گولڈ مارکیٹ میں اس وقت ایک اہم موڑ آ چکا ہے جہاں سرمایہ کار عالمی سطح پر بدلتی ہوئی معاشی صورتحال اور بانڈز کی منڈی میں اتھل پتھل کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔Gold Price آج $4,200 کی نفسیاتی اور تکنیکی حد سے نیچے پھنسی ہوئی ہے۔
"technical analysis commodities" کے لیے 435 نتائج۔
گولڈ مارکیٹ میں اس وقت ایک اہم موڑ آ چکا ہے جہاں سرمایہ کار عالمی سطح پر بدلتی ہوئی معاشی صورتحال اور بانڈز کی منڈی میں اتھل پتھل کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔Gold Price آج $4,200 کی نفسیاتی اور تکنیکی حد سے نیچے پھنسی ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
EUR/USD اس وقت تقریباً 1.1208 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ حالیہ price action میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو پر واضح دباؤ نظر آ رہا ہے۔ قیمت مسلسل lower highs اور lower lows بنا رہی ہے، جس سے مجموعی رجحان bearish دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ شدید گراوٹ کے بعد قیمت نے 1.1160–1.1180 کے علاقے سے معمولی recovery دکھائی ہے، لیکن جب تک اہم resistance levels دوبارہ حاصل نہیں ہوتے، موجودہ recovery کو مکمل bullish reversal تصور کرنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی 10 سالہ ییلڈز کے 5.277% پر قائم رہنے اور بینک آف جاپان کی نرم پالیسی کے باعث USD/JPY 157.730 کے قریب مضبوطی سے قائم ہے۔ جانئے بنیادی محرکات اور تکنیکی حدیں۔
GBP/USD اس وقت تقریباً 1.3229 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور مجموعی تکنیکی ساخت اب بھی محتاط اور قدرے bearish دکھائی دے رہی ہے۔ بڑے رجحان میں قیمت مسلسل lower highs اور lower lows بنا رہی ہے، جبکہ حالیہ گراوٹ کے بعد مختصر مدت میں معمولی recovery نظر آ رہی ہے۔
برطانوی پاؤنڈ (British Pound) کے لیے حالیہ کاروباری سیشنز کافی دباؤ کا شکار رہے ہیں، جہاں GBPUSD نمایاں کمی کے ساتھ 1.3200 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ امریکی ڈالر (US Dollar) کی مضبوطی اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے مالیاتی خدشات نے مارکیٹ کے منظر نامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.83 روپے کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور مثبت حقیقی شرح سود کے باعث روپیہ محدود رینج میں مستحکم ہے۔ پڑھیں مکمل فاریکس تجزیہ۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں