امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
"اقتصادی کیلنڈر پر نشانات اور اشاروں کو" کے لیے 1172 نتائج۔
امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
الفابیٹ کے ذیلی ادارے گوگل نے فن لینڈ میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کے لیے کم از کم 13 ارب یورو یعنی تقریباً 15.1 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں US Military Bases پر ایران کے میزائل حملوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سینٹکام نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں