ٹیلی نار پاکستان کی شیئرز فروخت کرنے کے لئے عالمی کمپنیوں سے بات چیت

ٹیلی نار پاکستان (Telenor) پاکستان کے ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن سیکٹر کی اہم ترین کمپنیز میں سے ایک ہے۔ Norway Telecom کی یہ بین الاقوامی شاخ ٹیلی کمیونیکیشن کے تمام شعبوں میں معیاری خدمات مہیا کرنے کے حوالے سے ملک بھر میں مقبول ہے۔ تاہم پاکستان روپے کی مسلسل گراوٹ کی وجہ سے اسوقت شدید مالی مشکلات کی شکار ہے۔ جس کے بعد کمپنی انتظامیہ متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کے ساتھ کمپنی کے شیئرز فروخت کرنے کے لئے بات چیت کر رہی ہے

ٹیلی نار پاکستان کی طرف سے سرمایے کی منتقلی

امریکی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار پاکستان میں اپنے تمام آپریشنز بند کرنے اور اثاثوں کی فروخت کے لئے 2023ء کے پہلے کوارٹر کے دوران نیلامی کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے۔ اماراتی ادارہ Wateen Telecom اس سلسلے میں مضبوط ترین امیدوار ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس سے قبل انہیں وجوہات کی بناء پر Warid Telecom بھی پاکستان میں اپنے تمام معاشی اور مستقل اثاثے فروخت کر چکی ہے۔

ٹیلی کام پاکستان سے اپنے آپریشنز بند کرنے کے بعد بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔ بلومبرگ کے مطابق Tele Norway پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchang Reserves) میں کمی اور متعدد بار کمپنی کو مذہبی انتہاء پسندوں کی طرف سے بھی نشانہ بنیایا گیا۔

معاملات کے حل کیلئے کمپنی کی کوششیں

کمپنی انتظامیہ 2019ء سے ہی حکومت پاکستان اور سپریم کورٹ سے اپیلیں کر چکی ہے تاہم کسی بھی طرف سے کوئی مناسب ازالہ اور سرمائے کے تجفظ کی یقین دہانی نہ ہونے کے بعد کمپنی نے پاکستان میں کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس حوالے سے ٹیلی نار کے ترجمان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ کمپنی ترجیحی بنیادوں پر اپنے 50 فیصد شیئرز کی فروخت کے لئے عالمی معاشی ادارے CITI Group کے زریعے جلد ہی نیلامی منعقد کرے گی تاہم کپمنی اپنے تمام اثاثے بیچنے کا فی الحال ارادہ نہیں رکھتی۔

کمپنی ترجمان نے پاکستان میں Infrastructure کے مسائل اور توانائی کی قیمتوں میں ہونیوالے کئی گنا اضافے کے علاوہ ملک میں فارن ایکسچینج ریزروز کی قلت کے علاوہ ٹیکسز اور دیگر مسائل پر سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے جانیوالے احکامات کو اپنے فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ دریں اثنا مالیاتی بحران کی وجہ سے منافع کی منتقلی میں درپیش مشکلات بھی فوری طور پر ملک سے تمام شیئرز کی منتقلی کیلئے کی جانیوالی کوششوں کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے.

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button