پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
"nzdusd price prediction rbnz monetary policy analysis" کے لیے 617 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
فاریکس مارکیٹ میں سپورٹ اور ریزسٹنس کی شناخت اور ٹریڈنگ کا مکمل طریقہ سیکھیں۔ یہ عملی گائیڈ ابتدائی اور درمیانی سطح کے ٹریڈرز کے لیے چارٹ پیٹرنز اور لیولز کے استعمال کو آسان بناتی ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
یہ مضمون پرو ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے بہتر ہیں، اہم نیوز ایونٹس کا ٹریڈنگ پلان، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی قدم بہ قدم مثالیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تعطل اور استحکام کا رجحان جاری ہے۔ اوپیک پلس کی جانب سے سپلائی پر سخت کنٹرول اور پالیسی اقدامات کی بدولت برینٹ 96.42 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
1.3252GBP/USD کے قریب trade کر رہا ہے۔ پاؤنڈ حالیہ کمزوری کے بعد recovery کی کوشش کر رہا ہے۔ UK کی معاشی growth بہتر رہی۔ اس سے پاؤنڈ کو کچھ support ملا۔ مضبوط امریکی ڈالر اب بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی معاشی data اہم رہے گا۔ 1.3250 سے 1.3255 اہم support ہے۔ 1.3300 پہلا اہم resistance ہے۔ 1.3345 اگلا resistance ہے۔ 1.3250 کے نیچے 1.3190 اہم support بن سکتا ہے۔ مزید کمی کی صورت میں 1.3150 دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) نے 1.3200-1.3250 کے کلیدی حمایتی زون کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ برطانیہ میں 3.10 فیصد کی سی پی آئی افراط زر اور بینک آف انگلینڈ کے سخت موقف کے باعث کیبل میں پیش قدمی کا امکان بڑھ رہا ہے۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں