عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
"usd steady as ecb hawkish tone counters us iran uncertainty" کے لیے 1079 نتائج۔
عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں US ISM Services PMI توقعات سے کم ہو کر 54.9 پر آ گیا ہے، جو کہ پچھلے مہینے (اگست) میں 55.4 تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
USD/PKR 276.98 پر 0.31% کمی، DXY 101.81 پر اضافہ اور مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات نے عالمی کرنسیوں میں واضح فرق پیدا کیا۔ اس تجزیے میں سگنلز، مارکیٹ ردعمل اور آئندہ خطرات کی جانچ کی گئی ہے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ مضمون پرو‑ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے سیٹ‑اپ کے لیے موزوں ہیں، اہم نیوز ایونٹس پر ٹریڈنگ پلان کیسے بنائیں، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی نکات۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں