پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے آخری دن کے ابتدائی سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ PSX اور عالمی سطح پر جاری اقتصادی تبدیلیاں ہیں
"swiss gdp report released which caused decline in usdchf" کے لیے 527 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے آخری دن کے ابتدائی سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ PSX اور عالمی سطح پر جاری اقتصادی تبدیلیاں ہیں
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (Standard Chartered) نے دبئی انٹرنیشنل فنانس سینٹر (DIFC) میں اپنے برانچ کے ذریعے ادارہ جاتی سطح پر بٹ کوائن اور ایتھریم کی اسپاٹ ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی دیکھی، جو 0.42% کی گراوٹ کے ساتھ 277.36 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ کمی درآمدی دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی کے جاری رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اہم مزاحمتی سطحوں پر دباؤ برقرار ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
USD/JPY پر فروخت کا دباؤ برقرار ہے کیونکہ Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Bank of Japan کی Rate Hike توقعات ین کو Support دے رہی ہیں، جبکہ US Dollar کو Federal Reserve کی Policy Expectations سے دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹیکنیکل طور پر 155.00 اہم Support ہے۔ اس کے نیچے Break ہونے پر 154.00 اور 152.00 کی طرف کمی کا امکان ہے۔ اوپر کی جانب 156.00، 157.00 اور 158.00 اہم Resistance Levels ہیں۔ US Jobs Data اور مرکزی بینکوں کی Pair Policyکی اگلی Movement کے لیے اہم رہیں گی۔
بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے آج وسطی اور اختتامی سیشن کے دوران ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ (Volatility) کا مظاہرہ کیا
حالیہ عرصے میں امریکی U.S. Treasury Yields میں آنے والے اضافے کے پیچھے ایک اور گہرا اور نسبتاً پوشیدہ معاشی عنصر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جسے R Star کہا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں Ethereum کی سمت کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایتھریم کو کچھ فروخت کے دباؤ اور امریکی مارکیٹ کے کمزور ہوتے ہوئے رجحانات کا سامنا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 177,000 کی اہم سطح سے نیچے بریک ڈاؤن کے بعد ایک رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن میں داخل ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کم ہوا ہے اور خریداروں کی محتاط واپسی ہوئی ہے، جس سے استحکام کی ابتدائی علامات نظر آ رہی ہیں، حالانکہ وسیع البنیاد بحالی کا ابھی بھی فقدان ہے۔
معاشی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب European Stock Markets اور بانڈز میں ایک شاندار تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب جمعہ کو آنے والے اہم US Nonfarm Payroll اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات پر مرکوز ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں