امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
"uk cpi data released which caused declined in british pound" کے لیے 1143 نتائج۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
EUR/USD اس وقت تقریباً 1.1208 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ حالیہ price action میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو پر واضح دباؤ نظر آ رہا ہے۔ قیمت مسلسل lower highs اور lower lows بنا رہی ہے، جس سے مجموعی رجحان bearish دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ شدید گراوٹ کے بعد قیمت نے 1.1160–1.1180 کے علاقے سے معمولی recovery دکھائی ہے، لیکن جب تک اہم resistance levels دوبارہ حاصل نہیں ہوتے، موجودہ recovery کو مکمل bullish reversal تصور کرنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی 10 سالہ ییلڈز کے 5.277% پر قائم رہنے اور بینک آف جاپان کی نرم پالیسی کے باعث USD/JPY 157.730 کے قریب مضبوطی سے قائم ہے۔ جانئے بنیادی محرکات اور تکنیکی حدیں۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی قیمت 1.12500 کے قریب استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) کے 102.37 پر پہنچنے کے باوجود EUR/USD میں +0.22% کا مثبت تحرک دیکھا جا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں متوازن خریدو فروخت کی عکاسی ہوتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
EUR/USD کی قیمت 1.12513 پر محدود رہتے ہوئے 0.34 فیصد گراوٹ کا شکار ہے، جہاں امریکی 10 سالہ ییلڈ میں اضافے نے ڈالر کے پلے کو مضبوط رکھا ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی ڈالر انڈیکس 101.92 کی سطح پر منجمد ہے، جب کہ بینک آف انگلینڈ کے اشاروں نے GBP/USD کو 1.32204 تک اٹھایا اور پاکستانی روپیہ 276.83 پر مستحکم ہوا۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں