استعمال کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ کوئلہ گیس کاری (Coal Gasification) کے ذریعے صنعتی ایندھن اور کھاد کی صنعت کو سستا خام مال فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، مجوزہ تھر ریل پروجیکٹ (Thar Rail Project) کے ذریعے اس کوئلے کو ملک کے دوسرے حصوں تک باآسانی پہنچایا جا سکے گا، جس سے سپلائی چین کے مسائل حل ہوں گے اور صنعتی پیداوار میں تیزی آئے گی۔

اختتامیہ

Thar Coal بلاک ٹو فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کا آغاز پاکستان کی توانائی کی تاریخ اور معاشی استحکام کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ جس طرح سے اس منصوبے کو خود مالی اعانت (Self Financing) کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے، وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب دیسی وسائل کو درست حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

طویل مدتی سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے یہ اشارہ انتہائی مثبت ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بتدریج خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا Thar Coal ہ پاکستان کو طویل مدتی توانائی کے بحران سے نکالنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکے گا ہمیں نیچے کمنٹس باکس میں ضرور بتائیں۔

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور Market Information صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

Source

Pakistan Stock Market News, PSX Business News & Updates | Investify

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں