پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
"delay in imf agreement decline in psx" کے لیے 1111 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پی ایل ایل نے واضح کیا ہے کہ اگر ۶.۷۵ ارب روپے کے بقایا جات جلد ادا نہ کیے گئے، تو ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) کی سپلائی کو کم یا معطل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی دیکھی، جو 0.42% کی گراوٹ کے ساتھ 277.36 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ کمی درآمدی دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی کے جاری رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اہم مزاحمتی سطحوں پر دباؤ برقرار ہے۔
Gold نے $4,300 سے نیچے جانے کے بعد مضبوط recovery دکھائی اور اب $4,400 سے اوپر trade کر رہا ہے۔ $4,500 سے $4,530 اہم resistance area ہے، جبکہ $4,450 اور $4,400 اہم support levels ہیں۔ US NFP report، US Dollar اور Treasury Yields Gold کی اگلی movement کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔ $4,500 کے اوپر breakout کی صورت میں Gold $4,550 اور $4,600 کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ $4,400 سے نیچے جانے پر $4,300 اور $4,280 دوبارہ focus میں آ سکتے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
پاکستان کی بڑی سماجی و فلاحی تنظیموں میں سے ایک، Fauji Foundation نے عسکری جنرل انشورنس میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے 51% شیئرز اور کنٹرول حاصل کر لیا ہے
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.82 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں