Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

BoJ کی محتاط پالیسی لیکن ین سپورٹ حاصل کرنے میں ناکام، USDJPY میں 158 کی جانب پیش قدمی

★اہم نکات

  • •Bank of Japan کی محتاط مانیٹری پالیس نے ین کی بحالی کے امکانات محدود کر دیے ہیں، جبکہ اگلی شرح سود میں اضافے کے وقت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
  • •جاپانی وزیر خزانہ Satsuki Katayama نے خبردار کیا ہے کہ حکومت ین میں غیر معمولی اور بے ترتیب گراوٹ روکنے کے لیے اوپن مارکیت میں مداخلت کر سکتی ہے۔
  • •جاپان اور امریکہ سمیت بڑی معیشتوں کے درمیان شرح سود کا نمایاں فرق ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔
  • •مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات نے امریکی ڈالر کی Safe Haven Demand کو کسی حد تک محدود کیا ہے۔
  • •امریکی معیشت کے مضبوط اعداد و شمار اور افراط زر کے دباؤ نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔
  • •تکنیکی اعتبار سے USDJPY کو 157.75 کے قریب 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج سے سہارا مل رہا ہے، جبکہ 158.34 اگلی اہم مزاحمتی سطح ہے۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

74 مشاہدات

بینک آف جاپان کی عمارت، جاپانی پرچم، ین کے سکے، جاپانی کرنسی نوٹ، ماؤنٹ فوجی اور مالیاتی کینڈل اسٹک چارٹ پر مشتمل تصویر۔
جاپانی ین، بینک آف جاپان، شرح سود اور مالیاتی منڈیوں کی صورتحال، ٹوکیو کی معیشت اور کرنسی مارکیٹ کے اہم رجحانات۔

عالمی کرنسی مارکیٹس میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر جاپانی ین ایک مرتبہ پھر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، جہاں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے حوالے سے محتاط مؤقف نے سرمایہ کاروں کی توقعات کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کو مضبوط معاشی اعداد و شمار، مستقبل میں شرح سود بڑھنے کے امکانات اور عالمی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے سہارا مل رہا ہے۔

ان عوامل کے نتیجے میں USDJPY میں گزشتہ ہفتے کی گراوٹ کے بعد بحالی دیکھی گئی اور ایشیائی سیشنز کے دوران یہ جوڑا 157.85 کی سطح تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان کی حکومت کی جانب سے ین کو مزید کمزور ہونے سے روکنے کے لیے ممکنہ مداخلت کی نئی وارننگ بھی کرنسی مارکیٹ کے رجحان کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔

جاپانی حکومت کی مداخلت کی وارننگ بھی ین کو سہارا دینے میں ناکام

جاپانی Yen کی حالیہ کمزوری کے پیچھے بنیادی وجہ بینک آف جاپان کی مانیٹری پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے حوالے سے محتاط رویے نے سرمایہ کاروں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ جاپان میں Monetary Tightening کا عمل توقعات کے مقابلے میں سست رہ سکتا ہے۔

جاپان کی وزیر خزانہ Satsuki Katayama نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان

فارن ایکسچینج سے متعلق مشترکہ بیان اب بھی نافذ العمل ہے اور حکومت ین کی غیر معمولی یا بے ترتیب کمزوری کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر حکام کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

تاہم، ان بیانات کے باوجود سرمایہ کاروں نے ین کی خریداری میں نمایاں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اس کی ایک بڑی وجہ جاپان اور دوسری بڑی معیشتوں کے درمیان شرح سود کا فرق ہے۔ جاپان میں شرح سود نسبتاً کم رہنے کے باعث سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والی کرنسیوں، خصوصاً امریکی ڈالر، کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ صورتحال کیری ٹریڈ کی سرگرمیوں کو بھی تقویت دیتی ہے، جہاں سرمایہ کار کم شرح سود والی کرنسی میں قرض لے کر زیادہ منافع دینے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی رجحان ین پر اضافی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے مذاکرات اور امریکی ڈالر پر اثرات

دوسری جانب عالمی سیاست میں سفارتی سرگرمیوں نے امریکی ڈالر کی Safe Haven حیثیت کو کسی حد تک متاثر کیا ہے۔ ایران کے مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ساتھ مسلسل تیسرے روز بات چیت کی، جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، تاہم اس پیشکش کو امریکہ کی جانب سے بعض شرائط پوری کرنے سے مشروط کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔

اس کے باوجود انہوں نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ دوسری طرف ایرانی سپریم کمانڈر مجتبی خامنائی نے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ نئے تصادم کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔

اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مزید برآں، روسی آئل ریفائنریز پر یوکرین کے تازہ حملوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرات کو برقرار رکھا ہے۔

چونکہ عالمی تنازعات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے سرمایہ کاروں کی Risk Appetite متاثر ہوتی ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر اور جاپانی ین دونوں کی سمت کا انحصار سفارتی پیش رفت اور عالمی مارکیٹ کے ردعمل پر رہے گا۔

فیڈرل ریزرو کے اشارے

امریکی ڈالر کی حالیہ مضبوطی کا ایک اہم محرک امریکہ کے معاشی اعداد و شمار بھی ہیں۔ گزشتہ جمعرات جاری ہونے والے اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ امریکی معیشت توقعات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے، جبکہ افراط زر کا دباؤ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

خصوصاً عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی بلند قیمتوں نے مستقبل میں افراط زر کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔ اس صورتحال میں Federal Reserve کے لیے Monetary Policy میں نرمی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ CME Group کے FedWatch Tool کے مطابق، سرمایہ کار دسمبر میں امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے تقریباً 75 فیصد امکان کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔

شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقع امریکی ڈالر کے لیے مثبت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ زیادہ شرح سود امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کو نسبتاً پرکشش بنا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ USDJPY میں مزید اضافے کے امکانات برقرار ہیں، بشرطیکہ امریکی معاشی اعداد و شمار مضبوط رہیں اور جاپان کی مانیٹری پالیس میں نمایاں تبدیلی نہ آئے۔

USDJPY کا تیکنیکی جائزہ

تکنیکی اعتبار سے USDJPY کا مختصر مدتی رجحان قدرے Bullish دکھائی دے رہا ہے۔ جمعے کے روز بینک آف جاپان سے متعلق فیصلے کے بعد 157.00 سے نیچے آنے والی گراوٹ کے بعد کرنسی جوڑے نے بحالی کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں قیمت دوبارہ 157.85 کے قریب پہنچ گئی۔

چارٹ پر 23.6% Fibonacci Retracement کی سطح 157.80 کے قریب موجود ہے، جہاں قیمت کو فوری تکنیکی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ تاہم، جوڑا 100 روزہ سمپل موونگ ایوریج کی 157.75 سطح سے اوپر برقرار ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ قیمت میں کمی کے دوران خریدار دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔

اگر خریدار 157.80 کی سطح سے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو اگلا اہم ہدف 158.34 ہو سکتا ہے۔ یہ حالیہ مارکیٹ سائیکل کی اہم بلند سطح ہے اور اس کے اوپر واضح بریک آؤٹ سے وسیع تر Bullish رجحان کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

دوسری جانب، اگر فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے تو 157.80 کے قریب پہلی سپورٹ اہم ہوگی۔ اس سطح کے نیچے 38.2% Fibonacci Retracement تقریباً 157.47 پر موجود ہے، جبکہ 50% Retracement کی سطح 157.21 اگلا اہم دفاعی پوائنٹ بن سکتی ہے۔

اگر قیمت 157.21 سے بھی نیچے آتی ہے تو مختصر مدتی Bullish Structure کمزور پڑ سکتا ہے اور مارکیٹ میں مزید کریکشن کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، 158.34 سے اوپر مضبوط پیش رفت خریداروں کو دوبارہ واضح برتری دے سکتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

مجموعی طور پر جاپانی ین کی کمزوری صرف جاپان کی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات سے متعلق نہیں بلکہ اس کے پیچھے دونوں مرکزی بینکوں کی مانیٹری پالیس کا فرق بھی بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ بینک آف جاپان کی محتاط پالیسی ین کی بحالی کو محدود کر رہی ہے، جبکہ Federal Reserve کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے امکانات امریکی ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی معاشی اعداد و شمار، خام تیل کی قیمتوں، مشرق وسطیٰ کے سفارتی مذاکرات اور جاپانی حکام کے ممکنہ اقدامات پر رہے گی۔ اگر امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات برقرار رہتی ہیں تو USDJPY میں 158.34 کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔ تاہم، جاپان کی جانب سے عملی مداخلت یا بینک آف جاپان کے سخت مانیٹری پالیس اشارے اس رجحان کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

اس لیے 157.75 اور 157.80 کی سطحیں مختصر مدت میں اہم رہیں گی، جبکہ 158.34 کا بریک آؤٹ کرنسی جوڑے کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

آپ کا اس مارکیٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینک آف جاپان 158.50 کے لیول سے پہلے مارکیٹ میں براہ راست مداخلت کرے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: Global Market Headlines | Breaking Stock Market News | Reuters

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں