Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
کرپٹو

سرکل نے 40 نئے عالمی ممالک میں USDC کا دائرہ کار بڑھانے کا بڑا منصوبہ متعارف کرا دیا

★اہم نکات

  • •توسیعی منصوبہ: کرپٹو کمپنی سرکل (Circle) ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے 40 نئے ممالک میں اپنے اسٹیبل کوائن USDC کی فراہمی بڑھا رہی ہے۔
  • •روایتی بینکوں کا متبادل: کراس بارڈر (Cross-Border) یعنی بین الاقوامی ادائیگیاں اب بینکوں کے بجائے تیز رفتار اور سستے اسٹیبل کوائنز کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
  • •اسٹریٹجک اقدام: سنگاپور کی پیمنٹ فرم 'Tazapay' کی 400 ملین ڈالر میں خرید اور 'Arc' بلاک چین کا قیام سرکل کو 100 سے زائد مارکیٹوں تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا۔
  • •نئے استعمال کے طریقے: مصنوعی ذہانت یعنی AI ایجنٹس اب آن لائن خدمات کی خریداری کے لیے USDC کے ذریعے خودکار مائیکرو پیمنٹس کر رہے ہیں۔
  • •ریگولیٹری پیشرفت: امریکی جینیئس ایکٹ (GENIUS Act) جیسے شفاف قوانین اور مرکزی بینکوں کے رویے میں تبدیلی نے بڑے مالیاتی اداروں کے لیے اسٹیبل کوائنز کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

52 مشاہدات

عالمی مارکیٹس میں USDC ڈیجیٹل کرنسی کی توسیع اور مالیاتی نیٹ ورک کی عکاسی کرتی تصویر۔
سرکل نے USDC کی رسائی 40 نئی مارکیٹس تک بڑھا دی۔

عالمی مالیاتی نظام اس وقت ایک تاریخی موڑ (Inflection Point) سے گزر رہا ہے جہاں روایتی بینکاری کا ڈھانچہ اور جدید ڈیجیٹل کرنسی ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ وہ بلاک چین ٹیکنالوجی (Blockchain Technology) جو کبھی صرف چند ٹیکنالوجی کے دلدادہ افراد یا قیاس آرائی کرنے والے ٹریڈرز تک محدود تھی، اب دنیا بھر کے معاشی نظام کا بنیادی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) کی دنیا کی سب سے بڑی جاری کنندہ کمپنیوں میں سے ایک، سرکل (Circle) کا عالمی سطح پر 40 نئے ممالک میں نیٹ ورک پھیلانے کا حالیہ اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل ڈالر اب روایتی بینکاری کے نظام کو نچلی سطح پر چیلنج کر رہا ہے۔

اسٹیبل کوائنز کی طلب میں اضافہ

اسٹیبل کوائنز ایسی ڈیجیٹل کرنسیوں کو کہا جاتا ہے جن کی قیمت کسی روایتی کرنسی، جیسے امریکی ڈالر (USD)، کے ساتھ 1:1 کی نسبت سے جڑی ہوتی ہے۔ بٹ کوائن (Bitcoin) یا ایتھریم (Ethereum) کی طرح ان کی قیمتوں میں شدید اتارے چڑھاؤ (Volatility) نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ رقم کے تبادلے اور ادائیگیاں کرنے کے لیے انتہائی موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

اگر ہم عالمی معاشی حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں مقامی کرنسیوں کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور افراط زر (Inflation) میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں کاروبار اور عام افراد اپنی بچتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل ڈالر کا سہارا لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ روایتی سوئفٹ (SWIFT) نظام کے تحت بین الاقوامی رقم کی منتقلی میں کئی دن لگتے ہیں جبکہ USDC کے ذریعے یہ کام سیکنڈوں میں ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی ہنڈی یا بینک ٹرانسفر پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں جبکہ بلاک چین پر یہ لاگت نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ نیٹ ورک دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے 7 دن بغیر کسی تاخیر کے کام کرتا ہے۔

Circle بمقابلہ ٹیتھر : مارکیٹ شیئر کا موازنہ

ڈیجیٹل ڈالرز کی دنیا میں اس وقت دو بڑے نام سرفہرست ہیں جن میں سرکل کا USDC اور ٹیتھر کا USDT شامل ہیں۔ اگرچہ ٹیتھر تاریخی طور پر مارکیٹ پر حاوی رہا ہے اور اس کا مارکیٹ شیئر تقریباً 60 فیصد تک پہنچتا ہے، لیکن سرکل کی حالیہ حکمت عملی اس توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔

سرکل کا USDC اس وقت تقریباً 72.6 ارب ڈالر کی گردش اور 25 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، تاہم سرکل بنیادی طور پر ریگولیٹڈ بینکاری، شفافیت اور کارپوریٹ ادائیگیوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔

Circle نے حال ہی میں 400 ملین ڈالر میں سنگاپور کی پیمنٹ فرم Tazapay کی خریداری کی ہے اور امریکی فیڈرل ٹرسٹ بینک سے منظوری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ملکیتی بلاک چین 'Arc' کا آغاز کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات سرکل کو ٹیتھر کے مقابلے میں ایک مضبوط اور قانونی تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ بناتے ہیں۔

سنگاپور کی تازا پے (Tazapay) کی خریداری

Circle نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والی مالیاتی ٹیکنالوجی فرم Tazapay کو 400 ملین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جو اس کی عالمی توسیع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خریداری کے نتیجے میں Circle کو 100 سے زائد عالمی مارکیٹوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی کیونکہ Tazapay کے پاس پہلے سے مختلف ممالک کے مقامی بینکاری نیٹ ورکس اور ادائیگی کے لائسنس موجود ہیں۔

ایشیا اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں میں جہاں ماضی میں USDT کی حکمرانی تھی، وہاں اب USDC کو مقامی بینکوں کے ساتھ براہ راست جوڑا جا سکے گا۔ اس سے کراس بارڈر ای کامرس کو زبردست فروغ ملے گا اور بین الاقوامی ٹریڈرز اب مقامی کرنسی وصول کر کے اسے فوری طور پر USDC میں تبدیل کر سکیں گے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سرکل اب کسی درمیانی بینک پر انحصار کرنے کے بجائے خود ایک بڑا عالمی ادائیگی کا نیٹ ورک بن رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور مائیکرو پیمنٹس

Circle کے سی ای او جیریمی الیئر نے ایک انتہائی دلچسپ نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجنٹس کا USDC استعمال کرنا ہے۔ آج کے دور میں AI صرف سوالات کے جوابات نہیں دے رہا بلکہ خودکار طریقے سے کام بھی کر رہا ہے۔ مستقبل کے بنیادی انفراسٹرکچر میں، سافٹ ویئر ایجنٹس کو ڈیٹا خریدنے، سرور کی جگہ کرائے پر لینے، یا مختلف آن لائن خدمات حاصل کرنے کے لیے پیسے ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

روایتی کریڈٹ کارڈز کے ذریعے 10 سینٹ یا 1 ڈالر جیسی مائیکرو پیمنٹس کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس کی پروسیسنگ فیس ہی رقم سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، AI ایجنٹس بلاک چین پر چند سینٹ کی خودکار ادائیگیاں (Automated Transactions) بغیر کسی انسانی مداخلت کے USDC میں سیکنڈوں کے اندر مکمل کر سکتے ہیں۔ یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف انسانوں کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اب مشینیں اور سافٹ ویئر بھی معاشی نظام کا حصہ بن رہے ہیں۔

GENIUS Act اور بینکوں کا بدلتا ہوا رویہ

ماضی میں روایتی بینکاری کے نظام نے ہمیشہ کرپٹو اور بلاک چین کمپنیوں کی مخالفت کی اور انہیں نظام سے باہر رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم، اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور امریکا میں جینیئس ایکٹ (GENIUS Act) جیسے شفاف قوانین کی منظوری اور مختلف ممالک کی طرف سے واضح ریگولیٹری فریم ورک متعارف کروانے سے بڑی کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

بینک اب خود اپنے ڈیجیٹل ڈالرز اور سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے سرکل جیسی کمپنیاں خطرہ سمجھنے کے بجائے خوش آئند قرار دیتی ہیں کیونکہ اس سے پورے معاشرے میں ڈیجیٹل کرنسی کو قبولیت ملے گی۔

مستقبل کا منظرنامہ

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ روایتی بینکاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی، بلکہ اس کا ڈھانچہ بدل جائے گا۔ آئندہ 5 سے 10 سالوں میں بینک بنیادی طور پر کسٹڈی (Custody) اور قانونی تعمیل کے لیے استعمال ہوں گے، جبکہ رقم کی منتقلی اور ادائیگیاں (Settlements) بلاک چین نیٹ ورکس پر منتقل ہو جائیں گی۔

Circle کا 40 نئے ممالک میں داخلہ اسی بڑے ہدف کی شروعات ہے۔ USDC کا 72.6 ارب ڈالر کی گردش تک پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اب کسی تجرباتی مرحلے سے نکل کر ایک مضبوط تجارتی حقیقت بن چکی ہے۔

حاصل کلام

مالیاتی مارکیٹوں کا ایک بنیادی اصول ہے: "ٹیکنالوجی ہمیشہ تحویل اور ریگولیشن سے تیز رفتار ہوتی ہے۔" سرکل کی یہ نئی توسیع صرف ایک کمپنی کی ترقی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا اعلامیہ ہے کہ ڈیجیٹل ڈالر اب دنیا کے ہر کونے میں مالیاتی آزادی اور نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پہنچ رہا ہے۔

وہ سرمایہ کار جو اس تبدیلی کو وقت پر سمجھیں گے اور اپنے مالیاتی ماڈلز کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں گے، وہی آنے والے دور میں مارکیٹ کی قیادت کریں گے۔ روایتی بینکوں اور نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان یہ مقابلہ بالآخر عام صارف کے لیے زیادہ بہتر، سستی اور تیز ترین خدمات کا باعث بنے گا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اسٹیبل کوائنز آنے والے دنوں میں بین الاقوامی ادائیگیاں کرنے کے لیے بینکوں کا مکمل متبادل بن سکیں گے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/technology/stablecoin-issuer-circle-push-into-40-new-markets-ceo-says-2026-10-16/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں