مارکیٹ کے بنیادی محرکات اب بھی مضبوط ہیں۔ ماضی میں Silver کو $13 یا $15 فی اونس کی دھات سمجھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
"positive rally continues in psx after rescheduling of chinese loans and sbp dollar policy" کے لیے 581 نتائج۔
مارکیٹ کے بنیادی محرکات اب بھی مضبوط ہیں۔ ماضی میں Silver کو $13 یا $15 فی اونس کی دھات سمجھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی سے ڈالر اور تیل کی قیمتوں میں تیزی، جبکہ گولڈ اور بڑے کرنسی پیئرز میں اتار چڑھاؤ برقرار۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج (Pakistan Stock Exchange) میں درج معروف ٹیکنالوجی کمپنی Avanceon Limited نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 6.3 ملین ڈالر کے نئے آرڈرز حاصل کیے ہیں۔
NZDUSD کمزور چینی معاشی ڈیٹا اور Retail Sales میں سست نمو کے باعث 0.5900 سے نیچے تقریباً 0.5895 تک آ گیا۔ چین میں جولائی کی Industrial Production اور Retail Sales کی شرحیں مارکیٹ کی توقعات سے کم رہیں، جس سے نیوزی لینڈ ڈالر متاثر ہوا۔
کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار کے باعث 2026 میں فیڈ کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کم ہوگئیں، جس سے ڈالر دباؤ میں ہے جبکہ سونا، یورو اور پاؤنڈ مضبوط ہیں۔
EUR/USD نئے ہفتے میں 1.1500 سے اوپر تیزی کے رجحان کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جبکہ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ FOMC Minutes اور یورو زون کے معاشی اعداد و شمار پیئر کی اگلی بڑی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
عالمی سیاسی منظر نامہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں نیویارک میں یو این جنرل اسمبلی (UN General Assembly) کا اجلاس جاری ہے۔ امریکی صدر Donald Trump اسوقت اس سے خطاب کر رہے ہین۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے پلیٹ فارم سے اس بات کا باضابطہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان بہت جلد ایک باضابطہ اور منظم Pakistan Regulated Virtual Assets Framework نافذ کرنے جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس آج معمولی 0.10% کی کمی کے ساتھ 171,402 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 170,000 اور 172,000 کے درمیان استحکام کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، کمزور مارکیٹ breadth اور ٹرن اوور میں کمی کے باعث انڈیکس پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ سطح خطرے میں ہے۔
امریکہ، ڈنمارک اور Greenland کے درمیان طے پانے والا یہ نیا معاہدہ نہ صرف عسکری اور دفاعی نوعیت کا حامل ہے بلکہ اس کے عالمی تجارت اور کماڈٹی مارکیٹس پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں