پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
"news commodities" کے لیے 268 نتائج۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
Novartis کے del-desiran مطالعے کے منفی نتائج کے بعد امریکی تجارت میں Dyne تقریباً 18 فیصد، Sarepta 9 فیصد سے زیادہ اور PepGen 5 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ Dyne کے ACHIEVE پروگرام میں بھی ہاتھ کھولنے کا وقت، یعنی vHOT، بنیادی پیمانہ ہے؛ اسی مماثلت نے اس کے آئندہ نتائج کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ ACHIEVE کے رجسٹریشن توسیعی گروپ میں 71 شرکا شامل ہیں اور اہم نتائج 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہیں؛ اس ماہ پیش ہونے والے اعداد الگ گروپ سے متعلق ہیں۔ Sarepta اور PepGen کے علاج مختلف طریقوں اور مراحل میں زیرِ تحقیق ہیں؛ Novartis کا نتیجہ ان کی افادیت یا حفاظت پر براہِ راست فیصلہ نہیں دیتا۔ تازہ فروخت DM1 علاج کے شعبے میں خطرے کے نئے جائزے کی عکاسی کرتی ہے۔ vHOT ناقابلِ استعمال ثابت نہیں ہوا، جبکہ مثبت ابتدائی اعداد یا خوراک بڑھانے کی سفارش بھی منظوری کی ضمانت نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum نے اپنی اہم سپورٹ سطحوں کو برقرار رکھا ہے، لیکن ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اوپن انٹرسٹ اور فنڈنگ ریٹس میں کمی نے بیئرش دباؤ میں اضافے کا اشارہ دیا ہے۔ عالمی میکرو عوامل بھی کرپٹو مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے بندش دی ہے، جو پچھلی کمزور استحکام کی تھیسس کو غلط ثابت کرتا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مزید نیچے کی جانب رجحان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں