امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
"eurusd declined as eurozone money supply raised" کے لیے 784 نتائج۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
سونے کی عالمی قیمت $4,164.90 پر ٹریڈ ہو رہی ہے جبکہ امریکی ڈالر (DXY) 101.13 پر مضبوط ہے۔ یہ ترکیب بئریش موومنٹ کو مزید تقویت دیتی ہے۔
Bitcoin کی قیمت تقریباً 83,200 ڈالر اور Ethereum تقریباً 2,648 ڈالر کے قریب آگئی؛ تازہ دستیاب نرخوں میں دونوں اتوار کے مقابلے میں مزید کمزور رہے۔ BTC گزشتہ ہفتے کی تقریباً 87,300 ڈالر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ اب 82,900 سے 83,000 ڈالر کا علاقہ نگرانی میں ہے، جبکہ 85,000 کی واپسی بحالی کو تقویت دے گی۔ ETH دوبارہ 2,700 ڈالر سے نیچے آگیا ہے۔ 2,600 ڈالر کے قریب خریداروں کا ردعمل اہم ہوگا، جبکہ 2,750 سے 2,800 کا علاقہ بحالی کی اگلی آزمائش رہے گا۔ ایران کے بارے میں غیر یقینی، مہنگا تیل اور بلند امریکی بانڈ منافع کے ساتھ Nasdaq futures اور ایشیائی حصص بھی کمزور رہے؛ تاہم ہر کرپٹو حرکت کو ایک خبر سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ پیر کی کمی نے حالیہ تیزی کا تسلسل کمزور کیا ہے، مگر بڑی بحالی ختم ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے۔ امریکی مہنگائی اور روزگار کے اعداد، بانڈ منافع اور اگلے سیشن کی خریداری اہم ہوں گے۔
سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
یہ مضمون پرو‑ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے سیٹ‑اپ کے لیے موزوں ہیں، اہم نیوز ایونٹس پر ٹریڈنگ پلان کیسے بنائیں، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی نکات۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں