PSX میں تیزی،IMF کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع

PSX میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ IMF کے ساتھ ورچوول مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہے۔ اسکے علاوہ ہفتے کے روز چینی بینک سے 50 کروڑ ڈالرز امداد کی قسط موصول ہوئی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ان خبروں سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا۔

عالمی ادارے سے مثبت توقعات

عالمی ادارے (IMF) نے اپنے پریس ریلیز میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اس کے چیف مشن نیتھن پورٹر کی سربراہی میں اسکی ٹیم نے وزارت خزانہ کے ساتھ بات چیت کی ہے تاہم ورچوول مذاکرات آج سے شروع ہوں گے۔ آج دونوں فریق مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے ریونیو جنریشن کے حوالے سے پیشگی اقدامات اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو یہ خلاء پورا کرنے کیلئے 170 ارب روپے ریونیو اکھٹا کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ جبکہ باقی رقم باقی رقم دیگر ذرائع جن میں سبسڈی ختم کر کے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حاصل کی جائے گی۔ ان اہداف کو پورا کرنے کیلئے پہلے ہی پارلیمنٹ میں قانون سازی کر لی گئی ہے۔ جس کے بعد عالمی ادارے کے کا پروگرام بحال ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

چینی امداد کی پہلی قسط موصول

عالمی ادارے کی نئی شرائط میں چین جیسے دو طرفہ قرض دہندگان سے امداد کی ضمانت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ جسے پورا کرنے کیلئے بیجنگ سے امداد کی پہلی قسط 50 کروڑ ڈالرز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو موصول ہو گئے ہیں۔ جس سے اس کے زرمبادلہ ذخائر 4 ارب ڈالرز سے بڑھ گئے ہیں۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ چینی امداد کی مجموعی رقم 1 ارب 30 کروڑ ڈالرز سے زائد ہے جو تین اقساط میں پاکستان کو دی جائے گی۔ گذشتہ ہفتے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے عالمی معاشی اداروں اور طاقتور ممالک سے پاکستان کے مالیاتی نظام کو بکھرنے سے بچانے کیلئے فوری مدد کی اپیل کی تھی۔

اس سلسلے میں پہلا قدم بھی چینی حکومت نے ہی اٹھایا ہے اور دو روز کے دوران 50 کروڑ ڈالرز SBP کو ٹرانسفر کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ نئی امداد گذشتہ ہفتے چائنا ڈویلپمنٹ بینک کے جاری کردہ 30 کروڑ ڈالر پیکیج کے علاوہ ہے۔ اس طرح رواں مالی سال کے دوران چین کی طرف سے دیا جانیوالا قرض 1 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ چین 3 ارب ڈالرز قسطوں کے وصولی بھی ری۔شیڈول کر چکا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اثرات

اختتام ہفتہ پر ہونیوالی اس پیشرفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے حجم اور شیئر والیوم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آج KSE100 میں دن کا آغاز 433 پوائنٹس اضافے سے 41770 کے لیول پر ہوا۔ انڈیکس کی ٹریڈنگ رینج 41337 سے 41771 کے درمیان ہے۔ دوسری طرف KSE30 بھی 142 پوائنٹس تیزی سے 15726 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اسکی کم ترین سطح 15561 اور بلند ترین 15727 رہا۔

آج مارکیٹ میں آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا متاثرکن حجم ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ شیئر بازار کے ابتدائی سیشن میں 228 کمپنیاں ٹریڈ میں حصہ لے رہی ہیں۔ جن میں سے 166 کی اسٹاک ویلیو میں تیزی، 52 میں کمی جبکہ 10 میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button